روح اللہ نے این سی سے استعفیٰ دیا، بڈگام میں ’تحریک‘ کا اعلان
روح اللہ نے این سی سے استعفیٰ دیا، بڈگام میں ’تحریک‘ کا اعلان بڈگام، 3 نومبر (ہ س)۔ سری نگر لوک سبھا کے رکن آغا سید روح اللہ مہدی نے منگل کو نیشنل کانفرنس (این سی) کی بنیادی رکنیت کے ساتھ ساتھ اپنی پارلیمانی نشست سے بھی استعفیٰ دینے کا اعلان کردیا
Aga Ruhullah


روح اللہ نے این سی سے استعفیٰ دیا، بڈگام میں ’تحریک‘ کا اعلان

بڈگام، 3 نومبر (ہ س)۔ سری نگر لوک سبھا کے رکن آغا سید روح اللہ مہدی نے منگل کو نیشنل کانفرنس (این سی) کی بنیادی رکنیت کے ساتھ ساتھ اپنی پارلیمانی نشست سے بھی استعفیٰ دینے کا اعلان کردیا، یوں انہوں نے 3 نومبر کو استعفیٰ دینے کا اپنا وعدہ پورا کردیا۔ روح اللہ نے یہ اعلان اپنے والد مرحوم آغا سید مہدی کی برسی کے موقع پر یہاں بہشتِ زہرا پارک میں منعقدہ اجتماع میں کیا اور اجتماع کے سامنے پارٹی سے استعفے کے خط پر دستخط کیے۔ انہوں نے کہا، ’’میں 2 بج کر 40 منٹ تک نیشنل کانفرنس کے ساتھ تھا، اب میں آزاد ہوں۔ آج میں اپنی آزادی کے اعلان پر دستخط کر رہا ہوں۔‘‘

انہوں نے ایک ’’تحریک‘‘ شروع کرنے کا بھی اعلان کیا اور بالخصوص نوجوانوں سے ان کا ساتھ دینے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا: ’’مجھے ایماندار نوجوان دیں، میں ہر جگہ جاؤں گا۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ ’’آپ کا یہاں آنا کروڑوں لوگوں کے آنے کے برابر ہے۔‘‘ صبح ہی سے مختلف علاقوں سے لوگ بڈگام پہنچنا شروع ہوگئے تھے اور پارک میں بڑی تعداد میں لوگ جمع ہوگئے۔

روح اللہ، جنہوں نے 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں این سی کے ٹکٹ پر سری نگر نشست سے کامیابی حاصل کی تھی، گزشتہ کئی ماہ سے پارٹی قیادت سے کھلے عام ناراضی کا اظہار کر رہے تھے۔ ان کے اختلافات بالخصوص دفعہ 370 کی بحالی، ریزرویشن، تعلیم یافتہ نوجوانوں کے لیے روزگار اور سیاسی قیدیوں سمیت مختلف معاملات پر رہے ہیں۔ انہوں نے اگست میں اعلان کیا تھا کہ وہ 3 نومبر کو پارٹی اور لوک سبھا دونوں سے استعفیٰ دیں گے۔ یہ اعلان این سی صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی جانب سے انہیں یہ چیلنج دیے جانے کے چند روز بعد سامنے آیا تھا کہ اگر انہیں یقین ہے کہ ووٹروں نے ذاتی طور پر ان کی حمایت کی ہے تو وہ استعفیٰ دے کر عوام کے پاس واپس جائیں۔

منگل کو اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے روح اللہ نے این سی پر انتخابی مہم کے دوران عوام سے کیے گئے وعدے پورے نہ کرنے کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ این سی نے خود کو عوام کی عزت و وقار کی محافظ کے طور پر پیش کیا تھا۔ انہوں نے کہا: ’’آپ نے کہا تھا کہ آپ دفعہ 370 کے محافظ ہیں، لیکن 5 اگست 2019 کو اس وقار کو دفن کردیا گیا۔‘‘ روح اللہ نے کہا کہ پارٹی نے انہیں لوک سبھا انتخابات لڑنے پر آمادہ کیا تھا اور انہوں نے اس شرط پر رضامندی ظاہر کی تھی کہ اگر پارٹی واقعی عوام کی عزت و وقار کے لیے جدوجہد کی خواہاں ہے تو وہ اس کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔

وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کو براہِ راست نشانہ بناتے ہوئے روح اللہ نے کہا کہ وہ بارہا واضح کرچکے ہیں کہ ان کی جدوجہد محض ریاستی درجے کے لیے نہیں بلکہ آئینی تحفظ اور عزت و وقار کے لیے ہے۔ انہوں نے 200 یونٹ مفت بجلی دینے کے وعدے کا بھی حوالہ دیا اور حکومت پر اپنے وعدے پورے نہ کرنے کا الزام لگایا۔ عمر عبداللہ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا: ’’جو لوگ کرسی کھو دیتے ہیں وہ افسردہ ہوجاتے ہیں، لیکن یہاں ہم ایک کرسی چھوڑ رہے ہیں اور خوش ہیں۔ آپ جس کرسی پر بیٹھے ہیں، وہ آپ اور ہمارے دونوں کے لیے دکھ کا باعث ہے۔‘‘ روح اللہ نے کہا کہ عمر کو اقتدار بچانے کے لیے اپنی ٹوپی اور عزت دوسروں کے قدموں میں رکھنے کی ضرورت نہیں تھی۔

انہوں نے الزام لگایا کہ 2024 میں اقتدار میں آنے کے بعد عمر عبداللہ نے کہا تھا کہ پارٹی کو بی جے پی سے دفعہ 370 کی بحالی کا مطالبہ نہیں کرنا چاہیے، حالانکہ اسی جماعت نے دفعہ 370 کو منسوخ کیا تھا۔ روح اللہ نے کہا: ’’ہم نے آپ کو عزت و وقار کے لیے لڑنے کی طاقت دی تھی۔‘‘ انہوں نے حکومت پر ریزرویشن سے متعلق اپنے مطالبات اٹھانے والے طلبہ کو ڈرانے دھمکانے اور یومیہ اجرت پر کام کرنے والے ملازمین اور جیلوں میں بند نوجوانوں کے مسائل نظرانداز کرنے کا الزام بھی عائد کیا۔ انہوں نے کہا: ’’آپ صرف اس لیے وہاں ہیں کہ آپ وزیر اعلیٰ کے پروٹوکول سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ آپ نے ہماری عزت و وقار کا سودا کیا ہے۔ ہم آپ کو تخت سے اتار دیں گے۔‘‘

روح اللہ نے این سی پر انتخابی فائدے کے لیے انہیں استعمال کرنے کا بھی الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا: ’’آپ نے مجھے استعمال کیا۔ میرے کردار میں کوئی فریب نہیں تھا۔ پارلیمانی انتخابات میں جو اعتماد میں نے حاصل کیا، آپ نے اسے اسمبلی انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا۔‘‘ انہوں نے مزید کہا: ’’آپ نے جھوٹ کے لیے غلط آدمی کو استعمال کیا۔ میں نہ جھوٹ کا حصہ بن سکتا ہوں اور نہ اسے قائم رہنے دے سکتا ہوں۔ انتخابات کے دوران آپ نے عوام سے جھوٹ بولا۔‘‘

خود کو ایک ایسے شہید کا بیٹا قرار دیتے ہوئے جس نے عوام کے لیے اپنی جان قربان کی، روح اللہ نے کہا کہ انہیں ’’تخت‘‘ پر بیٹھنے کی کوئی خواہش نہیں ہے۔ انہوں نے کہا: ’’میں یہ لڑائی وزیر اعلیٰ بننے کے لیے نہیں لڑ رہا۔ مجھے ایماندار نوجوان دیں، ہم انہیں وزیر اعلیٰ کے دفتر تک لے جائیں گے۔‘‘

این سی صدر فاروق عبداللہ کو براہِ راست مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا: ’’فاروق عبداللہ، اپنے بیٹے سے کہو کہ اپنا برطانوی پاسپورٹ تیار رکھے۔ عزت رکھنے والے لوگ بیدار ہوچکے ہیں۔‘‘

روح اللہ کا استعفیٰ این سی کے ساتھ دو دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط ان کے تعلق میں ایک بڑا موڑ ہے اور پارٹی قیادت کے ساتھ کئی ماہ سے جاری ان کے کھلے اختلافات کے بعد سامنے آیا ہے۔ این سی قیادت نے حالیہ دنوں تک اختلافات ختم ہونے اور مفاہمت کی گنجائش کا عندیہ دیا تھا۔ وزیر الطاف کلو نے حال ہی میں کہا تھا کہ ’’3 نومبر ابھی آیا نہیں ہے، ہم انہیں الگ نہیں ہونے دیں گے۔‘‘ تاہم، منگل کو روح اللہ کے استعفے اور اجتماع میں ان کی تقریر پر این سی کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستھان سماچار / ظہور حسین بٹ


 rajesh pande