فنڈز کی کمی سے تلنگانہ کے سرکاری اسکولوں میں مڈ ڈے میل اسکیم متاثر
حیدرآباد ،5 نومبر(ہ س)۔ ریاست کے سرکاری اسکولوں میں مڈ ڈے میل اسکیم کے تحت طلبہ کو فراہم کیے جانے والے خوردنی اشیا کا معیاراورمقدار مبینہ طورپرفنڈزکی کمی کے باعث متاثرہورہی ہے۔ والدین نے شکایت کی ہے کہ بجٹ کی ناکافی فراہمی کے سبب بچوں کومقررہ مینو
فنڈز کی کمی سے تلنگانہ کے سرکاری اسکولوں میں مڈ ڈے میل اسکیم متاثر


حیدرآباد ،5 نومبر(ہ س)۔ ریاست کے سرکاری اسکولوں میں مڈ ڈے میل اسکیم کے تحت طلبہ کو فراہم کیے جانے والے خوردنی اشیا کا معیاراورمقدار مبینہ طورپرفنڈزکی کمی کے باعث متاثرہورہی ہے۔ والدین نے شکایت کی ہے کہ بجٹ کی ناکافی فراہمی کے سبب بچوں کومقررہ مینوکے مطابق کھانا نہیں دیاجارہا ہے۔ والدین کے مطابق ریاست کے تقریباً 25 ہزار سرکاری اسکولوں میں دو سبزیوں کے پکوان فراہم کرنے کے بجائے صرف ایک سبزی دی جارہی ہے۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ ہفتے میں تین مرتبہ دیےجانے والے انڈے بھی بعض اسکولوں میں صرف ایک مرتبہ فراہم کیے جارہے ہیں۔

دوسری جانب،کھانا تیارکرنے والے عملے کاکہناہے کہ بازارمیں ایک انڈے کی قیمت7سے 8روپے ہے، جبکہ حکومت کی جانب سے صرف 6 روپے فراہم کیے جارہے ہیں۔ ان کاکہناہے کہ مقررہ شیڈول کے مطابق ہفتے میں تین مرتبہ انڈے فراہم کرنے سے انہیں مالی نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔

والدین نے تشویش ظاہر کی ہے کہ فنڈز کی کمی سے بچوں کو ملنے والی غذائی سہولتیں متاثرہورہی ہیں، خصوصاًان طلبہ کومشکلات کا سامناہے جوغذائیت کے لیے اسکول کے کھانے پرانحصار کرتے ہیں۔

انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ مڈ ڈے میل اسکیم کے لیے مختص رقم میں اضافہ کیا جائے اورمقررہ مینوکے مطابق طلبہ کو معیاری اور غذائیت سے بھرپورکھانا فراہم کرنے کے اقدامات کیے جائیں۔

اس مسئلہ نے اسکیم پر عمل آوری اور نگرانی کے نظام پر بھی سوالات کھڑے کردیے ہیں۔ والدین نے متعلقہ حکام سے فوری مداخلت کرتے ہوئے طلبہ کو ان کے مقررہ غذائی حقوق فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔

۔ ہندوستھان سماچار

ہندوستھان سماچار / محمدعبدالخالق


 rajesh pande