
ریپڈو ڈرائیور سونے کے زیورات کا پارسل لے کر فرارحیدرآباد، 03 نومبر(ہ س)۔ موجودہ مصروف زندگی میں ریپڈو کی بائیک اورآٹوخدمات کافی مقبول ہوچکی ہیں۔ حیدرآباد شہرمیں روزانہ ہزاروں افراد ریپڈو کی خدمات سے استفادہ کرتے ہیں۔ ماضی میں شہرکے ایک علاقے سے دوسرے علاقے تک جانے کے لیے لوگ آٹو اور بسوں کا استعمال کرتے تھے، تاہم اب گھربیٹھے (ریپڈو) اور (اوبر) بک کرتے ہوئے اپنی منزل تک پہنچ رہے ہیں۔ ریپڈو نے حالیہ عرصے میں پارسل ڈیلیوری سروس بھی شروع کی ہے، جس کے تحت کوئی بھی شخص شہرمیں ایک مقام سے دوسرے مقام تک اشیاء، سامان اوردیگرضروری چیزیں بھیج سکتا ہے۔ یہ پارسل ڈیلیوری سروس اب کافی مقبول ہورہی ہے اور شہری بڑی تعداد میں اس سے استفادہ کررہے ہیں۔ تاہم حیدرآباد میں حال ہی میں ایک چونکا دینے والا واقعہ پیش آیا، جہاں ریپڈو کے ذریعے بائیک پارسل سروس بک کرتے ہوئے سونے کے زیورات بھجوانے والے ایک شخص کوڈرائیورنےغیرمتوقع دھچکا پہنچایا۔ تفصیلات کے مطابق یہ واقعہ حیدرآباد کے جوبلی ہلز پولیس اسٹیشن کے حدود میں پیش آیا۔ ویووموبائل فون کمپنی کے منیجردتہ پرساد نلّاپاٹی نے ناگول میں مقیم اپنے رشتہ داروں کے گھر62,383 روپے مالیت کے سونے کے زیورات پارسل کے ذریعے بھیجنے کا فیصلہ کیا۔ اس سلسلے میں انہوں نے سونے کی انگوٹھیاں اور چوڑیاں پیک کروائیں اورریاپڈوپارسل سروس بک کی۔ انہوں نے اپنے دفتر کے سکیورٹی عملے کو ہدایت دی کہ دفترآنے والے ریپڈوڈرائیورکے حوالے سونے کے زیورات کا پارسل کردیا جائے۔ اس کے بعد دفترپہنچنے والے ریپڈوڈرائیورگیتھی میٹّومرلی کوسکیورٹی گارڈ نے پارسل حوالے کردیا۔ تاہم ڈرائیور نے کہا کہ ناگول تک پہنچنے کے لیے اضافی پٹرول کے اخراجات کے طورپرمزید 100 روپے دینے ہوں گے۔ سکیورٹی گارڈ نے یہ بات دتہ پرساد کوبتائی، جس پرانہوں نے فون پے کے ذریعے ڈرائیورکو100 روپے منتقل کردیے۔
رقم ملنے کے بعد ڈرائیوروہاں سے روانہ ہوگیا۔ کچھ دیربعد جب دتہ پرساد نے ڈرائیورکوفون کیا تو اس نے کال ریسیو نہیں کیا اور کچھ دیربعداس کا موبائل فون بند ہوگیا۔ اس پردتہ پرساد کو شبہ ہوا کہ ریپڈوڈرائیورپارسل لے کرفرارہوگیا ہے۔ انہوں نے پہلے ریپڈوکسٹمر کیئرسے رابطہ کرکے شکایت درج کروائی، تاہم وہاں سے مسئلے کا کوئی حل نہیں نکل سکا۔
آخرکار انہوں نے جوبلی ہلز پولیس سے رجوع ہوکر شکایت درج کروائی۔ پولیس نے مقدمہ درج کرتے ہوئے مبینہ طور پر زیورات لے کر فرار ہونے والے ڈرائیور کی تلاش شروع کردی ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستھان سماچار / محمدعبدالخالق