مانیک شا سینٹر میں بحریہ کی سالانہ ہند ۔ بحرالکاہل علاقائی کانفرنس کا آغاز
- ہند بحرالکاہل خطے میں سائنس، ٹیکنالوجی اور تعلیمی تعاون پر تبادلہ خیال کیا جائے گا
مانیک شا سینٹر میں بحریہ کی سالانہ ہند ۔ بحرالکاہل علاقائی کانفرنس کا آغاز


نئی دہلی، 3 نومبر (ہ س)۔ بھارتی بحریہ کی سالانہ ہند بحرالکاہل علاقائی کانفرنس (آئی پی آر ڈی) منگل سے مانیک شا سینٹر میں شروع ہوگئی۔ نیشنل میری ٹائم فاؤنڈیشن کے اشتراک سے منعقد ہونے والی یہ تین روزہ کانفرنس ’ہند بحرالکاہل میں سائنس، ٹیکنالوجی اور تعلیمی تعاون‘ کے موضوع پر منعقد کی جا رہی ہے، جس میں سائنسی ترقی اور ادارہ جاتی شراکت داری کو عملی علاقائی تعاون میں تبدیل کرنے پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ پہلے دن سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں علاقائی تعاون کو فروغ دینے اور تعلیمی اشتراک کے ذریعے معلومات کے تبادلے کے لیے متعدد قابلِ عمل پالیسی تجاویز پیش کی گئیں۔

پروگرام کے پہلے دن کی گفتگو میں اہم سوال یہ تھا کہ ہند بحرالکاہل خطے میں سائنسی علم اور تکنیکی جدت کو طویل مدتی ادارہ جاتی تعاون، مضبوط بحری صلاحیتوں اور مشترکہ علاقائی استحکام میں کس طرح تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ کانفرنس کی کارروائی کا آغاز نیشنل میری ٹائم فاؤنڈیشن کے چیئرمین اور سابق بحری سربراہ ایڈمرل دنیش کے ترپاٹھی کے افتتاحی خطاب سے ہوا۔ اس کے بعد وائس ایڈمرل بسواجیت داس گپتا (ریٹائرڈ) نے کلیدی خطاب کیا۔

آئی پی آر ڈی کے پہلے سیشن کا موضوع ’تعلیمی نیٹ ورک، تحقیق اور انسانی وسائل کی ترقی‘ تھا۔ اس سیشن کی قیادت بحریہ کے سابق ڈپٹی چیف آف نیول اسٹاف وائس ایڈمرل سنجے مہندرُو (ریٹائرڈ) نے کی اور اس میں فرانس، انڈونیشیا، جاپان اور مالدیپ کے نقطۂ نظر بھی شامل کیے گئے۔

سیشن میں ہند بحرالکاہل کے ساحلی شہروں کی یونیورسٹیوں کے درمیان تعاون سمیت بحر ہند میں ایک وسیع تعلیمی نیٹ ورک کے قیام کے امکانات پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ اس کے علاوہ بحر ہند میں سماجی علوم کے تحقیقی نیٹ ورک کے امکانات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ اس سیشن میں تھنک ٹینکس، یونیورسٹیوں اور حکومتوں کے درمیان قریبی روابط کی اہمیت پر بھی گفتگو ہوئی۔ سیشن کے اختتام پر ’سی بلائنڈنیس اینڈ میری ٹائم ہیریٹیج اِن انڈیا‘ کے عنوان سے ایک مونوگراف بھی جاری کیا گیا۔

پروگرام کے پہلے دن کا دوسرا پیشہ ورانہ سیشن ’بحری صورتحال سے متعلق آگاہی اور اہم بحری بنیادی ڈھانچے کا تحفظ‘ کے موضوع پر مرکوز رہا۔ اس میں سمندری تجارت اور سمندر کے نیچے موجود اہم بنیادی ڈھانچے کی حفاظت سے متعلق موجودہ بحری چیلنجز کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس سیشن کی قیادت بحریہ کے سابق ڈپٹی چیف وائس ایڈمرل ترون سوبتی (ریٹائرڈ) نے کی۔

اس میں ہند بحرالکاہل پارٹنرشپ فار میری ٹائم ڈومین اویئرنیس سے وابستہ مواقع اور چیلنجز پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ خاص طور پر معلومات کے عملی تبادلے کی ضرورت اور زیرِ آب سرگرمیوں سے متعلق آگاہی کے لیے ایک مشترکہ ہند بحرالکاہل نظام کی تیاری پر گفتگو ہوئی۔

دونوں سیشنز میں اس بات پر تبادلۂ خیال کیا گیا کہ سمندری معلومات کے تبادلے کو مضبوط بنا کر، اہم بنیادی ڈھانچے کا تحفظ کرکے، سمندری سائنسی معلومات تک رسائی بہتر بنا کر اور موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کے لیے تکنیکی نظام اور سائنسی شراکت داری کو عملی طور پر کس طرح مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔

اس کے علاوہ ’سہیوگ کا سمواد‘ پروگرام کے تحت سری لنکا کی ہائی کمشنر محترمہ مہیشنی کولون، فلپائن کے سفارت خانے کی افسر جوسیل ایف اگناسیو اور مملکت ناروے کی سفیر مے ایلین اسٹینر کے ساتھ بھی بات چیت کی گئی۔ اس گفتگو کی میزبانی نیشنل میری ٹائم فاؤنڈیشن کے ڈائریکٹر جنرل وائس ایڈمرل پردیپ چوہان (ریٹائرڈ) نے کی۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستھان سماچار / عبدالواحد


 rajesh pande