ڈھاکہ کے صنعتی علاقے میرپور میں مزدوروں کے احتجاج نے تشدد کی شکل اختیار کی ؛ پولیس نے طاقت کا استعمال کیا
ڈھاکہ (بنگلہ دیش)، 3 نومبر (ہ س): بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ کا صنعتی علاقہ میرپور بدامنی کی لپیٹ میں ہے۔ گزشتہ تین دنوں سے کپڑوں کی صنعت سے وابستہ مزدور احتجاج کر رہے ہیں اور کم از کم ماہانہ اجرت 30,000 ٹکا مقرر کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ مقام
ڈھاکہ کے صنعتی علاقے میرپور میں مزدوروں کا پرتشدد احتجاج ؛ پولیس نے طاقت کا استعمال کیا


ڈھاکہ (بنگلہ دیش)، 3 نومبر (ہ س): بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ کا صنعتی علاقہ میرپور بدامنی کی لپیٹ میں ہے۔ گزشتہ تین دنوں سے کپڑوں کی صنعت سے وابستہ مزدور احتجاج کر رہے ہیں اور کم از کم ماہانہ اجرت 30,000 ٹکا مقرر کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ مقامی رہائشی خوف کے عالم میں زندگی گزار رہے ہیں۔ آج مزدوروں اور پولیس کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں، جس کے بعد صورتحال کو قابو میں لانے کے لیے پولیس کو طاقت کا استعمال کرنا پڑا۔ اس کے باوجود، کشیدگی بدستور برقرار ہے۔

’ڈھاکہ ٹریبیون‘ اور ’بنگلہ ٹریبیون‘ کی رپورٹ کے مطابق، مزدوروں اور پولیس کے درمیان بار بار ہونے والی جھڑپوں اور تشدد کے مناظر نے علاقے کے کچھ حصوں کو میدانِ جنگ میں تبدیل کر دیا ہے۔ میرپور-10، میرپور-2، میرپور-14 اور میرپور-11 میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔ لوگ انتہائی مجبوری کے بغیر گھروں سے باہر نکلنے سے گریز کر رہے ہیں۔ میرپور کے علاقے ’پرابی‘ کے رہائشی ابو حنیف نے کہا، اتوار سے یہ علاقہ کسی جنگ کے میدان جیسا محسوس ہو رہا ہے۔ صبح ابھی ہم ٹھیک سے بیدار بھی نہیں ہو پاتے کہ دھماکے کی زوردار آوازیں اور آنسو گیس کی تیز بو زندگی کو ناقابلِ برداشت بنا دیتی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ آج صبح سے دوپہر تک کشیدگی عروج پر رہی، اور مزدور اور پولیس کے سڑکوں پر جھڑپ ہوتی رہی ۔ ابو نے کہا، بہت سے لوگ باہر نکلنے سے ڈر رہے ہیں۔ ہمیں اپنے بچوں کو اسکول بھیجنے کی بھی فکر ہے۔ شریف الاسلام نے مزید کہا کہ عام شہری خوف کی وجہ سے گھروں سے نکلنے سے گریز کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا، پولیس مظاہرین کو گرفتار کر رہی ہے اور گلیوں میں داخل ہو کر لوگوں سے پوچھ گچھ کر رہی ہے، جس کی وجہ سے پورے علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔

میرپور-2 کے رہائشی کوثر نے بتایا کہ جاری احتجاج اور جھڑپوں کے درمیان کسی کے لیے بھی پرسکون زندگی گزارنا ناممکن ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا، مسلسل جھڑپوں کی وجہ سے ہر کوئی خوف کے سائے میں جی رہا ہے۔ گھریلو خاتون شریفہ بیگم نے کہا، ہمیں مسلسل خوف کے عالم میں گھر سے باہر نکلنا پڑتا ہے۔ کل میں ایک بار باہر گئی تھی، لیکن مجھے فوراً واپس گھر لوٹنا پڑا۔ تب سے میں باہر نہیں جا سکی ہوں۔ ہر طرف خوف کا ماحول ہے۔

علاقے میں چائے کے اسٹال آج بند پائے گئے۔ مقامی رہائشیوں نے بتایا کہ سیکیورٹی اداروں نے دکانیں بند رکھنے کی ہدایات جاری کی تھیں۔ سڑک کے کنارے واقع کئی بڑی دکانیں بھی بند تھیں۔ گارمنٹ انڈسٹری کے کارکن کئی دنوں سے احتجاج کر رہے ہیں اور کم از کم ماہانہ اجرت 30,000 ٹکا مقرر کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ یہ تحریک اتوار کے روز اس وقت پرتشدد ہو گئی جب مظاہرین نے پولیس کی ایک گاڑی کو آگ لگا دی۔

منگل کی صبح، میرپور کے مختلف مقامات پر پولیس اور کارکنوں کے درمیان دوبارہ شدید جھڑپیں ہوئیں۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کے گولے اور ساؤنڈ گرینیڈ استعمال کیے۔ اطلاعات کے مطابق کارکنوں نے بھی پولیس پر حملہ کیا۔ پولیس کے مطابق، پیر کے روز بدامنی پھیلانے کے الزام میں تقریباً چھ افراد کو گرفتار کیا گیا۔ گزشتہ دو دنوں کے دوران ہونے والی جھڑپوں کے سلسلے میں گیارہ مقدمات درج کیے گئے ہیں، جن میں 10,000 سے زائد افراد کو ملزم بنایا گیا ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستھان سماچار / عبدالواحد


 rajesh pande