پنجاب سمیت سات ریاستوں میں 35 مقامات پر ای ڈی کے چھاپے، عام آدمی پارٹی کے رکن اسمبلی سمیت کئی افراد جانچ کے دائرے میں
نئی دہلی، 4 نومبر (ہ س)۔ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے بدھ کے روز چار الگ الگ معاملات میں سات ریاستوں کے 35 مقامات پر تلاشی مہم چلائی۔ یہ معاملات سرکاری اور ادارہ جاتی املاک کے فرضی طریقے سے حصول، عوامی رقم کے غلط استعمال، سرمایہ کاری کے نام پر
چھاپے


نئی دہلی، 4 نومبر (ہ س)۔ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے بدھ کے روز چار الگ الگ معاملات میں سات ریاستوں کے 35 مقامات پر تلاشی مہم چلائی۔ یہ معاملات سرکاری اور ادارہ جاتی املاک کے فرضی طریقے سے حصول، عوامی رقم کے غلط استعمال، سرمایہ کاری کے نام پر دھوکہ دہی، آندھرا پردیش پبلک سروس کمیشن کے گروپ-1 مین امتحان کی جوابی کاپیوں کی جانچ میں بے ضابطگیوں اور کوآپریٹو سوسائٹی کی رقم کے غبن سے متعلق ہیں۔ ای ڈی کے چنڈی گڑھ، بھونیشور، حیدرآباد اور کیرالہ کے علاقائی دفاتر کی جانب سے پنجاب، اڈیشہ، مغربی بنگال، تلنگانہ، آندھرا پردیش، کیرالہ اور تمل ناڈو میں یہ کارروائی کی جا رہی ہے۔

تحقیقاتی ایجنسی کے مطابق، ای ڈی کے چنڈی گڑھ علاقائی دفتر نے پنجاب میں سات مقامات پر تلاشی مہم چلائی۔ یہ کارروائی موگا ضلع میں سرکاری اور ادارہ جاتی املاک کے فرضی طریقے سے حصول اور عوامی رقم کے غلط استعمال سے متعلق معاملے میں کی گئی۔ یہ معاملہ قومی شاہراہ نمبر 754 اے کی تعمیر کے لیے حاصل کی گئی سرکاری زمین کے سلسلے میں فرضی موت ظاہر کرکے معاوضے کی رقم غیر قانونی طریقے سے جاری کرانے سے متعلق ہے۔ پنجاب پولیس کی جانب سے 16 جون 2024 کو درج ایف آئی آر نمبر 101 کی بنیاد پر ای ڈی نے انسدادِ منی لانڈرنگ قانون (پی ایم ایل اے) کے تحت انفورسمنٹ کیس انفارمیشن رپورٹ (ای سی آئی آر) درج کی تھی۔

تلاشی مہم عام آدمی پارٹی کی پنجاب ویمن ونگ کی صدر اور موگا کی رکن اسمبلی امن دیپ کور اروڑہ، ان کے شوہر ڈاکٹر راکیش اروڑہ، اہل خانہ اور قریبی ساتھیوں سے وابستہ ٹھکانوں پر چلائی گئی۔ ڈاکٹر راکیش اروڑہ سے وابستہ نشہ چھڑانے کے اسپتال کو بھی تلاشی کے دائرے میں شامل کیا گیا ہے۔ ای ڈی کی یہ کارروائی سرکاری زمین کے حصول اور معاوضے کی ادائیگی میں مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات سے متعلق ہے۔

دوسری جانب ای ڈی کے بھونیشور علاقائی دفتر نے اڈیشہ اور مغربی بنگال میں 10 مقامات پر تلاشی مہم چلائی۔ یہ معاملہ کلپنا فنانشیل سروسز پرائیویٹ لمیٹڈ اور اس کے ڈائریکٹر امت منڈل سے متعلق ہے۔ اقتصادی جرائم ونگ (ای او ڈبلیو) کی جانب سے درج ایف آئی آر کی بنیاد پر منی لانڈرنگ کا مقدمہ شروع کیا گیا تھا۔ تحقیقاتی ایجنسی کے مطابق، اس سرمایہ کاری اسکیم کو بنیادی طور پر ’کلپنا فنانشیل سروسز‘ کے نام سے چلایا جا رہا تھا۔

اس معاملے میں الزام ہے کہ اسکیم کے تحت عام لوگوں کو شیئر بازار اور ٹریڈنگ کی سرگرمیوں میں سرمایہ کاری کے نام پر رقم جمع کرانے کے لیے راغب کیا گیا۔ سرمایہ کاروں کو ان کی رقم پر ہر ماہ مقررہ منافع دینے کا یقین دلایا جاتا تھا۔ یہ منافع تقریباً 3.5 سے 7 فیصد ماہانہ بتایا گیا تھا۔ اس اسکیم کے ذریعے عام لوگوں سے تقریباً 120 کروڑ روپے جمع کیے گئے۔ ایجنسی اس بات کی تحقیقات کر رہی ہے کہ سرمایہ کاری کے نام پر جمع کی گئی رقم کا استعمال کس طرح کیا گیا۔ معاملے کی مزید تفتیش جاری ہے۔

