سپریم کورٹ نے ریاستوں کے اضافی سیلز ٹیکس عائد کرنے کے اختیار کو برقرار رکھا
نئی دہلی، 4 نومبر (ہ س): سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ 1974 میں آئینی بنچ کی جانب سے دیا گیا وہ فیصلہ آج بھی نافذ العمل ہے، جس کے تحت ریاستوں کو موجودہ سیلز ٹیکس کی شرح کے فیصد کے طور پر اضافی سیلز ٹیکس یا سرچارج عائد کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ عدالت نے کہا
سپریم کورٹ نے ریاستوں کے اضافی سیلز ٹیکس عائد کرنے کے اختیار کو برقرار رکھا


نئی دہلی، 4 نومبر (ہ س): سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ 1974 میں آئینی بنچ کی جانب سے دیا گیا وہ فیصلہ آج بھی نافذ العمل ہے، جس کے تحت ریاستوں کو موجودہ سیلز ٹیکس کی شرح کے فیصد کے طور پر اضافی سیلز ٹیکس یا سرچارج عائد کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ عدالت نے کہا کہ اس معاملے پر اب نئے سرے سے غور کرنے کی ضرورت نہیں ہے، کیونکہ یہ محض ایک نظریاتی سوال بن کر رہ گیا ہے۔

چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی میں سات ججوں پر مشتمل آئینی بنچ نے متفقہ طور پر قرار دیا کہ تقریباً 27 سال پہلے اس کے سامنے بھیجے گئے قانونی سوال پر اب کسی نئے فیصلے کی ضرورت نہیں ہے، کیونکہ جن قانونی دفعات کو چیلنج کیا گیا تھا، انہیں یا تو تبدیل کر دیا گیا ہے یا ان میں ترمیم ہو چکی ہے۔ اس کے علاوہ اب اشیا اور خدمات ٹیکس (جی ایس ٹی) کا قانون بھی نافذ ہو چکا ہے۔

آئینی بنچ میں چیف جسٹس کے علاوہ جسٹس کے وی وشواناتھن، جسٹس ایس وی این بھٹی، جسٹس جوئے مالیا باگچی، جسٹس این وی انجاریا، جسٹس ارون پلی اور جسٹس وی موہنا شامل تھے۔

سات رکنی آئینی بنچ نے اس ریفرنس پر نئے سرے سے فیصلہ سنانے سے انکار کرتے ہوئے واضح کیا کہ ایس کوڈر بنام ریاست کیرالہ کے 1974 کے مقدمے میں پانچ رکنی آئینی بنچ کا فیصلہ اب بھی مؤثر ہے۔

سات رکنی آئینی بنچ نے کہا کہ سرچارج عائد کرنے کے سلسلے میں ریاستی اسمبلیوں کے قانون سازی کے اختیار کا تعین ایس کوڈر مقدمے میں طے کیے گئے قانونی اصولوں کے مطابق کیا جائے گا۔

یہ معاملہ اڈیشہ سیلز ٹیکس ایکٹ 1947 کی دفعہ 5 اے کو چیلنج کیے جانے کے بعد سامنے آیا تھا۔ اس دفعہ کے تحت 10 لاکھ روپے سے ایک کروڑ روپے تک سالانہ کاروبار کرنے والے تاجروں پر 10 فیصد کی شرح سے اور ایک کروڑ روپے سے زیادہ کا کاروبار کرنے والے تاجروں پر 15 فیصد کی شرح سے اضافی ٹیکس عائد کرنے کا انتظام تھا۔

درخواست گزاروں نے سوال اٹھایا تھا کہ کیا ریاستی مقننہ کو آئین کی ساتویں شیڈول کی فہرست دو کی انٹری 54 کے تحت ایسا ٹیکس عائد کرنے کا اختیار حاصل ہے، جو ریاستوں کو اشیا کی خرید و فروخت پر ٹیکس لگانے کا اختیار دیتی ہے، یا پھر یہ درحقیقت انکم ٹیکس کی نوعیت کا ٹیکس ہے، جو فہرست ایک کی انٹری 82 کے تحت پارلیمنٹ کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستھان سماچار / عبدالواحد


 rajesh pande