
نئی دہلی، 5 نومبر (ہ س) ۔
دہلی فسادات کی سازش رچنے کے الزام میں گرفتار شرجیل امام اور عمر خالد نے ضمانت کے لیے جمعرات کو ایک بار پھر سپریم کورٹ کا رخ کیا ہے۔ دونوں نے دہلی ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے اعلیٰ ترین عدالت میں درخواست دائر کی ہے۔
دہلی ہائی کورٹ نے 30 ستمبر کو دونوں کی ضمانت عرضیاں مسترد کردی تھیں۔ جسٹس پرتیبھا سنگھ کی سربراہی والی بنچ نے کہا تھا کہ ہائی کورٹ سپریم کورٹ کے حکم کی پابند ہے اور عدالتی نظم و ضبط کی پیروی کرنا ضروری ہے۔
اس سے پہلے کڑکڑڈوما عدالت نے 4 جولائی کو عمر خالد اور شرجیل امام کی ضمانت کی درخواستیں خارج کردی تھیں۔ ایڈیشنل سیشن جج سمیر باجپئی نے کہا تھا کہ وہ سپریم کورٹ کے 5 جنوری کے حکم پر عمل کرنے کے پابند ہیں۔ کڑکڑڈوما عدالت نے یہ بھی کہا تھا کہ عمر خالد اور شرجیل امام کی ضمانت کی درخواستیں ٹرائل کورٹ میں بھی سماعت کے قابل نہیں ہیں۔
اس سے قبل بھی دونوں ملزمان سپریم کورٹ سے رجوع کرچکے ہیں، لیکن 5 جنوری کو عدالت عظمیٰ نے ان کی ضمانت کی درخواستیں مسترد کردی تھیں۔ تاہم اسی دن سپریم کورٹ نے گل فشاں فاطمہ، میران حیدر، شفا الرحمٰن، شاداب احمد اور محمد سلیم خان کو ضمانت دے دی تھی۔ اس کے بعد 22 مئی کو عدالت نے خالد سیفی اور تسلیم احمد کو چھ ماہ کی عبوری ضمانت دی تھی۔ اس معاملے کے چار دیگر ملزمان صفورا زرگر، آصف اقبال تنہا، دیوانگنا کلیتا اور نتاشا نروال کو بھی پہلے ہی ضمانت مل چکی ہے۔
واضح رہے کہ فروری 2020 میں دہلی میں ہوئے فسادات کے دوران کم از کم 53 افراد کی موت ہوگئی تھی، جبکہ بڑی تعداد میں لوگ زخمی ہوئے تھے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستھان سماچار / عطاءاللہ