امریکی وسط مدتی انتخابات کے نتائج آج ، ابتدائی رجحانات میں کہیں ریپبلکن تو کہیں ڈیموکریٹس کو برتری
واشنگٹن، 04 نومبر (ہ س)۔ امریکہ کے وسط مدتی انتخابات کے لیے انڈیانا، جارجیا، کینٹکی، ساو¿تھ کیرولائنا، ورمونٹ اور ورجینیا میں ہندوستانی وقت کے مطابق آج صبح تقریباً 4:30 سے 5:30 بجے کے درمیان ووٹنگ ختم ہوگئی۔ اس کے ساتھ ہی ان اہم انتخابات میں ووٹو
US-Elections-Results-Today


واشنگٹن، 04 نومبر (ہ س)۔ امریکہ کے وسط مدتی انتخابات کے لیے انڈیانا، جارجیا، کینٹکی، ساو¿تھ کیرولائنا، ورمونٹ اور ورجینیا میں ہندوستانی وقت کے مطابق آج صبح تقریباً 4:30 سے 5:30 بجے کے درمیان ووٹنگ ختم ہوگئی۔ اس کے ساتھ ہی ان اہم انتخابات میں ووٹوں کی گنتی کا عمل شروع ہوگیا ہے۔

یہ انتخابات طے کریں گے کہ امریکی کانگریس پر کس جماعت کا سیاسی کنٹرول رہے گا۔ ایوان نمائندگان (ہاو¿س آف ریپریزنٹیٹوز) کی تمام 435 نشستوں، سینیٹ کی 35 نشستوں اور 36 گورنروں کے عہدوں کے لیے ہونے والی ووٹنگ کے نتائج آج شام تک آنے کی توقع ہے۔ ان نتائج سے یہ طے ہوگا کہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی صدارت کی مدت کے آخری دو برسوں میں کانگریس پر ریپبلکن پارٹی کا کنٹرول برقرار رہتا ہے یا ڈیموکریٹک پارٹی ایک یا دونوں ایوانوں میں دوبارہ کامیابی حاصل کرتی ہے۔

سی این این اور سی بی سی نیوز کی رپورٹوں کے مطابق، وسط مدتی انتخابات کے نتائج آہستہ آہستہ سامنے آنے لگے ہیں۔ کینٹکی اور انڈیانا میں بعض پولنگ مراکز بند ہونے کے بعد ابتدائی گنتی کے اعداد و شمار جاری کیے گئے ہیں۔ کینٹکی کی سینیٹ نشست پر ریپبلکن امیدوار اینڈی بیر کو ابتدائی برتری حاصل ہوئی ہے۔ اب تک گنے گئے ووٹوں میں بیر کو 7,074 ووٹ (67.6 فیصد) ملے ہیں۔ ڈیموکریٹک امیدوار چارلس بوکر 3,187 ووٹ (30.4 فیصد) کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں، جب کہ کینٹکی پارٹی کے امیدوار کرسٹوفر کیمبل کو 209 ووٹ (2 فیصد) ملے ہیں۔

جارجیا میں سینیٹ کی دوڑ میں اوسوف کو برتری حاصل ہے، جب کہ ساو¿تھ کیرولائنا میں مقابلہ سخت ہے۔ جارجیا میں موجودہ ڈیموکریٹک سینیٹر جان اوسوف آگے چل رہے ہیں۔ انہوں نے پہلی مرتبہ 2021 میں انتخاب جیتا تھا۔ ساو¿تھ کیرولائنا میں ریپبلکن سینیٹر ڈارلن گراہم اور ڈیموکریٹ اینی اینڈریوز کے درمیان سخت مقابلہ بتایا جا رہا ہے۔ جارجیا میں گورنر کے عہدے کے لیے بھی اسی طرح کا مقابلہ ہے۔ اندازہ ہے کہ ورجینیا میں ڈیموکریٹک سینیٹر مارک وارنر نے سینیٹ میں ایک اور مدت کے لیے کامیابی حاصل کرلی ہے۔ جارجیا اور ساو¿تھ کیرولائنا میں سینیٹ کی نشستوں پر سخت مقابلہ ہے۔ اسی طرح جارجیا میں گورنر کے عہدے اور ورجینیا میں ایوان نمائندگان کی دو نشستوں کے لیے بھی کانٹے کی ٹکر ہے۔

