پونے میٹرو کی توسیع سے شہر کی ترقی کو نئی رفتار ملے گی: وزیر اعظم
نئی دہلی، 3 نومبر (ہ س)۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے منگل کو ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے پونے میٹرو کے تقریباً 21,800 کروڑ روپے کے منصوبوں کا افتتاح کیا اور سنگ بنیاد رکھا۔ ان میں 8,300 کروڑ روپے سے زیادہ کی لاگت سے تعمیر ہونے والی تقریباً 23 کلومیٹر طوی
PM-PUNE-METRO-MODI-Farmers


نئی دہلی، 3 نومبر (ہ س)۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے منگل کو ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے پونے میٹرو کے تقریباً 21,800 کروڑ روپے کے منصوبوں کا افتتاح کیا اور سنگ بنیاد رکھا۔ ان میں 8,300 کروڑ روپے سے زیادہ کی لاگت سے تعمیر ہونے والی تقریباً 23 کلومیٹر طویل پونے میٹرو کی پنک لائن کا افتتاح کیا اور تقریباً 13,500 کروڑ روپے کی تخمینہ لاگت سے دوسرے مرحلے کی چار میٹرو لائنوں کا سنگ بنیاد شامل ہے۔

اس موقع پر وزیر اعظم نے کہا کہ پونے میٹرو کی توسیع سے شہر کی ترقی کو نئی رفتار ملے گی اور لوگوں کی زندگی آسان ہوگی۔ تہواروں کی خوشیاں اس وقت مزید بڑھ جاتی ہیں، جب زندگی میں کوئی نئی سہولت شامل ہوتی ہے۔ آج پونے کے لوگوں کے لیے بھی ایسا ہی خوشگوار موقع ہے۔ انہوں نے ان منصوبوں کے لیے پونے اور مہاراشٹر کے عوام کو مبارک باد دی۔

مودی نے کہا کہ تقریباً 10 سال پہلے انہیں پونے میٹرو کے پہلے مرحلے کا سنگ بنیاد رکھنے کا موقع ملا تھا۔ اب ہنجوڑی سے شیواجی نگر کے درمیان میٹرو رابطہ قائم ہونے سے پونے کے بڑے انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) مرکز کو بہتر آمد و رفت کی سہولت ملے گی۔ وہیں، آج جن نئی لائنوں کا سنگ بنیاد رکھا گیا ہے، ان سے شہر کے پرانے اور نئے علاقوں کے درمیان رابطہ مزید مضبوط ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ پونے ہمیشہ ایسے خیالات کا مرکز رہا ہے، جنہوں نے ملک اور سماج کو نئی سمت دی ہے۔ آج یہ شہر وکست بھارت کی نئی توانائی کو بھی سمت دے رہا ہے۔ آئی ٹی، آٹوموبائل، فارما، اسٹارٹ اپ، اختراع اور مینوفیکچرنگ جیسے شعبوں میں پونے ملک کے نوجوانوں کے لیے خوابوں اور عزم کی سرزمین ہے۔ میٹرو رابطے میں بہتری سے شہر کی ترقی کو نئی رفتار ملنے والی ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ آج کسی شہر کی شناخت صرف اس کی صنعتوں یا کھانے پینے کی چیزوں سے نہیں ہوتی، بلکہ یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ وہ کتنا مسابقتی ہے اور وہاں لوگوں کی زندگی کتنی آسان ہے۔ میٹرو منصوبے ان دونوں پیمانوں پر شہر کو بہتر بناتے ہیں۔ پونے میٹرو کی توسیع سے لوگوں کا وقت بچے گا اور انہیں آمد و رفت کی بہتر سہولیات میسر آئیں گی۔ جب کسی شہر کے لوگوں کا وقت بچتا ہے تو اس کی پیداواری صلاحیت بڑھتی ہے، جس سے ملک کی معیشت کو رفتار ملتی ہے اور غریب و متوسط طبقے دونوں کو فائدہ پہنچتا ہے۔

مودی نے کہا کہ ملک میں پہلی میٹرو سروس 1984 میں شروع ہوئی تھی، لیکن اس کے بعد کے 30 برسوں میں صرف 248 کلومیٹر میٹرو لائن تعمیر کی جا سکی۔ سال 2014 تک ملک کے محض پانچ شہروں میں میٹرو سروس دستیاب تھی۔ انہوں نے کہا کہ اگر پرانی سوچ اور کام کرنے کا طریقہ جاری رہتا تو پونے تک میٹرو پہنچنے میں مزید کئی دہائیاں لگ جاتیں۔

انہوں نے کہا کہ سال 2014 میں قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) کی حکومت بننے کے بعد شہروں میں رہنے والے متوسط طبقے کی زندگی آسان بنانے اور نقل و حمل کی سہولیات بہتر کرنے کا عزم کیا گیا۔ گزشتہ 12 برسوں میں ملک کے میٹرو نیٹ ورک میں تیزی سے توسیع ہوئی ہے۔ سال 2014 میں جہاں میٹرو نیٹ ورک صرف 248 کلومیٹر تھا، وہیں اب بڑھ کر تقریباً 1,200 کلومیٹر ہو گیا ہے۔ پہلے صرف پانچ شہروں میں میٹرو چلتی تھی، جب کہ آج ملک کے 26 شہروں میں میٹرو سروس دستیاب ہے۔ روزانہ ایک کروڑ سے زیادہ لوگ میٹرو کے ذریعے سفر کر رہے ہیں اور بھارتی میٹرو نیٹ ورک دنیا کے تین بڑے میٹرو نیٹ ورکس میں شامل ہو چکا ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ مہاراشٹر میں بھی میٹرو نیٹ ورک کی تیزی سے توسیع ہوئی ہے۔ سال 2014 میں ریاست میں صرف 101 کلومیٹر میٹرو لائن زیر استعمال تھی، جب کہ آج تقریباً 200 کلومیٹر میٹرو لائن پر خدمات جاری ہیں۔ ریاست میں 680 کلومیٹر سے زیادہ طویل میٹرو لائنوں پر کام چل رہا ہے۔ مہاراشٹر میں میٹرو بنیادی ڈھانچے پر ڈھائی لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کی سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔ اس سے مزدوروں، انجینئروں، دکانوں اور کارخانوں میں روزگار کے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پونے میٹرو کا یہ منصوبہ سرکاری اور نجی شعبے کی شراکت داری (پی پی پی) کے تحت تعمیر ہونے کی وجہ سے بھی خاص اہمیت رکھتا ہے۔ یہ حکومت اور نجی شعبے کی مشترکہ کوششوں کی ایک مثال ہے۔ اس ماڈل کی کامیابی ملک کی ترقی کو مزید رفتار دے سکتی ہے۔

مودی نے کہا کہ وکست بھارت کی تعمیر کے لیے ملک کا ہر شہری اور نوجوان پورے اعتماد کے ساتھ مصروف عمل ہے۔ گزشتہ 12 برسوں میں ملک میں دیہی سڑکوں، قومی شاہراہوں، ایکسپریس ویز، ریلوے کی بجلی کاری، سرنگوں اور پلوں سمیت بنیادی ڈھانچے کے متعدد منصوبوں پر کام کیا گیا ہے۔ آنے والے برسوں میں بھارت اپنی توانائیاں شہروں کو دنیا کے بہترین شہروں میں شامل کرنے پر صرف کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ شہر صرف رہنے کی جگہ نہیں ہوتے، بلکہ معاشی سرگرمیوں کے بڑے مراکز بھی ہوتے ہیں۔ ملک کے سیکڑوں چھوٹے شہروں کو ترقی کے مراکز کے طور پر تیار کرنا ہے۔ اسی سوچ کے تحت رواں سال فروری میں اربن چیلنج فنڈ کو منظوری دی گئی تھی۔ اس کے لیے مرکزی حکومت ایک لاکھ کروڑ روپے کی امداد فراہم کر رہی ہے۔ اس کے ذریعے آنے والے برسوں میں ملک کے شہروں میں لاکھوں کروڑ روپے کی سرمایہ کاری حاصل کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ انہوں نے مقامی بلدیاتی اداروں اور نجی شعبے سے اس مہم میں آگے آنے کی اپیل کی۔

