
نئی دہلی، 4 نومبر (ہ س)۔ دہلی ہائی کورٹ نے دہلی حکومت کو اپنے عوامی صحت کی دیکھ بھال کے بنیادی ڈھانچے میں وسیع پیمانے پر بہتری لانے کی ہدایت دی ہے۔ جسٹس پرتیبھا سنگھ کی سربراہی والی بنچ نے دہلی حکومت سے کہا ہے کہ وہ آئی سی یو ہیلپ لائن کی توسیع، خالی پڑے انتظامی اور طبی عہدوں پر بھرتی کا عمل تیز کرنے اور 38 سرکاری اسپتالوں میں غیر استعمال شدہ طبی آلات کا مناسب استعمال یقینی بنانے پر خصوصی توجہ دے۔ اس معاملے کی اگلی سماعت 17 دسمبر کو ہوگی۔
ہائی کورٹ نے کہا کہ ہر ہفتے کال ڈراپ ہونے کی شکایت دور کرنے کے لیے کیٹس نمبر 102 کی گنجائش 40 لائنوں تک پہنچانے کی خاطر چار ہفتوں کے اندر 10 نئی لائنیں شامل کی جائیں۔ ان پر چوبیس گھنٹے افسران اور ملازمین کی دستیابی بھی یقینی بنائی جائے۔
عدالت نے 1855 عہدوں پر بھرتی کے عمل میں تیزی لانے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ یونین پبلک سروس کمیشن (یو پی ایس سی) کے ذریعے دو ہفتوں کے اندر 645 جنرل ڈیوٹی میڈیکل آفیسرز اور 406 غیر تدریسی ملازمین کی بھرتی کی جائے، جبکہ دو ماہ کے اندر کنٹریکٹ کی بنیاد پر 804 پیرا میڈیکل عملے کی تقرری کا عمل مکمل کیا جائے۔
عدالت نے کہا کہ دوہری ذمہ داری دینے کی روایت ختم کرنے کے لیے نومبر 2026 کے آخر تک اسپتالوں میں کل وقتی ڈائریکٹروں کی تقرری کی جائے۔ ہائی کورٹ نے دہلی کے پانچ بڑے اسپتالوں کو 30 نومبر تک غیر استعمال شدہ طبی آلات کی فہرست تیار کرنے کی ہدایت بھی دی ہے۔ اس کے علاوہ افسران کو کنٹریکٹ پر رکھے جانے والے ریڈیولوجسٹس کی تنخواہوں میں اضافے اور آؤٹ سورسنگ کی لاگت کا تقابلی جائزہ لینے کو کہا گیا ہے۔
ہائی کورٹ نے یہ ہدایات ایل این جے پی اسپتال، جی ٹی بی اسپتال، دین دیال اپادھیائے اسپتال، جی بی پنت اسپتال اور سنجے گاندھی اسپتال کو دی ہیں۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستھان سماچار / عبدالسلام صدیقی