امریکہ کے وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس کو برتری، ایوان نمائندگان پر پھر سےکنٹرول حاصل کرنے کے امکانات
واشنگٹن ، 04 نومبر (ہ س)۔ امریکہ میں وسط مدتی انتخابات کے لیے ووٹنگ کے بعد ووٹوں کی گنتی شروع ہوچکی ہے۔ سی این این اور سی بی ایس نیوز نے اب تک کی ووٹوں کی گنتی کے رجحانات کی بنیاد پر اندازہ ظاہر کیا ہے کہ امریکی کانگریس کے ایوان زیریں یعنی ایوان نم
US-Democrats-Congress-Lead


واشنگٹن ، 04 نومبر (ہ س)۔ امریکہ میں وسط مدتی انتخابات کے لیے ووٹنگ کے بعد ووٹوں کی گنتی شروع ہوچکی ہے۔ سی این این اور سی بی ایس نیوز نے اب تک کی ووٹوں کی گنتی کے رجحانات کی بنیاد پر اندازہ ظاہر کیا ہے کہ امریکی کانگریس کے ایوان زیریں یعنی ایوان نمائندگان (ہاو¿س آف ریپریزنٹیٹوز) پر ڈیموکریٹس کا دوبارہ قبضہ ہونا طے ہے۔ امریکہ میں کانگریس کے ایوان بالا کو سینیٹ کہا جاتا ہے۔ ایوان نمائندگان کی تمام 435 نشستوں، سینیٹ کی 35 نشستوں اور 36 گورنروں کے عہدوں کے نتائج آج شام تک آنے کی توقع ہے۔ ان نتائج سے طے ہوگا کہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی مدت صدارت کے آخری دو برسوں میں کانگریس پر ریپبلکن پارٹی کا کنٹرول برقرار رہتا ہے یا ڈیموکریٹک پارٹی کو برتری حاصل ہوتی ہے۔

سی این این اور سی بی ایس نیوز کے اندازوں کے مطابق ڈیموکریٹ امیدوار اینی اینڈریوز کا ساوتھ کیرولائنا سے سینیٹ میں پہنچنا یقینی ہے۔ پارٹی نے ریپبلکنز کے قبضے والے ایوان نمائندگان کے پانچ حلقوں میں بھی کامیابی حاصل کرلی ہے۔ دونوں نیوز چینلوں کا خیال ہے کہ ڈیموکریٹس ایوان نمائندگان میں کامیابی حاصل کریں گے۔ اس سے واشنگٹن پر ریپبلکنز کی گرفت کمزور ہوجائے گی اور اگلے دو برسوں تک صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ساتھ ان کی سیاسی کشمکش جاری رہنے کے امکانات ہیں۔

ایک رپورٹ کے مطابق ساو¿تھ کیرولائنا میں ڈیموکریٹ امیدوار اینی اینڈریوز نے سینیٹ کا انتخاب جیت لیا ہے۔ انہوں نے سینیٹر ڈارلن گراہم کو شکست دے کر ایسی نشست اپنے نام کرلی ہے، جس پر گزشتہ تقریباً تین دہائیوں سے ریپبلکنز کا قبضہ تھا۔ دونوں نیوز چینلوں کے انتخابی ڈیسک کی نشریات کے مطابق ڈیموکریٹ کیشا لانس باٹمز امریکی تاریخ کی پہلی سیاہ فام خاتون گورنر بنیں گی۔ اس کے علاوہ فلوریڈا میں ریپبلکن بائرن ڈونلڈز ریاست کے اگلے گورنر ہوں گے۔ وہ اس عہدے پر فائز ہونے والے پہلے سیاہ فام رہنما بن کر تاریخ رقم کریں گے۔

ڈیموکریٹک سوشلسٹس آف امریکہ (ڈی ایس اے) کے کم از کم پانچ ارکان سمیت کئی ترقی پسند رہنما آج رات انتخابی کامیابی حاصل کرنے کے بعد جنوری میں ایوان نمائندگان کے ڈیموکریٹ ارکان میں شامل ہوں گے۔ ان میں سے تین ترقی پسند رہنماو¿ں نے نیویارک میں کامیابی حاصل کی ہے، جہاں ڈیموکریٹک سوشلسٹ داریالیزا اویلا شیویلیئر اور کلیئر والڈیز کے علاوہ نیویارک شہر کے سابق کنٹرولر بریڈ لینڈر نے ڈیموکریٹک پارٹی کے مضبوط گڑھ سمجھے جانے والے انتخابی حلقوں میں شاندار کامیابی حاصل کی۔ ڈی ایس اے کے ارکان نے کولوراڈو میں میلات کیروس، مشی گن میں ڈونوون میک کینی اور پنسلوانیا میں کرس راب کے ساتھ بھی کامیابی حاصل کی۔ اسرائیل کے کھلے ناقد اور ترقی پسند رہنما ایڈم حموی نے نیو جرسی میں کامیابی درج کی ہے۔

رپورٹ کے مطابق ڈیموکریٹ امیدوار باب بروکس نے پنسلوانیا کے ساتویں انتخابی حلقے میں ریپبلکن رکن پارلیمنٹ ریان میکنزی کو شکست دے دی ہے۔ پنسلوانیا پروفیشنل فائر فائٹرز ایسوسی ایشن کے صدر بروکس گورنر جوش شاپیرو کے اہم امیدواروں میں سے ایک تھے، کیونکہ ڈیموکریٹس ریاست میں ریپبلکن پارٹی کے چار ارکانِ پارلیمنٹ کو شکست دینے کی کوشش کر رہے تھے۔ انتخابی مہم کے دوران بروکس نے محنت کش طبقے سے اپنے تعلق کو نمایاں کیا اور سرکاری بدعنوانی کے خلاف جدوجہد کرنے اور زندگی گزارنے کے اخراجات کو کم کرنے کا وعدہ کیا۔

بتایا گیا ہے کہ سینیٹ کی اہم نشستوں پر بھی ڈیموکریٹس کی برتری برقرار ہے۔ ڈیموکریٹس نے نارتھ اور ساو¿تھ کیرولائنا میں سینیٹ کی نشستیں جیت لی ہیں۔ سینیٹ کی اہم اور سخت مقابلے والی نشستوں میں اب تک انہیں چار پر کامیابی مل چکی ہے۔ سینیٹ پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے کے لیے پارٹی کو مزید دو نشستیں جیتنے اور مشی گن میں اپنی موجودہ نشست برقرار رکھنے کی ضرورت ہے۔

کینساس، اوہائیو اور ٹیکساس جیسی سینیٹ کی کئی دیگر اہم نشستوں پر بھی ڈیموکریٹس کا پلڑا بھاری دکھائی دے رہا ہے۔ ٹیکساس میں جیمس تالاریکو کا مقابلہ کین پیکسٹن سے ہے۔ ریپبلکن پارٹی کے دو سینئر رہنماو¿ں نے بھی تشویش ظاہر کی ہے۔ ان میں سے ایک نے کہا، ”حالات انتہائی خراب دکھائی دے رہے ہیں۔“

فلوریڈا میں ریپبلکنز اپنی سینیٹ کی نشست بچانے میں کامیاب رہے، جب کہ جارجیا اور نیو ہیمپشائر میں ڈیموکریٹس نے اپنی اہم نشستیں برقرار رکھی ہیں۔

سینیٹ کی بعض اہم نشستوں پر اب بھی سخت مقابلہ جاری ہے۔ مین، آئیووا اور مشی گن میں بھی مقابلہ دلچسپ بنا ہوا ہے۔ مشی گن میں عبدل السید کا مقابلہ مائیک راجرز سے ہے۔ بائیڈن انتظامیہ میں وزیر ٹرانسپورٹ رہ چکے پیٹ بٹیگیگ نے انتخابی نتائج کو ”بڑی تبدیلی“ (ٹیکٹونک) قرار دیا۔ انہوں نے کہا، ”ایک کے بعد ایک اچھی خبر سامنے آرہی ہے۔“ انہوں نے بتایا کہ وہ مشی گن میں ڈیموکریٹک سینیٹ امیدوار عبدال السید کی انتخابی نتائج دیکھنے کے لیے منعقدہ تقریب (واچ پارٹی) میں موجود ہیں۔

اس اہم مقابلے میں اب بھی کانٹے کی ٹکر جاری ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ”ہر ریاست کے حالات الگ الگ ہوتے ہیں۔“ ساتھ ہی انہوں نے اس بات پر بھی شبہ ظاہر کیا کہ ڈیموکریٹک رکن ہیلے اسٹیونز کی جانب سے ریپبلکن امیدوار مائیک راجرز کی حمایت کا کوئی بڑا اثر پڑا ہوگا۔ بٹیگیگے 2020 میں صدارتی انتخاب بھی لڑا تھا اور انہیں مستقبل میں ڈیموکریٹک پارٹی کے ممکنہ صدارتی امیدواروں میں شمار کیا جاتا ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستھان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande