نیتن یاہو کی دہشت گردی مخالف جماعتوں سے لیکوڈ کے ساتھ آنے کی اپیل
یروشلم (اسرائیل)، 3 نومبر (ہ س)۔ اسرائیلی پارلیمنٹ (کنیسٹ) کے انتخابات میں سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری لیکوڈ کے رہنما اور وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو نے دہشت گردی مخالف جماعتوں سے قومی حکومت کی تشکیل میں تعاون کرنے کی اپیل کی ہے۔ نیتن یاہو نے پیر ک
Netanyahu-anti-terror-parti


یروشلم (اسرائیل)، 3 نومبر (ہ س)۔ اسرائیلی پارلیمنٹ (کنیسٹ) کے انتخابات میں سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری لیکوڈ کے رہنما اور وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو نے دہشت گردی مخالف جماعتوں سے قومی حکومت کی تشکیل میں تعاون کرنے کی اپیل کی ہے۔

نیتن یاہو نے پیر کی رات سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں لکھا، ”اسرائیلی عوام ایسی حکومت نہیں چاہتے جو راوم اور جوائنٹ لسٹ جیسی جماعتوں پر منحصر ہو۔ یہ جماعتیں دہشت گردی کی حمایت کرتی ہیں اور یہودی ریاست کے وجود کو تسلیم نہیں کرتیں۔“

’دی یروشلم پوسٹ‘ اور ’دی ٹائمز آف اسرائیل‘ کی رپورٹ کے مطابق، انہوں نے کہا، ”ہم نے پہلے ہی دن سے ایک جامع قومی حکومت کی تشکیل کے لیے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا ہے۔“ نیتن یاہو نے کہا کہ یہودی عوام کی واضح اکثریت نے لیکوڈ کو سب سے بڑی جماعت کے طور پر منتخب کیا ہے اور انہیں وزیر اعظم کی حیثیت سے اگلی حکومت کی قیادت کا موقع دیا ہے۔ انہوں نے کہا، ”ہم اپنے اتحادیوں اور کسی بھی ایسی دوسری جماعت کے ساتھ مل کر ایک جامع قومی حکومت بنانا چاہتے ہیں، جو دہشت گردی کی مخالفت کرتی ہو۔ ایسی جماعتیں ہمارے ساتھ آئیں۔“

نیتن یاہو نے کہا، ”میں اس معاملے پر کھلے دل سے بات چیت کرنے کے لیے تیار ہوں۔“ گزشتہ ہفتے ہونے والے انتخابات کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب انہوں نے قومی حکومت کی تشکیل کی بات کہی ہے۔

انتخابی نتائج کے مطابق، لیکوڈ پارٹی نے 27 نشستیں حاصل کی ہیں۔ نیتن یاہو کی قیادت والے اتحاد کے پاس مجموعی طور پر 53 نشستیں ہیں۔ 120 رکنی کنیسٹ کے انتخابات میں یاشار پارٹی نے 21 نشستیں حاصل کیں، جب کہ اس کے چیئرمین گادی آئزن کوٹ کے اتحاد کو مجموعی طور پر 48 نشستیں ملی ہیں۔ وہیں عرب جماعتوں نے 19 نشستیں حاصل کی ہیں، جن میں راوم پارٹی نمایاں ہے۔ یہ ایک عرب اسلامی سیاسی جماعت ہے، جو بنیادی طور پر اسرائیل میں رہنے والے عرب شہریوں اور بدو برادری کی نمائندگی کرتی ہے۔

دوسری جانب، بدھ کو صدر ہرزوگ کے سامنے انتخابات کے سرکاری نتائج پیش کیے جائیں گے۔ لیکوڈ پارٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ اس عمل کو فی الحال ملتوی کر دیا جائے، تاہم مرکزی انتخابی کمیٹی کے سربراہ نے اس مطالبے کو مسترد کر دیا ہے۔ لیکوڈ پارٹی کا الزام ہے کہ عرب جماعتوں نے ووٹ ”چوری“ کیے ہیں۔ اسرائیل کی سپریم کورٹ کے جج نوم سوہلبرگ نے بھی اس مطالبے کو خارج کر دیا ہے۔

فی الحال 27 اکتوبر کو ہونے والے انتخابات میں غیر ملکی مداخلت کے شبہے کی تحقیقات جاری ہیں۔ سوہلبرگ کی صدارت والی مرکزی انتخابی کمیٹی نے واضح کیا ہے کہ اگر یہ الزامات ثابت بھی ہو جاتے ہیں تو بھی وہ اتنے سنگین نہیں ہیں کہ انتخابی نتائج تبدیل ہو سکیں۔ کمیٹی کے مطابق انتخابات ”درست طریقے سے کرائے گئے“۔

یہ الزامات اس دعوے کے گرد گھومتے ہیں کہ قطر یا دیگر غیر ملکی طاقتوں نے عرب ووٹروں کی تعداد بڑھانے اور انتخابات پر اثر انداز ہونے کے لیے خفیہ طور پر مالی امداد فراہم کی۔ تاہم، ان الزامات کی اب تک تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ توقع ہے کہ اسرائیل کی داخلی سلامتی کی ایجنسی شن بیت اور خفیہ ایجنسی موساد جلد ہی اپنی تحقیقات مکمل کر لیں گی۔

مرکزی انتخابی کمیٹی بدھ کو انتخابی نتائج کی باضابطہ منظوری دے گی، جس کے بعد انہیں صدر کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ لیکوڈ پارٹی اس عمل کی مخالفت کرنے پر غور کر رہی ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستھان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande