نیپال میں صحافیوں، سوشل میڈیا انفلوئنسرز اور کانٹینٹ کریئٹرس کو قانونی دائرے میں لانے کی کوشش
کاٹھمنڈو، 5 نومبر (ہ س)۔ نیپال حکومت نے صحافت اور سوشل میڈیا کو ضابطے میں لانے کے لیے نیپالی پریس کونسل کو تحقیقات، کارروائی اور عوامی طور پر معافی منگوانے کا اختیار دینے کی غرض سے قانون میں ترمیم سے متعلق ایک آرڈیننس منظوری کے لیے صدر کے پاس بھیجا
NEPAL-PRESS-COUNCIL-ORDINANCE


کاٹھمنڈو، 5 نومبر (ہ س)۔ نیپال حکومت نے صحافت اور سوشل میڈیا کو ضابطے میں لانے کے لیے نیپالی پریس کونسل کو تحقیقات، کارروائی اور عوامی طور پر معافی منگوانے کا اختیار دینے کی غرض سے قانون میں ترمیم سے متعلق ایک آرڈیننس منظوری کے لیے صدر کے پاس بھیجا ہے۔

آرڈیننس میں صحافیوں اور میڈیا اداروں سے لے کر کانٹینٹ کریئٹرس اور انفلوئنسرز تک کو ضابطہ اخلاق کے دائرے میں لانے کے ساتھ ہی بار بار خلاف ورزی کرنے والوں کو سرکاری سہولیات روکنے کی سفارش کرنے اور خلاف ورزی کرنے والوں کی فہرست عام کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ صدر رام چندر پوڈیل کی توثیق کے بعد یہ آرڈیننس نافذ العمل ہوگا۔

نیپال صحافی فیڈریشن نے پارلیمانی عمل کو نظرانداز کرکے حکومت کی جانب سے پریس پر کنٹرول بڑھانے کی کوشش کا الزام لگاتے ہوئے صدر رام چندر پوڈیل سے اپیل کی ہے کہ وہ اس آرڈیننس کی توثیق نہ کریں۔

آرڈیننس میں آن لائن، سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل ذرائع سے صحافت کرنے والے افراد اور میڈیا اداروں کو بھی صحافتی ضابطہ اخلاق کے دائرے میں لانے کی تجویز ہے۔ حکومت کی جانب سے جاری آرڈیننس میں کہا گیا ہے کہ کوئی شخص خود کو مواصلاتی کارکن، کانٹینٹ کریئٹر، پریزنٹر، انفلوئنسر یا کسی بھی دوسرے نام سے متعارف کرائے، لیکن اگر وہ صحافت کا کام کرتا ہے تو اس پر صحافتی ضابطہ اخلاق لاگو ہوگا۔

مجوزہ ترمیم کے مطابق قانون کے تحت ضابطہ اخلاق، شکایات کی سماعت اور کارروائی سے متعلق دفعات آن لائن، سوشل میڈیا، موبائل ایپلی کیشنز اور موجودہ یا مستقبل میں تیار ہونے والے دیگر ڈیجیٹل اور الیکٹرانک ذرائع سے صحافت کرنے والے افراد اور میڈیا اداروں پر بھی نافذ ہوں گی۔

غیر ملکی میڈیا اداروں یا خبر رساں ایجنسیوں کے لیے نیپال میں صحافت کرنے والے نیپالی اور غیر ملکی صحافیوں کے ساتھ ہی نیپال میں آزادانہ طور پر صحافت کرنے والے غیر ملکی صحافیوں پر بھی نیپالی قانون کے مطابق صحافتی ضابطہ اخلاق نافذ کرنے کی تجویز ہے۔ تاہم مجوزہ نظام میں ذاتی اظہار خیال کو ضابطہ اخلاق کے دائرے سے باہر رکھا گیا ہے۔

کسی شخص کی جانب سے اپنے ذاتی سوشل میڈیا اکاؤنٹ کے ذریعے ظاہر کیے گئے ذاتی خیالات، نظریات، تجربات یا ردعمل اور حالات حاضرہ سے متعلق ذاتی تبصرے، تجزیے یا تنقید کو صحافت کا کام نہیں مانا جائے گا۔ اس طرح کے مواد پر صحافتی ضابطہ اخلاق لاگو نہیں ہوگا۔ اسی طرح طنز و مزاح، فن، ادب اور تفریح سے متعلق مواد کو بھی ضابطہ اخلاق کے دائرے سے باہر رکھنے کی تجویز ہے۔

حکومت کے مجوزہ نظام سے ظاہر ہوتا ہے کہ صحافت کی تعریف کو ڈیجیٹل ذرائع تک وسعت دیتے ہوئے مواد تیار کرنے اور اسے نشر یا شائع کرنے والے افراد کو بھی ضابطے کے دائرے میں لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

آرڈیننس میں میڈیا اداروں کے ادارتی کنٹرول والے سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے شائع یا نشر ہونے والے مواد کی ذمہ داری متعلقہ میڈیا ادارے پر عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔مجوزہ قانونی نظام کے مطابق میڈیا ادارے کے ادارتی کنٹرول والے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے شائع یا نشر ہونے والی خبروں، سرخیوں، تصاویر، ویڈیوز، تھمب نیلز، کیپشنز اور براہ راست نشریات کی ادارتی ذمہ داری متعلقہ میڈیا ادارے کی ہوگی۔

