
وزیر داخلہ نے امبالہ میں جنگِ آزادی کی پہلی لڑائی کے شہدا کی یادگار کا افتتاح کیا
چنڈی گڑھ، 5 نومبر (ہ س )۔
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے ہریانہ کے وزیر اعلیٰ نائب سنگھ سینی کے کام کے طریقے کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ اگرچہ آہستہ بولتے ہیں، لیکن کام کرنے میں بہت تیز ہیں۔ انہوں نے ہریانہ کے عوام کو یقین دلایا کہ 2029 میں جب بی جے پی ووٹ مانگنے عوام کے درمیان جائے گی تو اپنے انتخابی منشور میں کیے گئے تمام وعدے اور ضمانتیں پوری کرکے جائے گی۔
امت شاہ جمعرات کو امبالہ میں جنگِ آزادی کی پہلی لڑائی (1857) کے شہدا کی یادگار کے افتتاحی پروگرام سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ 10 مئی 1857 کو مجاہدینِ آزادی نے انگریزوں کی حکومت کے خلاف انقلاب کا بگل بجایا تھا۔ اس کی ابتدا دیکھتے ہی دیکھتے پورے ملک میں آگ کی طرح پھیل گئی تھی۔ پوری دنیا یہ دیکھ کر حیران رہ گئی تھی کہ جس برطانوی حکومت کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ اس کی سلطنت میں سورج کبھی غروب نہیں ہوتا، اسی کی بنیادیں ہلا دینے والی 1857 کی جنگِ آزادی کا آغاز انبالہ کی سرزمین سے ہوا تھا۔ انہوں نے اس سرزمین کو بار بار سلام پیش کیا۔
امت شاہ نے کہا کہ انگریزوں سے متاثر اور بائیں بازو کی سوچ رکھنے والے مورخین نے 1857 کی جنگِ آزادی کو بغاوت کا نام دیا، لیکن بغاوت کا لفظ انگریزوں کے لیے ہے۔ ویر ساورکر نے درست کہا تھا کہ بھارت ماتا کی اولاد کے لیے یہ بغاوت نہیں بلکہ جنگِ آزادی تھی۔
انہوں نے کہا کہ 1857 سے 1947 تک 90 برس جاری رہنے والی اس عظیم جدوجہد میں بے شمار مجاہدین نے اپنا سب کچھ قربان کیا، تب جاکر ملک کو آزادی حاصل ہوئی۔
مرکزی وزیر داخلہ نے اس یادگار کی تعمیر کے لیے ہریانہ کے سابق وزیر اعلیٰ منوہر لال، موجودہ وزیر اعلیٰ نائب سنگھ سینی اور کابینہ وزیر انل وِج کی کوششوں کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ ان سب کی خصوصی کوششوں کے نتیجے میں شہدا کی یہ عظیم الشان یادگار تعمیر ہوکر تیار ہوئی ہے۔
اس موقع پر مرکزی وزیر داخلہ نے 1260 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر ہونے والے قومی شاہراہ 152-جی کے جلبیڑ-شاہ آباد سیکشن کا بھی افتتاح کیا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستھان سماچار / عطاءاللہ