
نئی دہلی، 2 نومبر (ہ س)۔ مرکزی وزارت دیہی ترقی نے ’وکست بھارت۔ روزگار اور ذریعہ معاش مشن (دیہی)‘ (وی بی-جی رام جی) ایکٹ کے تحت شکایات کے ازالے سے متعلق قواعد 2026 کو باضابطہ طور پر مطلع کر دیا ہے۔ نئے قواعد کے تحت اب اس اسکیم سے متعلق شکایات کا ازالہ 15 دن کے اندر کیا جا سکے گا۔
وزارت کے مطابق، نئے قواعد کے تحت ریاستی حکومتیں گرام پنچایت، بلاک اور ضلع کی سطح پر شکایات کے ازالے کے لیے افسران مقرر کریں گی۔ ضلع سطح پر اس پورے نظام کی نگرانی ضلع پروگرام کوآرڈینیٹر کریں گے۔ عام شہری اپنی سہولت کے مطابق ذاتی طور پر، ڈیلیوری کے ثبوت کے ساتھ اسپیڈ پوسٹ، مقررہ ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر یا ٹیلی فون ہیلپ لائن کے ذریعے اپنی شکایت درج کرا سکیں گے۔ آف لائن موصول ہونے والی شکایات کو اسی دن یا اگلے کام کے دن تک پورٹل پر درج کرنا لازمی ہوگا۔ شکایت درج ہوتے ہی شکایت کنندہ کو اس کی ڈیجیٹل رسید فراہم کی جائے گی۔
ان قواعد کا بنیادی مقصد دیہی علاقوں میں اسکیم کے نفاذ سے متعلق شکایات کے ازالے کے لیے ایک منظم، کثیر سطحی، شفاف اور وقت مقررہ پر کام کرنے والا نظام قائم کرنا ہے۔
اس کے علاوہ شکایات کے ازالے کے لیے مقرر افسر کو سات کام کے دنوں کے اندر معاملے کی جانچ مکمل کرنی ہوگی، جب کہ 15 دن کے اندر شکایت کا حتمی تصفیہ کرنا لازمی ہوگا۔ ضرورت پڑنے پر شکایت کنندہ کو اپنا موقف پیش کرنے کا موقع بھی دیا جائے گا۔ شکایت کے اندراج سے لے کر اس کے تصفیے تک پورے عمل کی ڈیجیٹل نگرانی کی جائے گی۔
اگر 15 دن کے اندر کسی شکایت کا ازالہ نہیں ہوتا ہے تو اسے خودکار طور پر ریاستی حکومت کے قائم کردہ نظام کے تحت اگلے اعلیٰ افسر کے پاس بھیج دیا جائے گا۔ اس کے علاوہ جاری کیے گئے احکامات کے خلاف وی بی-جی رام جی ایکٹ کے شیڈول-1 کے مطابق اپیل دائر کرنے اور اس کے تصفیے کی سہولت بھی فراہم کی گئی ہے۔
وزارت کے مطابق، یہ نئی ہدایت دیہی کنبوں کے حقوق کے تحفظ اور انتظامی جواب دہی کو مضبوط بنانے کی سمت ایک اہم قدم ہے۔ اس سے یہ یقینی بنایا جا سکے گا کہ کسی بھی شہری کو کارروائی سے متعلق رسمی ضابطوں کی وجہ سے اپنی شکایت کے ازالے سے محروم نہ رہنا پڑے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستھان سماچار / محمد شہزاد