
نیشنل کانفرنس کا آغا روح اللہ پر جوابی وار
سری نگر، 3 نومبر (ہ س)۔ نیشنل کانفرنس (این سی) نے منگل کو آغا سید روح اللہ مہدی کے پارٹی اور لوک سبھا رکنیت سے استعفیٰ کے چند گھنٹے بعد ان پر جوابی وار کرتے ہوئے ان کی تقریر کو پارٹی قیادت کے خلاف ’’توہین آمیز، ناشائستہ اور بد زبانی سے بھری‘‘ قرار دیا اور خصوصی حیثیت اور ریزرویشن کے معاملے پر ان کے ریکارڈ پر سوالات اٹھائے۔ پارٹی نے ایک بیان میں کہا کہ بڈگام میں روح اللہ کی تقریر ان کی ’’ذہنی اور اخلاقی پستی‘‘ اور خود غرضی کا مظہر تھی۔ بیان کے مطابق انہوں نے قرآن پاک اور انسانوں کی عزت و احترام کے الٰہی پیغام کا حوالہ تو دیا، لیکن ان کے استعمال کردہ الفاظ ’’صرف ان کی اپنی شخصیت اور کردار کی عکاسی کرتے ہیں‘‘۔
این سی نے کہا کہ چونکہ روح اللہ نے خصوصی حیثیت اور ریزرویشن کو استعفیٰ کی وجہ بنایا ہے، اس لیے حقائق کو درست تناظر میں پیش کرنا ضروری ہے۔ پارٹی نے الزام لگایا کہ انہیں استعفیٰ کی یاد تب آئی جب پارٹی صدر نے انہیں ایسا کرنے کو کہا اور 2010 کی یاد بھی آج ہی آئی جب یہ ان کے سیاسی مفاد میں تھا۔ بیان کے مطابق وہ 2010 میں وزیر کی حیثیت سے خوشی خوشی عہدے پر فائز رہے، یہاں تک کہ ایک عمومی ردوبدل کے دوران انہیں ہٹا دیا گیا، 2014 میں نیشنل کانفرنس کے ٹکٹ پر انتخاب لڑنے کے لیے تیار تھے اور 16 سال تک، یعنی 2026 تک، اس سب کو بھلائے بیٹھے رہے۔
خصوصی حیثیت کے معاملے پر پارٹی نے سوال کیا کہ کیا روح اللہ ہی وہ پہلے شخص نہیں تھے جنہوں نے 6 نومبر 2024 کو جموں و کشمیر اسمبلی میں خصوصی حیثیت کی بحالی کے مطالبے پر منظور کی گئی قرارداد کا خیرمقدم کیا تھا اور کیا انہوں نے یہ نہیں کہا تھا کہ یہ وعدہ پورا کر دیا گیا۔ بیان میں پوچھا گیا کہ انہیں پارلیمنٹ میں عوام کے جذبات کی نمائندگی کرنے اور سیکولر جماعتوں اور ارکانِ پارلیمنٹ کی حمایت حاصل کرنے کے لیے منتخب کیا گیا تھا، تو اس معاملے پر انہوں نے وہاں کیا کیا۔
این سی نے کہا کہ روح اللہ نے الہ آباد ہائی کورٹ کے جج شیکھر کمار یادو کے خلاف مواخذے کی تحریک کے لیے مختلف جماعتوں کے 100 سے زائد ارکان پارلیمنٹ کے دستخط حاصل کیے لیکن کیا وہ بتا سکتے ہیں کہ خصوصی حیثیت یا ریاستی درجے کی بحالی کے لیے انہوں نے ایسی کوئی کوشش کبھی کی یا اس سلسلے میں کوئی قرارداد یا بل پیش کرنے کی کوشش کی۔ پارٹی نے یہ بھی پوچھا کہ کیا انہوں نے کبھی پارلیمنٹ میں یہ بات اٹھائی کہ موجودہ یو ٹی نظام کے تحت بھی منتخب حکومت کے ماتحت محکموں کو کام کرنے کی اجازت نہیں دی جا رہی اور لیفٹیننٹ گورنر (ایل جی) انہیں ’’ریموٹ کنٹرول‘‘ کے ذریعے چلا رہے ہیں۔
