
نئی دہلی، 2 نومبر (ہ س)۔ اتر پردیش حکومت کی خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) نے ایودھیا کے رام مندر میں چڑھاوا چوری کے معاملے میں چارج شیٹ داخل کردی ہے۔ ایس آئی ٹی کی اس اطلاع کا نوٹس لیتے ہوئے سپریم کورٹ نے عرضی نمٹا دی اور کہا کہ مقامی عدالت اس معاملے میں مقدمے کی کارروائی آگے بڑھائے گی۔
سماعت کے دوران حکومت کی جانب سے پیش ہوئے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ کو بتایا کہ ایس آئی ٹی کی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ رام مندر میں چڑھاوے کی رقم کی گنتی کے دوران ہیرا پھیری کی گئی تھی۔ مہتا نے کہا کہ بعض ملزمین نے اس رقم سے جائیداد میں سرمایہ کاری کی ہے، جبکہ دیگر نے خرد برد کی گئی رقم بینکوں میں ڈپوزٹ کے طور پر رکھی ہے۔
اتر پردیش حکومت نے 27 جولائی کو سپریم کورٹ کو بتایا تھا کہ دان (عطیات) کی مبینہ چوری کی تحقیقات کے لیے نئی ایس آئی ٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔ اس کے بعد سپریم کورٹ نے ایک فارنسک آڈیٹر کو تحقیقات میں شامل کرنے کی ہدایت دی تھی۔ سماعت کے دوران عرضی گزار کی جانب سے پیش ہوئے سینئر وکیل دیودت کامت نے دلیل دی تھی کہ ملک بھر سے رام مندر کی تعمیر کے لیے موصول ہونے والے چندے کا آڈٹ ہونا چاہیے اور ٹرسٹ کو حاصل ہونے والی رقم کی تفصیلات عام کی جانی چاہئیں، تاکہ شفافیت یقینی بنائی جاسکے۔
عدالت نے 13 جولائی کو ٹرسٹ اور اتر پردیش حکومت کو نوٹس جاری کرکے ایس آئی ٹی کی تشکیل سے متعلق ریکارڈ طلب کیا تھا۔ یہ عرضی دو وکیلوں اجے کمار رائے اور دنیش کمار یادو نے دائر کی تھی۔ عرضی میں مرکزی حکومت، اتر پردیش حکومت اور شری رام جنم بھومی تیرتھ کشیتر ٹرسٹ کو ہدایت دینے کی درخواست کی گئی تھی کہ وہ مالی بے ضابطگیوں کو روکنے کے لیے ایک نظام قائم کریں، کیونکہ اس معاملے سے کروڑوں عقیدت مندوں کے جذبات وابستہ ہیں۔
اس سے پہلے بھی ایک وکیل نے خط لکھ کر سپریم کورٹ سے اس معاملے کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات کرانے کی اپیل کی تھی۔ وکیل انوپ اوستھی نے عدالت کو لکھے خط میں کہا تھا کہ یہ معاملہ ملک کے کروڑوں لوگوں کے عقیدے سے جڑا ہوا ہے۔ خط میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اس معاملے کی تحقیقات عدالت کی نگرانی میں کرائی جائیں۔ خط میں کہا گیا تھا کہ یہ مندر 2020 میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد قائم کیے گئے ٹرسٹ کے زیر انتظام ہے۔ مندر میں 22 جنوری 2024 کو پران پرتشٹھا کی تقریب منعقد ہوئی تھی۔ اس کے بعد سے بڑی تعداد میں عقیدت مند روزانہ مندر میں درشن کے لیے پہنچتے ہیں اور عطیہ بکس میں چندہ جمع کرتے ہیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستھان سماچار / محمد شہزاد