اے ایم یو طلبہ یونین کی فائنل اسپیچ میں امیدواروں کی گرجدار تقریریں، ہزاروں طلبہ کی شرکت
علی گڑھ، 03 نومبر (ہ س)۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی طلبہ یونین کے انتخابات کے سلسلے میں آج یونین ہال میں فائنل اسپیچ پروگرام کا انعقاد کیا گیا، جس میں طلبہ و طالبات کی بڑی تعداد نے شرکت کرتے ہوئے صدر، نائب صدر اور سکریٹری کے عہدوں کے امیدواروں کی تقاری
الیکشن


علی گڑھ، 03 نومبر (ہ س)۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی طلبہ یونین کے انتخابات کے سلسلے میں آج یونین ہال میں فائنل اسپیچ پروگرام کا انعقاد کیا گیا، جس میں طلبہ و طالبات کی بڑی تعداد نے شرکت کرتے ہوئے صدر، نائب صدر اور سکریٹری کے عہدوں کے امیدواروں کی تقاریر سنیں۔ اے ایم یو میں فائنل اسپیچ کی ایک طویل روایت رہی ہے اور طلبہ یونین کے انتخابات میں اسے غیر معمولی اہمیت حاصل ہوتی ہے۔ اس موقع پر امیدواروں کو اپنی انتخابی ترجیحات، طلبہ کے مسائل اور یونیورسٹی کے مستقبل کے حوالے سے اپنا موقف پیش کرنے کا موقع ملا۔

انتخابی اعداد و شمار کے مطابق صدر کے عہدے کے لیے 10، نائب صدر کے لیے 7 اور سکریٹری کے عہدے کے لیے 3 امیدوار میدان میں تھے۔ تاہم فائنل اسپیچ پروگرام میں صدر اور نائب صدر کے عہدے کے ایک ایک امیدوار نے شرکت نہیں کی۔ پروگرام کی صدارت اے ایم یو کے سابق طلبہ رہنما ڈاکٹر نظر عباس نے کی، جبکہ نظامت کے فرائض ابتدا میں ڈاکٹر احمد مجتبیٰ نے انجام دیے اور بعد میں ڈاکٹر شارق عقیل نے اپنے مخصوص انداز میں نظامت کی ذمہ داری سنبھالی۔

اس موقع پر اے ایم یو کے چیف الیکشن آفیسر پروفیسر جاوید طالب، اے ایم یو اسٹوڈنٹس یونین کے خزانچی پروفیسر نفیس احمد انصاری، الیکشن کمیٹی کے کنوینر اور جوائنٹ کنوینر سمیت دیگر متعلقہ ذمہ داران بھی موجود رہے۔

فائنل اسپیچ کے دوران امیدواروں نے طلبہ کے بنیادی مسائل کے ساتھ ساتھ یونیورسٹی کی تاریخی شناخت، سرسید احمد خاں کے مشن اور علی گڑھ تحریک کو آگے بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔ مختلف امیدواروں نے کہا کہ اے ایم یو صرف ایک تعلیمی ادارہ نہیں بلکہ ملک میں تعلیم، سماجی بیداری اور قومی یکجہتی کی ایک اہم علامت ہے۔ اس لیے طلبہ یونین کی ذمہ داری ہے کہ وہ یونیورسٹی کی روایات اور طلبہ کے حقوق کے تحفظ کے لیے مضبوط آواز بنے۔

تقاریر کے دوران طلبہ نے 15 دسمبر کی رات پیش آنے والے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے یونیورسٹی میں طلبہ کے تحفظ اور انتظامی رویے پر سوالات اٹھائے۔ اس کے علاوہ 2025 میں فیس میں اضافے کے خلاف طلبہ کی تحریک اور اس سے متعلق مسائل کو بھی انتخابی تقریروں میں نمایاں جگہ دی گئی۔ امیدواروں نے کہا کہ طلبہ کی تعلیمی مشکلات، فیس، ہاسٹل، بنیادی سہولیات اور انتظامی مسائل کو حل کرانا ان کی اولین ترجیحات میں شامل ہونا چاہیے۔

کئی امیدواروں نے یونیورسٹی کی موجودہ انتظامیہ اور سابق ذمہ داران کی پالیسیوں پر بھی تنقید کی۔ ان کی تقریروں میں وائس چانسلر پروفیسر نعیمہ خاتون، پرو وائس چانسلر پروفیسر محمد محسن خان، کنٹرولر پروفیسر مجیب اللہ زبیری، سابق پراکٹر پروفیسر محمد نوید خان اور اے ایم یو کے سابق وائس چانسلر پروفیسر طارق منصور کے دور اور فیصلوں کا حوالہ دیا گیا۔ امیدواروں نے انتظامی فیصلوں پر طلبہ کے نقطۂ نظر سے نظرثانی کی ضرورت پر زور دیا۔