خبر رساں ایجنسی یا نیوز کمیٹی کی جانب سے تیار کرکے بھیجے گئے مواد کے معاملے میں ایجنسی یا کمیٹی اور اس مواد کو شائع یا نشر کرنے والے میڈیا ادارے کو اپنی اپنی ادارتی ذمہ داری کی حدود میں صحافتی ضابطہ اخلاق کی پابندی کرنی ہوگی۔

مجوزہ ضابطے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر کسی ملکی یا غیر ملکی خبر رساں ایجنسی یا کمیٹی کی جانب سے فراہم کردہ مواد میں حقائق کی غلطی یا گمراہ کن انداز میں پیش کیے جانے کی تصدیق ہوتی ہے تو متعلقہ ایجنسی یا کمیٹی کو مواد کی اصلاح کرکے اس کی اطلاع فوری طور پر ان میڈیا اداروں کو دینی ہوگی، جنہیں یہ مواد فراہم کیا گیا تھا۔

اگر خبر رساں ایجنسی یا کمیٹی سے موصول ہونے والا حقائق کے اعتبار سے غلط یا گمراہ کن مواد میڈیا ادارہ پہلے ہی شائع یا نشر کر چکا ہے تو اسے ضروری اصلاح شائع یا نشر کرنی ہوگی اور اس کی اطلاع بھی دینی ہوگی۔

ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرنے والوں کے نام عام کرنے اور سرکاری سہولیات روکنے کی تجویز

مجوزہ آرڈیننس میں شکایات اور کارروائی سے متعلق نظام میں بھی ترمیم کی کوشش کی گئی ہے۔ اس کے تحت صحافتی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرنے والے صحافیوں اور میڈیا اداروں کے نام عام کرنے کے ساتھ انہیں ملنے والی سرکاری رعایتیں اور سہولیات روکنے کی سفارش کرنے کی تجویز ہے۔

اگر کوئی صحافی، ایڈیٹر، میڈیا ادارہ یا اس کا ادارتی ذمہ دار عہدیدار ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرتا ہے تو کوئی بھی شخص پریس کونسل میں شکایت درج کرا سکے گا۔ شکایت موصول ہونے یا خود معلومات حاصل ہونے کے بعد کونسل ضروری تحقیقات کر سکتی ہے۔ اگر ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ثابت ہوتی ہے تو کونسل مختلف نوعیت کی کارروائی کر سکے گی۔

کونسل متعلقہ میڈیا ادارے کو متاثرہ فریق کا موقف شائع یا نشر کرنے، معافی منگوانے اور متاثرہ فریق کا تبصرہ، مضمون یا دیگر مواد شائع کرنے کی ہدایت دے سکے گی۔اس کے علاوہ شائع یا نشر ہونے والے مواد میں موجود غلط حقائق یا گمراہ کن پیشکش کی تصحیح کرنے اورتصحیح شائع یا نشر کرنے کی بھی تجویز ہے۔

مجوزہ قانونی نظام کے مطابق بار بار ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرنے والے صحافیوں یا میڈیا اداروں کو ملنے والی سرکاری رعایتیں یا سہولیات ایک مقررہ مدت کے لیے جزوی یا مکمل طور پر روکنے کی سفارش نیپال حکومت سے کی جا سکے گی۔ ایسے صحافیوں یا میڈیا اداروں کو خلاف ورزی کرنے والوں کی فہرست میں شامل کرکے ان کے نام عام بھی کیے جا سکیں گے۔

کونسل کو خلاف ورزی کی نوعیت، اس کی سنگینی، اصل مواد کی پیشکش اور اس کے اثرات کی بنیاد پر تصحیح، معافی یا دیگر مواد شائع یا نشر کرنے کی جگہ، طریقہ، حجم اور مدت کا تعین کرنے کا اختیار دینے کی تجویز بھی شامل ہے۔

مجوزہ آرڈیننس میں پریس کونسل کے فیصلے پر عمل نہ کرنے والے صحافی، ایڈیٹر، میڈیا ادارے یا ادارتی ذمہ دار عہدیدار سے عوامی طور پر افسوس کا اظہار کرانے اور اسے شائع یا نشر کرنے کی بھی تجویز ہے۔ تاہم ایسا فیصلہ کرنے سے پہلے متعلقہ صحافی، ایڈیٹر، میڈیا ادارے یا عہدیدار کو شکایت یا الزام کے بارے میں اطلاع دینی ہوگی۔ اس کے ساتھ ہی انہیں اپنا موقف اور ثبوت پیش کرنے کا مناسب موقع بھی فراہم کرنا ہوگا۔

مجوزہ آرڈیننس میں پریس کونسل کو ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی سے متعلق شکایات کی مختصر تفصیلات، کارروائی کی صورت حال، متعلقہ فریق کے جواب کا خلاصہ، فیصلے، فیصلے کی بنیاد اور اس پر عمل درآمد کی صورت حال سے متعلق معلومات اپنی ویب سائٹ یا دیگر مناسب ذرائع سے عام کرنے کا اختیار دینے کی تجویز بھی شامل ہے۔ تاہم موجودہ قانون کے تحت خفیہ رکھی جانے والی معلومات عام نہیں کی جا سکیں گی۔

نیپال صحافی فیڈریشن نے مجوزہ آرڈیننس کی دفعات پر اعتراض ظاہر کرتے ہوئے صدر سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس کی توثیق نہ کریں۔ فیڈریشن کا کہنا ہے کہ مجوزہ قانونی نظام پریس اور اظہار رائے کی آزادی پر قدغن لگائے گا۔ فیڈریشن کی جانب سے جاری بیان میں متعلقہ فریقوں سے معمول کی مشاورت تک نہ کیے جانے پر بھی عدم اطمینان کا اظہار کیا گیا ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستھان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande