اقوام متحدہ کی موسمیاتی تبدیلی کانفرنس میں ہندوستان مساوات کے اصول پر مرکوز موسمیاتی اقدامات پرزور دے گا
نئی دہلی، 3 نومبر (ہ س)۔ مرکزی وزیر ماحولیات، جنگلات و موسمیاتی تبدیلی بھوپیندر یادو نے کہا کہ بھارت اقوام متحدہ کی موسمیاتی تبدیلی کانفرنس ( سی او پی-31 ) میں حل پر مبنی اور مساوات کے اصول پر مرکوز موسمیاتی اقدامات کو آگے بڑھائے گا۔ ترکیہ کے شہر ا
اقوام متحدہ کی موسمیاتی تبدیلی کانفرنس میں ہندوستان مساوات کے اصول پر مرکوز موسمیاتی اقدامات پراپنا موقف پیش کرے گا


نئی دہلی، 3 نومبر (ہ س)۔ مرکزی وزیر ماحولیات، جنگلات و موسمیاتی تبدیلی بھوپیندر یادو نے کہا کہ بھارت اقوام متحدہ کی موسمیاتی تبدیلی کانفرنس ( سی او پی-31 ) میں حل پر مبنی اور مساوات کے اصول پر مرکوز موسمیاتی اقدامات کو آگے بڑھائے گا۔ ترکیہ کے شہر انطالیہ میں 9 سے 20 نومبر تک منعقد ہونے والی اس کانفرنس میں حکومت ہند کی ترجیحات میں قابلِ پیش گوئی موسمیاتی مالیات، تخفیف اور موافقت سے متعلق نتائج، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور منصفانہ تبدیلی شامل ہوں گی۔ بھارت کی کوشش ہوگی کہ کانفرنس میں صرف وعدوں تک محدود رہنے کے بجائے ان پر مؤثر عمل درآمد پر زور دیا جائے۔

منگل کو میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے بھوپیندر یادو نے کہا کہ بھارت کاپ-31 میں عالمی جنوب کے ممالک کے لیے عملی حل پیش کرے گا۔ صلاحیت سازی، معلومات کا تبادلہ اور جغرافیائی حالات کے مطابق حل بھارت کے نقطۂ نظر کے اہم ستون ہوں گے۔ اس سمت میں بھارت جی-77 اور چین، ایل ایم ڈی سی اور دیگر گروپوں کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ بھارت موسمیاتی کانفرنس کے مقاصد اور پیرس معاہدے کے اہداف حاصل کرنے کے لیے عالمی کوششوں میں مثبت تعاون دینے کے تئیں پرعزم ہے۔ موسمیاتی مالیات بھارت کی اہم ترجیح ہوگی۔ بھارت کانفرنس میں موسمیاتی مالیات کے لیے ایک ورک پروگرام شروع کرنے کی خاطر فیصلہ لینے کا مطالبہ کرے گا۔

وزیر نے کہا کہ ترقی یافتہ ممالک پر پیرس معاہدے کے آرٹیکل 9.1 کے تحت موسمیاتی مالیات فراہم کرنے کی ذمہ داری ہے۔ یہ مالی امداد قابلِ پیش گوئی، بنیادی طور پر سرکاری اور رعایتی ہونی چاہیے، تاکہ ترقی پذیر ممالک پر قرض کا اضافی بوجھ نہ پڑے۔

بھوپیندر یادو نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات میں کمی اور عالمی جائزے کا عمل ممالک کی قیادت میں، باہمی تعاون پر مبنی اور غیر تعزیری ہونا چاہیے۔ وزیر نے کہا کہ منصفانہ تبدیلی کو موسمیاتی انصاف، ترقی کے حق اور سستی توانائی تک رسائی کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔

ٹیکنالوجی کے معاملے میں بھارت ترقی یافتہ ممالک کی جانب سے ٹیکنالوجی کی منتقلی سے متعلق ذمہ داری کو نمایاں طور پر اٹھائے گا۔ لاگت، دانشورانہ ملکیت کے حقوق اور تجارت سے متعلق رکاوٹوں کو دور کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا جائے گا۔ کاربن مارکیٹوں میں شرکت رضاکارانہ رہنی چاہیے۔ بھارت یہ بھی یقینی بنانے کی کوشش کرے گا کہ کاپ-31 کی صدارت کے ایجنڈے کے تحت رضاکارانہ اقدامات مذاکراتی عمل سے الگ رہیں اور عالمی اہداف ممالک کے قومی حالات کے مطابق ہوں۔

زراعت، غذائی تحفظ اور چھوٹے کسانوں کی روزی روٹی پر زور

بھارت کانفرنس میں زرعی موافقت، غذائی تحفظ اور چھوٹے و حاشیائی کسانوں کی روزی روٹی کے درمیان تعلقات کو نمایاں طور پر اٹھائے گا۔

بھوپیندر یادو نے بتایا کہ بھارت انطالیہ میں تعمیری کردار ادا کرنے اور مختلف فریقوں کے درمیان اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کرے گا۔ بھارت ایسے متوازن نتائج کے لیے کام کرے گا، جو موسمیاتی وعدوں کو مؤثر عمل درآمد اور ضروری تعاون سے جوڑیں۔

انہوں نے کہا کہ ایشیا بحرالکاہل علاقائی گروپ کا صدر منتخب ہونے کے بعد بھارت نے 2030 تک 2.6 کروڑ ہیکٹیئر سے زیادہ اراضی کو بحال کرنے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت نے خشک سالی سے نمٹنے کے لیے صرف ہنگامی ردعمل کے بجائے خشک سالی برداشت کرنے کی صلاحیت پیدا کرنے کی حکمت عملی اپنانے پر زور دیا ہے۔ اس کے تحت سائنسی بنیادوں پر اور مقامی برادریوں کی شمولیت سے چراگاہوں کی بحالی اور مویشی پالنے والوں کو تحفظ کے کاموں میں شراکت دار بنانے کی وکالت کی گئی ہے۔ بھارت نے گھاس کے میدانوں اور دیگر کھلے قدرتی ماحولیاتی نظام سے متعلق اپنی پہلی رہنما کتاب بھی جاری کی ہے۔

وزیر نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی، حیاتیاتی تنوع کے تحفظ اور زمین کی بحالی سے متعلق تینوں بین الاقوامی عمل میں بھارت کی شرکت مساوات، قومی حالات، سائنسی حل اور ترقی پذیر ممالک کے لیے مناسب وسائل کی دستیابی کے تئیں اس کے عزم کی عکاسی کرتی ہے۔

اس موقع پر وزارت ماحولیات کے سکریٹری نریندر بھوشن، ایڈیشنل سکریٹری ڈاکٹر اماندیپ گرگ اور اشوتوش اگنی ہوتری، جوائنٹ سکریٹری رجت اگروال اور ادے چودھری، جنگلات کے انسپکٹر جنرل ڈاکٹر کلیمنٹ بین سمیت وزارت کے سینئر افسران موجود تھے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستھان سماچار / عبدالواحد


 rajesh pande