ریزرویشن کے مسئلے پر بیان میں کہا گیا کہ روح اللہ نے منتخب حکومت کی مخالفت کا آغاز سرکاری ملازمتوں میں ریزرویشن سے کیا، جو اوپن میرٹ طبقے کے ساتھ ایک ’’سنگین ناانصافی‘‘ ہے اور ایل جی کے دورِ حکومت میں کی گئی۔ پارٹی نے کہا کہ اس نے یہ مسئلہ اٹھایا، اسے اپنے انتخابی منشور کا اہم حصہ بنایا اور اس میں تبدیلی کا وعدہ کیا، لیکن روح اللہ اور ان کے ہم خیال لوگوں نے مسئلے کو بے نقاب کرنے والوں ہی کو مورد الزام ٹھہرانا شروع کر دیا۔ بیان کے مطابق انتخابی وعدے کے مطابق حکومت نے کابینہ کی ایک ذیلی کمیٹی تشکیل دی اور ریزرویشن کے نظام میں پہلی اہم تبدیلیاں کیں، لیکن متعلقہ فائل کو ’’بااختیار حلقوں‘‘ نے روک رکھا ہے۔
این سی نے سوال کیا کہ کیا روح اللہ نے پارلیمنٹ میں یہ مسئلہ اٹھایا اور مرکز سے پوچھا کہ کابینہ کے فیصلے پر عمل درآمد کیوں روکا گیا ہے۔ پارٹی نے یہ بھی پوچھا کہ اسمبلی انتخابات اور منتخب حکومت کے قیام سے چھ ماہ قبل رکن پارلیمنٹ منتخب ہونے کے بعد کیا انہوں نے ایل جی کے خلاف ایک بھی احتجاج منظم کیا، اور کیا انہوں نے بھرتیوں اور امتحانات میں مبینہ دھاندلیوں اور ایک خطے کے نوجوانوں کو منظم طریقے سے ملازمتوں سے محروم کرنے کا معاملہ اٹھایا۔
پارٹی نے کہا کہ موجودہ حالات میں اپنی حدود سے بخوبی واقف ہونے کے باوجود اس کی حکومت نے ان مسائل پر اپنا لائحہ عمل احتیاط سے طے کیا ہے جو براہِ راست جموں و کشمیر کے لوگوں کے وجود اور شناخت سے جڑے ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ ریاستی درجے کی بحالی کی جدوجہد کبھی خصوصی حیثیت کی قیمت پر نہیں ہوگی، ورنہ حکومت کے پہلے ہی اقدام میں خصوصی حیثیت کا مسئلہ شامل نہ ہوتا اور وزیر اعلیٰ 15 اگست کی تقریر میں اس عزم کا اعادہ نہ کرتے۔ بیان کے مطابق: ’’جو کچھ ہم سے چھینا گیا ہے، اسے دوبارہ حاصل کرنے کے لیے سنجیدہ اور مدبرانہ سیاست کی ضرورت ہے، نہ کہ محض ڈرامے بازی کی۔‘‘ پارٹی نے کہا کہ ڈرامے بازی سے کچھ وقت کے لیے توجہ اور سوشل میڈیا پر لائکس مل سکتے ہیں، لیکن طویل مدت میں عوام کو کچھ حاصل نہیں ہوگا۔
این سی نے کہا کہ روح اللہ کا رکن پارلیمنٹ کے عہدے سے استعفیٰ دینے کا فیصلہ ’’بہت دیر سے‘‘ آیا ہے اور انہیں ایک سال پہلے ہی استعفیٰ دے دینا چاہیے تھا، جب انہوں نے مبینہ طور پر ان قوتوں کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا جو پارٹی کو ملنے والے عوامی مینڈیٹ سے بوکھلاہٹ کا شکار تھیں۔ پارٹی نے الزام لگایا کہ پارٹی میں رہتے ہوئے وہ بڈگام اسمبلی ضمنی انتخاب میں اس کی شکست کا سبب بننے میں اہم کردار ادا کرتے رہے، اور سوال کیا کہ اس وقت ان کا ضمیر کہاں تھا۔
بیان میں کہا گیا: ’’کیا یہ حیران کن نہیں کہ ایک ایسا شخص جس کا پورا سیاسی وجود نیشنل کانفرنس کا مرہونِ منت ہے، جس نے اپنی سیاست کا آغاز اسی جماعت سے کیا، تین مرتبہ رکنِ اسمبلی رہا، حکومت میں وزیر رہا، اسی جماعت کے ٹکٹ پر رکن پارلیمنٹ منتخب ہوا اور پارٹی کے ترجمانِ اعلیٰ کے عہدے پر فائز رہا، آج اس قدر بے باکی سے 25 سال بعد پارٹی میں تمام خامیاں تلاش کر رہا ہے؟‘‘
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستھان سماچار / ظہور حسین بٹ