تقاریر میں یونیورسٹی سے باہر ملک کے مختلف حصوں میں پیش آنے والے سماجی اور سیاسی واقعات کا بھی ذکر کیا گیا۔ امیدواروں نے کہا کہ مساجد کے تحفظ سے لے کر شاہین باغ میں اٹھائی گئی آوازوں تک، ہر معاملے پر طلبہ کو اپنی سماجی ذمہ داری کا احساس ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اے ایم یو کے طلبہ کی آواز صرف کیمپس تک محدود نہیں رہنی چاہیے بلکہ ملک بھر میں انصاف، مساوات اور آئینی حقوق کے لیے بھی بلند ہونی چاہیے۔

ملکی سیاست پر گفتگو کرتے ہوئے سکریٹری کے عہدے کے اُمیدوار احمد فراز رضی نے آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کے سامنے ہندو مسلم اتحاد اور قومی یکجہتی کے حوالے سے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی تاریخی اہمیت کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور بھائی چارے کی مثال پیش کرنے والے اداروں میں اے ایم یو کا مقام نمایاں ہے۔ اس کے ساتھ ہی اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی بلڈوزر پالیسی پر بھی سخت تنقید کی گئی۔ احمد فراز نے یونیورسٹی میں وزیر اعلیٰ کے دورے کے موقع پر پیدا ہونے والی صورتحال اور طلبہ کی نقل و حرکت سے متعلق پابندیوں کا معاملہ بھی اٹھایا۔

فائنل اسپیچ میں کیمپس میں طالبات کے تحفظ اور انہیں بہتر تعلیمی ماحول فراہم کرنے کا مسئلہ بھی اہم موضوع رہا۔ امیدواروں نے طالبات کے لیے مکمل تحفظ، بہتر سہولیات اور ایک مؤثر شکایتی نظام کی ضرورت پر زور دیا۔ سکریٹری کے ہی دوسرے اُمیدوار محمد حمدان نے پروکٹر ٹیم کی مبینہ زیادتیوں، طلبہ کے ساتھ ناروا سلوک اور طلبہ رہنماؤں کے خلاف درج مقدمات کا معاملہ بھی اٹھایا۔ انھوں نے اعلان کیا کہ اگر وہ کامیاب ہوتے ہیں تو طلبہ رہنماؤں اور دیگر طلبہ کے خلاف درج مقدمات کی واپسی کے لیے سنجیدہ کوششیں کی جائیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ طلبہ کے جمہوری اور پرامن احتجاج کو دبانے کے بجائے ان کے مسائل سننے اور حل کرنے کا راستہ اختیار کیا جانا چاہیے۔

کئی امیدواروں نے اپنی تقریروں میں کہا کہ سرسید احمد خاں نے اس تعلیمی چمن کو اپنی زندگی اور جدوجہد سے پروان چڑھایا ہے، لہٰذا موجودہ نسل کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس کی تاریخی شناخت، تعلیمی معیار اور نظریاتی ورثے کو محفوظ رکھے۔ انہوں نے کہا کہ اے ایم یو کی ترقی اور طلبہ کے حقوق کے تحفظ پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

انتخابی تقریروں کے دوران ان افراد کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا جن کے بارے میں امیدواروں کا الزام تھا کہ وہ طلبہ کے مفادات کے بجائے انتظامیہ کی مرضی کے مطابق کام کرتے رہے ہیں۔ امیدواروں نے کہا کہ طلبہ یونین کی بحالی کے بعد یونیورسٹی کے معاملات میں جواب دہی کو یقینی بنایا جائے گا اور طلبہ کے حقوق سے متعلق ہر معاملے پر متعلقہ ذمہ داران سے جواب طلب کیا جائے گا۔

مجموعی طور پر فائنل اسپیچ پروگرام میں طلبہ یونین کے انتخابات کا جوش و خروش نمایاں رہا۔ امیدواروں نے اپنی تقاریر کے ذریعے طلبہ کو اپنے حق میں ووٹ دینے کی اپیل کی، جبکہ ہزاروں طلبہ و طالبات کی موجودگی نے اس انتخابی سرگرمی کو مزید اہم بنا دیا۔ اب طلبہ کی نظریں 5 نومبر کو ہونے والی ووٹنگ کے بعد آنے والے انتخابی نتائج پر مرکوز ہیں، جن سے یہ طے ہوگا کہ آئندہ مدت میں اے ایم یو طلبہ یونین کی قیادت کس کے ہاتھ میں ہوگی۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستھان سماچار / سید کامران علی گڑھ


 rajesh pande