
جموں، 04 نومبر(ہ س)۔
جموں کی فاسٹ ٹریک عدالت نے ایک اہم مقدمے میں فیصلہ دیتے ہوئے کہا کہ محض محبت کا رشتہ ختم ہونے یا شادی سے انکار کرنے کو دھوکہ دہی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ عدالت نے شادی کا وعدہ کرکے جسمانی تعلقات قائم کرنے اور 12 لاکھ روپے لینے کے الزامات کا سامنا کرنے والے 25 سالہ سلیم خان کی ضمانت منظورکرلی۔
ملزم کا تعلق ضلع راجوری کے تھانہ منڈی علاقے کے منیال گاؤں سے ہے اور اس کے خلاف پولیس تھانہ پیر مٹھا میں مقدمہ درج ہے۔ شکایت کنندہ خاتون محکمہ مال میں پٹواری کے عہدے پر تعینات ہے۔ خاتون نے الزام لگایا تھا کہ سلیم خان نے شادی کا وعدہ کرکے اس کے ساتھ جسمانی تعلقات قائم کیے اور کاروبار شروع کرنے کے نام پر 12 لاکھ روپے حاصل کیے، تاہم بعد میں شادی سے انکار کرنے کے ساتھ رقم واپس کرنے سے بھی مبینہ طور پر انکار کردیا۔
خاتون نے ملزم پر بدنام کرنے کی دھمکیاں دینے کا الزام بھی عائد کیا تھا۔دوسری جانب ملزم نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ دونوں کے درمیان کاروباری شراکت داری سے متعلق رقم کا تنازعہ ہے اور ان کے تعلقات باہمی رضامندی سے قائم ہوئے تھے۔
مقدمے کی سماعت کے دوران پریزائیڈنگ افسر امرجیت سنگھ لنگیہ نے کہا کہ دونوں کے درمیان 2023 سے تعلقات تھے اور صرف رشتہ ختم ہوجانے سے دھوکہ دہی ثابت نہیں ہوتی۔ عدالت نے واضح کیا کہ مالی لین دین میں دھوکہ دہی کا الزام ثابت کرنے کے لیے یہ ثابت کرنا ضروری ہے کہ رقم حاصل کرتے وقت ہی ملزم کی نیت دھوکہ دینے کی تھی۔
عدالت نے 30 ہزار روپے کے ضمانتی مچلکے پر ملزم کی ضمانت منظور کرتے ہوئے اسے تحقیقات میں تعاون کرنے اور گواہوں کو متاثر نہ کرنے کی ہدایت دی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستھان سماچار / محمد اصغر