امریکہ کا ایران کے جزیرہ قشم پر حملہ، مذاکرات کے دوران محدود فوجی کارروائی سے خطے میں کشیدگی بڑھنے کا خدشہ
واشنگٹن/تہران، 3 نومبر (ہ س)۔ امریکہ نے ایران کے ساتھ قطر کی ثالثی میں جاری مذاکرات کے دوران ایرانی جزیرہ قشم پر محدود فوجی حملے کیے ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق یہ کارروائی پیر کو کی گئی اور اسے دفاعی اقدام قرار دیا گیا ہے۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ ا
امریکہ کا ایران کے جزیرہ قشم پر حملہ، مذاکرات کے دوران محدود فوجی کارروائی سے خطے میں کشیدگی بڑھنے کا خدشہ


واشنگٹن/تہران، 3 نومبر (ہ س)۔ امریکہ نے ایران کے ساتھ قطر کی ثالثی میں جاری مذاکرات کے دوران ایرانی جزیرہ قشم پر محدود فوجی حملے کیے ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق یہ کارروائی پیر کو کی گئی اور اسے دفاعی اقدام قرار دیا گیا ہے۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اس حملے کا مقصد خطے میں موجود امریکی تنصیبات اور اثاثوں کا تحفظ کرنا تھا۔

سی این این کی رپورٹ کے مطابق، تین امریکی حکام نے حملے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ امریکی فوج نے پیر کو جزیرہ قشم پر محدود حملے کیے۔ ان میں سے ایک عہدیدار نے دعویٰ کیا کہ یہ کارروائی ایک امریکی طیارے پر ایرانی فائرنگ کے جواب میں کی گئی۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ یہ کوئی بڑا فوجی آپریشن نہیں تھا۔ایک دوسرے امریکی عہدیدار کے مطابق، ایران کی جانب سے امریکی اثاثوں کے خلاف زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائلوں کے استعمال کے پیش نظر دفاعی کارروائی کی گئی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکہ میں وسط مدتی انتخابات سے عین قبل اس حملے نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور ممکنہ فوجی تصادم کے خدشات کو دوبارہ بڑھا دیا ہے۔اس حملے سے واقف ایک امریکی عہدیدار نے بتایا کہ انتظامیہ نے جان بوجھ کر اس کارروائی کو خفیہ رکھا، تاکہ دفاعی اقدام کو غیر ضروری طور پر زیادہ اہمیت نہ دی جائے۔ ان کے مطابق حملوں کا بنیادی مقصد امریکی اثاثوں کی حفاظت کرنا تھا۔یہ کارروائی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے پیر کو سوشل میڈیا پر کہا تھا کہ تہران کے ساتھ سفارتی مذاکرات اب بھی جاری ہیں اور کسی معاہدے تک پہنچنا ممکن ہے۔

ٹرمپ نے پیر کی رات فاکس نیوز کے ایک پروگرام میں ایران پر نئے حملوں کی خبروں کے بارے میں براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا، تاہم انہوں نے ایران کے خلاف جنگ شروع کرنے کے اپنے فیصلے کا دفاع کیا اور اشارہ دیا کہ گزشتہ چند دنوں میں کوئی لڑائی نہیں ہوئی ہے۔ٹرمپ نے کہا، ’’یہ ایک ہلکی جنگ ہے، کوئی بھیانک جنگ نہیں۔ اگر وہ معاہدہ نہیں کرتے تو جنگ ہو سکتی ہے، لیکن وہ انتہائی سنجیدگی سے معاہدہ کرنا چاہتے ہیں اور اس بات کے کافی اچھے امکانات ہیں کہ ہم کسی سمجھوتے پر پہنچ جائیں۔‘‘

امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی پیر کو اسی طرح کا موقف اختیار کرتے ہوئے صحافیوں سے کہا کہ امریکہ اور ایران نے جنگ ختم کرنے کی سمت میں کچھ پیش رفت کی ہے۔انہوں نے کہا، ’’ایرانی ہمیشہ کچھ غیر متوقع رویہ اختیار کرتے ہیں اور جیسا کہ صدر ہمیشہ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس فوجی اور غیر فوجی دونوں طرح کے متبادل موجود ہیں۔ تاہم ہم نے یقینی طور پر کچھ پیش رفت کی ہے۔ دیکھتے ہیں کہ کیا ہم اس معاملے میں مزید آگے بڑھ سکتے ہیں۔‘‘

سی بی ایس نیوز کی رپورٹ کے مطابق قطر کی قیادت میں تین دن تک جاری رہنے والی بالواسطہ اور خفیہ مذاکراتی کوششوں کا کوئی ٹھوس نتیجہ سامنے نہیں آیا ہے۔ایران نے پیر کو کہا کہ اب گیند امریکہ کے پالے میں ہے۔ تاہم صدر ٹرمپ نے اسی روز ایران کے ساتھ مذاکرات میں پیش رفت کے اشارے دیے تھے۔اس سے قبل ٹرمپ نے صحافیوں کو بتایا تھا کہ اتوار کو ان کی اسرائیل کے وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کے ساتھ اچھی بات چیت ہوئی تھی، جس میں ایران کے ساتھ جاری جنگ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

’ایکسیوس‘ کی رپورٹ کے مطابق، ذرائع نے بتایا کہ صدر ٹرمپ چاہتے ہیں کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کو آگے بڑھنے کا موقع دیا جائے، جبکہ نیتن یاہو ایران پر دوبارہ حملے شروع کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں۔ٹرمپ نے انتخابات سے قبل پیر کو لنکن میموریل ریفلیکٹنگ پول پر اپنے آخری خطاب کے دوران کئی مرتبہ ایران کا ذکر کیا اور کہا کہ ’’یہ کوئی جنگ نہیں ہے۔‘‘

قابل ذکر ہے کہ ایرانی جزیرہ قشم، بندر عباس بندرگاہی شہر سے تقریباً 14 میل کے فاصلے پر واقع ہے۔ یہ جزیرہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والی بحری آمد و رفت پر ایران کے کنٹرول کے لیے انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔جنگ سے قبل روزانہ تقریباً 2 کروڑ بیرل تیل اسی سمندری راستے سے منتقل ہوتا تھا۔ اس جنگ کے دوران امریکہ اس جزیرے کو پہلے بھی نشانہ بنا چکا ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستھان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande