
کولکاتا، 3 نومبر (ہ س)۔ سابق مرکزی وزیر اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی قومی جنرل سکریٹری اسمرتی ایرانی نے منگل کو کولکاتا میں منعقدہ پریس کانفرنس میں کہا کہ کانگریس کی قیادت انتخابی شکست پر خود احتسابی کرنے کے بجائے آئینی اداروں، خصوصاً الیکشن کمیشن آف انڈیا کو کمزور کرنے میں مصروف ہے۔ انہوں نے ووٹر لسٹوں کی خصوصی تفصیلی نظرثانی (ایس آئی آر) کے عمل، اپوزیشن اتحاد کے حالیہ سیاسی پروگراموں اور ملک کے آئینی و جمہوری اداروں پر اپوزیشن کی جانب سے کیے جانے والے مبینہ حملوں پر سخت ردعمل ظاہر کیا۔
ایرانی نے کہا کہ ووٹر لسٹوں کی خصوصی گہری نظرثانی ایک منظم اور شفاف عمل ہے۔ ملک کے ہر بوتھ پر بوتھ لیول افسران نے مقررہ ضابطوں کے مطابق ہر ووٹر کے گھر کئی مرتبہ جا کر تصدیق کی ہے۔ اس عمل میں اپوزیشن جماعتوں کے تقریباً 20 لاکھ بوتھ لیول ایجنٹ بھی شامل تھے اور پوری کارروائی ان کی موجودگی میں مکمل ہوئی۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر اپوزیشن اس عمل کی شفافیت پر سوال اٹھاتی ہے تو اسے اپنے ہی بوتھ لیول ایجنٹوں کے کردار پر بھی سوال اٹھانا چاہیے۔ ایرانی نے دعویٰ کیا کہ تقریباً 90 کروڑ ووٹروں میں سے 90 فیصد کی تصدیق کا کام مکمل ہو چکا ہے۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اگر مغربی بنگال میں یہ عمل صحیح طریقے سے مکمل ہوتا تو ووٹر لسٹ سے 30 لاکھ سے زیادہ اضافی نام حذف کیے جاتے۔
کانگریس کی انتخابی ناکامیوں کے لیے ایس آئی آر کو ذمہ دار ٹھہرانے کو مکمل طور پر بے بنیاد قرار دیتے ہوئے ایرانی نے کہا کہ موجودہ ایس آئی آر کا عمل شروع ہونے سے پہلے ہی کانگریس 57 اسمبلی انتخابات ہار چکی تھی۔ انہوں نے کہا کہ بدعنوانی اور کمزور قیادت کی وجہ سے کانگریس مسلسل انتخابی شکست سے دوچار ہو رہی ہے۔ پہلے وہ ای وی ایم کو قصوروار ٹھہراتی تھی اور اب الیکشن کمیشن کو نشانہ بنا رہی ہے۔
دہلی میں اپوزیشن کی حالیہ ریلی پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جو لوگ جمہوری طریقے سے حکومت تبدیل کرنے کے بجائے افراتفری کا ماحول پیدا کرنا چاہتے ہیں، ان کے ارادوں پر سوال اٹھنا فطری ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اپوزیشن رہنماؤں کے سیاسی پروگرام کے نام پر قومی دارالحکومت میں 118 سے زیادہ پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔
بیرونی حمایت سے متعلق الزامات کے تناظر میں انہوں نے کانگریس رہنما منی شنکر ایئر کے پاکستان دورے اور راہل گاندھی کی جانب سے لندن میں دیے گئے بیانات کا ذکر کرتے ہوئے کانگریس سے جواب طلب کیا۔
اپوزیشن کے سیاسی دوہرے معیار پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دہلی میں ممتا بنرجی، کانگریس اور بائیں بازو کی جماعتیں ایک ہی پلیٹ فارم پر نظر آتی ہیں، لیکن مغربی بنگال میں ان کے درمیان ایسی یکجہتی دکھائی نہیں دیتی۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستھان سماچار / عبدالواحد