وزیر اعظم نے کہا کہ عالمی سطح پر مشکل حالات کے باوجود ہندوستان نے دنیا میں سب سے تیز رفتار معاشی ترقی کی رفتار برقرار رکھی ہے۔ عالمی بینک کی تازہ رپورٹ کے مطابق، گزشتہ 10 سے 12 برسوں کے دوران ہندوستان میں 50 کروڑ لوگوں نے شدید غربت پر قابو پایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے غربت کے خلاف لڑائی صرف نعروں تک محدود تھی، لیکن آج ہندوستان عملی طور پر غربت کو شکست دے رہا ہے۔ ہندوستان جہاں تیزی سے ترقی کرنے والی معیشت ہے، وہیں غربت میں کمی لانے والے ممالک میں بھی سرِفہرست ہے۔

انہوں نے کہا کہ غریبوں کو گھر، بیت الخلا، ہر گھر تک پانی اور گیس کنکشن جیسی سہولیات ملنے سے ان کے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے۔ سرکاری اسکیموں کے فوائد اب براہ راست مستحقین تک پہنچ رہے ہیں۔ جب ملک کا پیسہ سڑکوں، ریلوے، ہوائی اڈوں اور میٹرو جیسے بنیادی ڈھانچے پر خرچ ہوتا ہے اور بجلی، پانی و گیس پائپ لائنوں میں سرمایہ کاری بڑھتی ہے تو لوگوں کی زندگی بہتر ہونے کے ساتھ روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوتے ہیں۔

مودی نے کہا کہ گزشتہ ماہ حکومت کے سربراہ کی حیثیت سے کام کرتے ہوئے ان کے 25 سال مکمل ہوئے ہیں۔ ان کی حکومت کا ہمیشہ سے یہی اصول رہا ہے کہ غریبوں کو بااختیار بنایا جائے، تاکہ ان میں اپنی غربت سے باہر نکلنے کا حوصلہ پیدا ہو۔ گجرات کا وزیر اعلیٰ رہتے ہوئے انہوں نے اسی سوچ کے تحت غریب کلیان میلوں کا آغاز کیا تھا۔ ان میلوں میں غریبوں کی فلاح و بہبود سے متعلق اسکیموں کے فوائد لوگوں تک پہنچانے پر توجہ دی جاتی تھی۔ انہوں نے اسے ’پاور ٹو ایمپاور‘ یعنی بااختیار بنانے کے لیے طاقت فراہم کرنا قرار دیا اور کہا کہ یہی اچھی حکمرانی ہے۔

وزیر اعظم نے مہاراشٹر میں خراب موسم اور قدرتی آفات سے متاثرہ کسانوں کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں موسم کی بے رخی کے باعث کسانوں کے متعدد خاندان مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس کی قیادت میں گزشتہ چند برسوں کے دوران آبی تحفظ کے لیے کافی کام کیا گیا ہے، لیکن قدرتی آفت نے کسانوں کی پریشانیوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ اس مشکل گھڑی میں این ڈی اے حکومت پوری حساسیت کے ساتھ کسانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔

انہوں نے ملک کے عوام سے اپیل کی کہ تہواروں کے موقع پر کسانوں کو یاد رکھیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان کے گھروں میں بھی دیوالی کی خوشیاں برقرار رہیں۔ خشک سالی اور قدرتی آفات سے متاثرہ کسانوں اور دیہی علاقوں میں رہنے والے لوگوں کی مشکلات کو فراموش نہیں کرنا چاہیے۔ سبھی کو مل کر اس آفت کا سامنا کرنا ہوگا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ سب کی کوشش اور متحدہ جدوجہد ہی وکست بھارت کی اصل طاقت ہے۔ اسی جذبے کے ساتھ سبھی کو ملک کی ترقی میں اپنا تعاون جاری رکھنا چاہیے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستھان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande