
نئی دہلی، 2 نومبر(ہ س)۔ خلیج میں بحری سلامتی سے متعلق تشویش کے درمیان سعودی عرب کے ساحلی علاقے رأس الخفجی سے تقریباً 72 ناٹیکل میل مشرق میں سفر کرنے والے ایک آئل ٹینکر پر دو نامعلوم پروجیکٹائلز سے حملہ کیا گیا۔ برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز (یو کے ایم ٹی او) نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ دونوں پروجیکٹائلز ٹینکر کے بائیں جانب لگے۔ حملے میں جہاز کا تمام عملہ محفوظ رہا اور سمندر میں تیل یا کسی دوسرے مادے کے اخراج کی اطلاع نہیں ملی۔
یو کے ایم ٹی او کے مطابق ٹینکر خلیج میں جنوب مشرق کی سمت سفر کر رہا تھا، جب اسے نشانہ بنایا گیا۔ ایجنسی نے واقعے کے بعد علاقے سے گزرنے والے دیگر جہازوں کو احتیاط برتنے اور کسی بھی مشتبہ سرگرمی کی اطلاع دینے کی ہدایت دی ہے۔ فی الحال حملے میں استعمال ہونے والے پروجیکٹائلز کی نوعیت، حملہ آوروں اور واقعے کے ذمہ داروں کے بارے میں کوئی تفصیل سامنے نہیں آئی ہے۔
یو کے ایم ٹی او نے یکم نومبر کو آبنائے ہرمز میں ایک دوسرے بحری جہاز سے متعلق واقعے کی اطلاع بھی دی تھی۔ ایجنسی کے مطابق ایک تجارتی جہاز کے کپتان نے ریڈیو پر پیغام دیتے ہوئے بتایا کہ ایک دوسرے جہاز کو نامعلوم پروجیکٹائل سے نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس معاملے کی بھی تحقیقات جاری ہیں اور جہازوں کو محتاط رہنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔
اس سے قبل ایران کے جزیرے قشم کے قریب دو ماہی گیری کشتیوں پر مبینہ امریکی ڈرون حملے کی خبر سامنے آئی تھی۔ ایرانی میڈیا کے مطابق یہ واقعہ جزیرہ قشم سے تقریباً 14 ناٹیکل میل جنوب میں پیش آیا، جس میں دو ماہی گیر زخمی ہوئے جبکہ دو دیگر لاپتہ ہو گئے تھے۔بعد میں ایرانی ذرائع ابلاغ نے اطلاع دی کہ لاپتہ دونوں ماہی گیروں کو تلاش کر لیا گیا ہے اور وہ جزیرے کی جانب واپس آ رہے ہیں۔ ان میں سے ایک شخص زخمی بتایا گیا۔ تاہم اس حملے کے بارے میں امریکی حکام کی جانب سے فوری طور پر تصدیق سامنے نہیں آئی تھی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستھان سماچار / Mohammad Khan