کینٹکی میں ووٹنگ ختم ہونے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر لکھا، ”کینٹکی میں ووٹنگ جلد ختم ہونے والی ہے۔ ایک بڑی بات!“ ایک دوسری پوسٹ میں ٹرمپ نے فاکس نیوز کی میزبان جیسیکا ٹارلوف کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے یہ تبصرہ نیٹ ورک کی انتخابی کوریج پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کیا۔ ٹرمپ نے لکھا، ”میں فاکس نیوز پر انتخابات سے پہلے کے نتائج دیکھ رہا ہوں، لیکن جیسیکا ٹارلوف کی آواز برداشت نہیں ہوتی۔ وہ بالکل بے وقوف ہے۔ اس کی آواز ہی مجھے پریشان کردیتی ہے۔ جب تک وہ اسکرین سے نہیں ہٹتی، مجھے کہیں اور جانا پڑے گا۔“

سی این این کے ووٹر پول کے ابتدائی نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن کی سیاسی قیادت کے تئیں لوگوں میں کافی ناراضگی ہے۔ ووٹروں نے کانگریس، سپریم کورٹ اور دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کے بارے میں منفی رائے ظاہر کی ہے۔ سروے کے مطابق تقریباً 10 میں سے 7 ووٹروں کا خیال ہے کہ کانگریس صدر کے اختیارات پر مناسب نگرانی اور توازن برقرار رکھنے میں ناکام ہے۔ پول میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ ڈیموکریٹس کے مقابلے ریپبلکنز کے تئیں لوگوں کی رائے زیادہ منفی ہے۔

معیشت کے معاملے میں ووٹروں کے اعتماد کے لحاظ سے ڈیموکریٹس کو ریپبلکنز پر معمولی برتری حاصل ہوئی ہے۔ گزشتہ انتخابات کے مقابلے میں یہ ایک اہم تبدیلی ہے، کیونکہ اس وقت اس معاملے میں ڈیموکریٹس کی پوزیشن کمزور تھی۔ تاہم تقریباً 20 فیصد یعنی پانچویں حصے ووٹروں نے کہا کہ انہیں معیشت سنبھالنے کے معاملے میں کسی بھی سیاسی جماعت پر بھروسہ نہیں ہے۔

اس دوران نائب صدر جے ڈی وینس نے انتظامیہ کی ویزا اور روزگار پالیسیوں کا دفاع کیا۔ انہوں نے کہا کہ انتظامیہ نے ویزا دھوکہ دہی روکنے اور امریکی ملازمین کی جگہ کم اجرت پر غیر ملکی کارکنوں کو ملازمت دینے کے رجحان پر قابو پانے کے لیے اقدامات کیے ہیں۔ وینس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی پوسٹ میں کہا، ”گزشتہ چند برسوں میں ہم نے ویزا دھوکہ دہی کو کم کیا ہے اور ان لوگوں کے خلاف جدوجہد کی ہے جو امریکی ملازمین کو ملازمت سے نکال کر ان کی جگہ کم اجرت پر غیر ملکیوں کو رکھ لیتے ہیں۔ کیونکہ خودمختاری کا مطلب ہے کہ امریکی ملازمتیں امریکی شہریوں کو ہی ملنی چاہئیں۔“

اس مرتبہ کم از کم 10 آزاد امیدوار بھی اپنی قسمت آزما رہے ہیں۔ فی الحال سینیٹ میں دو آزاد ارکان ہیں، جن میں ورمونٹ کے سینیٹر برنی سینڈرز اور مین کے سینیٹر اینگس کنگ شامل ہیں۔ یہ دونوں ڈیموکریٹس کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں۔ ایوان نمائندگان میں کیلیفورنیا کے کیون کائلی واحد آزاد رکن ہیں۔ مارچ میں ریپبلکن پارٹی چھوڑنے کے باوجود وہ ایوان میں اب بھی ریپبلکن پارٹی کے ساتھ ہی کام کرتے ہیں۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستھان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande