
نئی دہلی، 3 نومبر (ہ س)۔ دہلی ہائی کورٹ نے دہشت گردی کی مالی معاونت کے معاملے میں ملزم رکن پارلیمنٹ انجینئر رشید کی ضمانت کی عرضی پر سماعت کے بعد اپنا فیصلہ محفوظ رکھ لیا ہے۔ جسٹس پرتیبھا سنگھ کی بنچ نے فیصلہ محفوظ رکھنے کا حکم دیا۔ سماعت کے دوران انجینئر رشید کی ضمانت کی عرضی کی مخالفت کرتے ہوئے قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) نے کہا کہ یہ معاملہ دہشت گردی کی مالی معاونت سے متعلق ہے۔ این آئی اے نے الزام لگایا کہ انجینئر رشید نے استغاثہ کے بعض گواہوں کو متاثر کیا ہے۔ ایجنسی نے کہا کہ استغاثہ کے دو محفوظ گواہ اپنے بیانات سے منحرف ہوگئے ہیں۔
سماعت کے دوران انجینئر رشید کی جانب سے پیش وکیل نے عدالت کو بتایا کہ وہ اگست 2019 سے غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ (یو اے پی اے) کے تحت حراست میں ہیں۔ انہوں نے مارچ 2026 کے سپریم کورٹ کے ایک حکم کا بھی حوالہ دیا، جس میں اسی طرح کے حالات میں شریک ملزم اور علیحدگی پسند رہنما شبیر احمد شاہ کو ضمانت دی گئی تھی۔ انہوں نے برابری کی بنیاد پر انجینئر رشید کو بھی ضمانت دینے کا مطالبہ کیا۔ انجینئر رشید کے وکیل نے مقدمے کی سماعت میں تاخیر کا حوالہ دیتے ہوئے بھی اپنے موکل کو ضمانت پر رہا کرنے کی درخواست کی۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستھان سماچار / عبدالواحد