تیسری کارروائی ای ڈی کے حیدرآباد علاقائی دفتر کی جانب سے کی گئی۔ ایجنسی نے تلنگانہ کے حیدرآباد اور سکندرآباد کے علاوہ آندھرا پردیش کے گنٹور ضلع میں سات مقامات پر تلاشی مہم شروع کی۔ یہ معاملہ آندھرا پردیش پبلک سروس کمیشن (اے پی پی ایس سی) کے گروپ-1 مین امتحان کی جوابی کاپیوں کی دستی جانچ میں مبینہ بے ضابطگیوں سے متعلق ہے۔ ای ڈی کے مطابق، اس عمل کے دوران ایک نجی فریق کو 1,14,32,312 روپے کی ادائیگی کیے جانے کا الزام ہے۔

تلاشی مہم اس وقت کے اے پی پی ایس سی سکریٹری پی سیتارامانجنیولو کے ٹھکانے پر چلائی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ جوابی کاپیوں کی دستی جانچ کا کام سونپی گئی نجی کمپنی کیمسائن میڈیا پرائیویٹ لمیٹڈ اور اس کے منیجنگ ڈائریکٹر پی مدھوسودن راؤ کے ٹھکانوں کو بھی تحقیقات کے دائرے میں رکھا گیا ہے۔ آندھرا پردیش کے گنٹور ضلع کے چناکاکانی گاؤں میں واقع آواسا ریزورٹ ہائی لینڈ میں بھی تلاشی لی جا رہی ہے۔ یہ وہی مقام ہے جہاں امتحان کی جوابی کاپیاں رکھی گئی تھیں اور جانچ کا کام انجام دیا گیا تھا۔

ای ڈی نے اس معاملے میں ٹروگریڈر سروسز کو بھی تحقیقات کے دائرے میں شامل کیا ہے۔ یہ اسٹون میڈیا ایڈوائزری سروسز پرائیویٹ لمیٹڈ کا ایک شعبہ ہے، جس نے اے پی پی ایس سی کے لیے پہلے ڈیجیٹل جانچ کا کام کیا تھا۔ اس کے منیجنگ ڈائریکٹر اکلا پیری سرینواس راؤ اور جانچ کے کام سے وابستہ مہمنکالی رگھورام کے ٹھکانوں پر بھی تلاشی مہم چلائی جا رہی ہے۔ ایجنسی کی کارروائی کا بنیادی مرکز جوابی کاپیوں کی دستی جانچ کے عمل اور اس کام کے لیے کی گئی ادائیگیوں میں مبینہ بے ضابطگیاں ہیں۔ تلاشی مہم فی الحال جاری ہے۔

چوتھی کارروائی ای ڈی کے کیرالہ علاقائی دفتر کی جانب سے کی جا رہی ہے۔ ایجنسی کیرالہ اور چنئی میں 11 مقامات پر تلاشی لے رہی ہے۔ یہ معاملہ بھارت لجنا ملٹی اسٹیٹ کوآپریٹو سوسائٹی (بی ایل ایم) کے بانی رکن اور عملی طور پر صدر و منیجنگ ڈائریکٹر (سی ایم ڈی) رہ چکے آر پریم کمار اور دیگر افراد سے متعلق ہے۔ ای ڈی کے مطابق، پریم کمار نے سوسائٹی میں عوامی جمع کنندگان کی جانب سے جمع کرائی گئی کروڑوں روپے کی رقم کا مبینہ طور پر غلط استعمال کیا۔ الزام ہے کہ انہوں نے اپنے اثر و رسوخ کا استعمال کرتے ہوئے سوسائٹی کی رقم اپنی اہلیہ اور رشتہ داروں کے بینک کھاتوں میں منتقل کرائی اور اسے ذاتی استعمال میں لایا۔

تحقیقاتی ایجنسی کے مطابق، پریم کمار نے سوسائٹی کے راگم تھیٹر کو بریوس فن ویسٹ کے پاس رہن رکھا تھا، لیکن اس کے بدلے حاصل ہونے والی رقم سوسائٹی تک نہیں پہنچی۔ اس کے علاوہ کانچی پورم میں تقریباً 500 ایکڑ زمین اپنی اہلیہ کے نام پر خریدنے کا بھی الزام ہے۔ ای ڈی ان املاک اور سوسائٹی کے عوامی جمع کنندگان سے حاصل کی گئی رقم کے مبینہ غلط استعمال سے متعلق مختلف پہلوؤں کی تحقیقات کر رہی ہے۔

ای ڈی نے بتایا کہ تمام معاملات میں مختلف مقامات پر تلاشی مہم جاری ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستھان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande