اے ایم یو کے ذاکر حسین کالج آف انجینئرنگ اینڈ ٹکناجی میں پائیداری، ڈیزائن، انجینئرنگ اور آرکیٹیکچر پر بین الاقوامی کانفرنس منعقد
علی گڑھ، 02 نومبر (ہ س)۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے ذاکر حسین کالج آف انجینئرنگ اینڈ ٹکنالوجی نے ”پائیداری، ڈیزائن، انجینئرنگ اور آرکیٹیکچر“ کے موضوع پر ایک بین الاقوامی کانفرنس منعقد کی، جس میں فیکلٹی ممبران، محققین، صنعت سے وابستہ پیشہ ور افراد او
ذاکر حسین کالج


علی گڑھ، 02 نومبر (ہ س)۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے ذاکر حسین کالج آف انجینئرنگ اینڈ ٹکنالوجی نے ”پائیداری، ڈیزائن، انجینئرنگ اور آرکیٹیکچر“ کے موضوع پر ایک بین الاقوامی کانفرنس منعقد کی، جس میں فیکلٹی ممبران، محققین، صنعت سے وابستہ پیشہ ور افراد اور دانشوروں نے شرکت کی۔ کانفرنس میں پائیدار ترقی کے حوالے سے ابھرتے ہوئے چیلنجوں اور اختراعات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

افتتاحی اجلاس کی صدارت اے ایم یو وائس چانسلر پروفیسر نعیمہ خاتون نے کی۔ این ٹی پی سی گرین انرجی کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر مسٹر سرِت مہیشوری مہمان خصوصی تھے، جبکہ جی این اے یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر پروفیسر وی کے رتن مہمان اعزازی تھے۔اپنے صدارتی خطاب میں پروفیسر نعیمہ خاتون نے زور دیا کہ جامعات کو تحقیق، اختراع اور ذمہ دارانہ پیشہ ورانہ تعلیم کے ذریعہ ماحولیاتی و تکنیکی چیلنجوں سے نمٹنے میں فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ علمی سرگرمیوں کا مقصد ایسے حل پیش کرنا ہونا چاہیے جو ماحولیاتی اعتبار سے پائیدار اور سماجی ضروریات سے ہم آہنگ ہوں۔اے ایم یو پرو وائس چانسلر پروفیسر ایم محسن خان نے موسمیاتی تبدیلی، ماحولیاتی انحطاط اور توانائی کے تحفظ جیسے مسائل سے نمٹنے میں جامعات کی ذمہ داریوں کو اجاگر کیا۔ انہوں نے پائیدار ترقی کو فروغ دینے کے لیے بین العلومی تحقیق، صنعت اور تعلیمی اداروں کے درمیان اشتراک اور اختراعی ٹکنالوجیز کی اہمیت پر زور دیا۔مسٹر سرِت مہیشوری نے ہندوستان کو پائیدار توانائی کے مستقبل کی جانب لے جانے میں قابل تجدید توانائی اور ماحولیات دوست ٹکنالوجیز کی بڑھتی ہوئی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے تکنیکی اختراع، سرمایہ کاری اور صنعت و تعلیمی اداروں کے درمیان شراکت داری کی اہمیت بیان کرتے ہوئے نوجوان محققین کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ صاف توانائی سے متعلق ملک کے عزائم کی تکمیل میں اپنا کردار ادا کریں۔پروفیسر وی کے رتن نے کہا کہ پائیداری کو انجینئرنگ کی تعلیم اور پیشہ ورانہ عملی سرگرمیوں کا بنیادی جزو بنانا ضروری ہے۔ انہوں نے مستقبل کے انجینئروں میں تخلیقی صلاحیت، تنقیدی سوچ اور سماجی ذمہ داری کا شعور پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔فیکلٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹکنالوجی کے ڈین پروفیسر محمد حسن نے موسمیاتی تبدیلی، توانائی کی بچت، پائیدار مواد اور مضبوط بنیادی ڈھانچے سے متعلق چیلنجوں سے نمٹنے میں مشترکہ تحقیق کے کردار کو اجاگر کیا۔کانفرنس کا اجمالی تعارف پیش کرتے ہوئے ذاکر حسین کالج آف انجینئرنگ اینڈ ٹکنالوجی کے پرنسپل پروفیسر محمد مزمل نے کہا کہ موجودہ دور میں انجینئرنگ، آرکیٹیکچر اور صنعتی ترقی کے لیے پائیداری ایک بنیادی تقاضا بن چکی ہے۔ انہوں نے بنیادی ڈھانچے اور صنعتی مصنوعات میں پائیدار طریقوں کو شامل کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور سائنسی معلومات کو عملی حل میں تبدیل کرنے کے لیے بین العلومی تحقیق اور تعلیمی اداروں و صنعت کے درمیان مضبوط اشتراک کی اپیل کی۔ قبل ازیں، مہمانوں، مندوبین اور شرکاء کا خیرمقدم کرتے ہوئے کانفرنس کی کنوینر پروفیسر شرمین خان نے کہا کہ کانفرنس میں ہونے والے مباحثے بامعنی علمی تبادلے اور مفید باہمی روابط کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم فراہم کریں گے۔کانفرنس میں سول، الیکٹریکل، مکینیکل، کیمیکل اور کمپیوٹر انجینئرنگ، آرکیٹیکچر، مصنوعی ذہانت اور متعلقہ شعبوں سے تحقیقی مقالات پیش کیے گئے۔ مباحثوں میں پائیدار انجینئرنگ ڈیزائن، قابل تجدید توانائی، ماحولیات دوست عمارتوں، وسائل کے تحفظ، توانائی کی بچت اور موسمیاتی تقاضوں سے ہم آہنگ ترقی جیسے موضوعات کا احاطہ کیا

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستھان سماچار / سید کامران علی گڑھ


 rajesh pande