
جیسلمیر میں وزارت دفاع کی پارلیمانی مشاورتی کمیٹی کا اجلاس، دفاعی پیداوار 2029 تک 3 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچانے کا ہدفنئی دہلی، 3 نومبر (ہ س)۔ وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے منگل کو راجستھان کے جیسلمیر میں وزارت دفاع کی پارلیمانی مشاورتی کمیٹی کے اجلاس میں مسلح افواج کی جدید کاری کے لیے مالی وسائل کی دستیابی پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ اسی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت نے جدید کاری کے بجٹ میں ہر سال اضافہ کیا ہے اور اس رقم کو خرچ بھی کیا ہے۔
راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ موجودہ دور میں ٹیکنالوجی جنگ کا ایک لازمی حصہ بن چکی ہے۔ نئے ہتھیاروں اور میزائلوں کے تجربات کیے جا رہے ہیں۔ مسلح افواج بھی اس بات کو بخوبی سمجھتی ہیں کہ حکومت ان کی ضروریات پوری کرنے کے لیے پابند عہد ہے۔ اسی لیے فوج اہم ترین ضروریات کو ترجیح دیتے ہوئے بجٹ کا مؤثر استعمال کر رہی ہے۔
وزیر دفاع نے کہا کہ حکومت کا مقصد صرف جدید آلات حاصل کرنا نہیں، بلکہ ایک ایسا دفاعی نظام تیار کرنا ہے جس میں مسلح افواج کی ضروریات کے مطابق ٹیکنالوجی کو فروغ ملے، ہندوستانی صنعتوں کی شراکت داری بڑھے اور ملک کا اسٹریٹجک انحصار کم ہو۔ جدید کاری کا مطلب محض نئے ہتھیار اور آلات خریدنا نہیں ہے، بلکہ فوج کی آپریشنل تیاریوں کو مضبوط بنانا، اسے جدید ٹیکنالوجی سے لیس کرنا اور ملک کے اندر ایسی صلاحیتیں پیدا کرنا بھی ہے جن پر طویل عرصے تک بھروسہ کیا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ اسی تناظر میں خود کفیل ہندوستان کا عزم اہمیت رکھتا ہے۔ قومی سلامتی کے معاملے میں اسٹریٹجک خود مختاری اور دیسی تکنیکی صلاحیتیں ہماری بنیادی ضرورت ہیں۔
راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ جنگ میں کامیابی کی سب سے بڑی طاقت ہمارا انسانی وسائل ہیں۔ دنیا میں جنگ اور جنگ لڑنے کے طریقوں میں جس تیزی سے تبدیلی آ رہی ہے، اس کے پیش نظر یہ ضروری ہو گیا ہے کہ ہماری مسلح افواج اور ان کی تشکیل بھی جدید جنگی تقاضوں کے مطابق ہو۔ اسی ضرورت کے تحت تینوں افواج نے اپنے ڈھانچے اور تشکیل میں مسلسل اصلاحات اور تبدیلیاں کی ہیں۔انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ فوج میں تشکیل دی گئی نئی اکائیاں، جیسے اشنی، بھیرو اور شکتی بان پلاٹون، موجودہ آپریشنل ضروریات اور جنگ کے بدلتے حالات کے مطابق مفید ثابت ہو رہی ہیں۔
وزیر دفاع نے کہا کہ ہتھیاروں اور میزائلوں کی تیاری میں نجی شعبے کو بھی فروغ دیا گیا ہے۔ چھوٹی صنعتوں سے لے کر بڑی کمپنیاں تک آج دفاعی شعبے میں اپنا تعاون دے رہی ہیں۔ دفاعی پیداوار اور برآمدات کے اعداد و شمار سے ملک کی خود انحصاری کی سمت میں ہونے والی پیش رفت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ مالی سال 2014-15 میں ہندوستان کی دفاعی پیداوار 46,429 کروڑ روپے تھی، جو مالی سال 2025-26 میں بڑھ کر ریکارڈ ایک لاکھ 78 ہزار کروڑ روپے تک پہنچ گئی۔ اسی طرح 2014 میں دفاعی برآمدات دو ہزار کروڑ روپے سے بھی کم تھیں، جو اب بڑھ کر تقریباً 40 ہزار کروڑ روپے ہو گئی ہیں۔ حکومت کا ہدف 2029 تک دفاعی پیداوار کو 3 لاکھ کروڑ روپے اور دفاعی برآمدات کو 50 ہزار کروڑ روپے تک پہنچانا ہے۔
راج ناتھ سنگھ نے مزید بتایا کہ مالی سال 2026-27 میں ملک کا مجموعی دفاعی بجٹ بڑھ کر 7 لاکھ 85 ہزار کروڑ روپے ہو گیا ہے۔ اس میں جدید کاری اور سرمایہ جاتی خریداری کے لیے 2 لاکھ 19 ہزار کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ ان کے مطابق یہ بجٹ مسلح افواج کی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ ہندوستانی صنعتوں اور مقامی مینوفیکچرنگ کو بھی فروغ دینے کے حکومتی عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستھان سماچار / Mohammad Khan