دیوالی پر دہلی-این سی آر میں دو دن گرین پٹاخے جلانے کی اجازت، سپریم کورٹ نے شرائط کے ساتھ دی منظوری
نئی دہلی، 2 نومبر (ہ س)۔ سپریم کورٹ نے دیوالی کے موقع پر دہلی-این سی آر میں پٹاخوں پر عائد پابندی میں دو دن کے لیے مشروط رعایت دے دی ہے۔ سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ تصدیق شدہ گرین پٹاخے (ماحول دوست پٹاخے)7 اور 8 نومبر کو صبح 6 سے 7 بجے اور رات 8 سے 10
SC-Refusing-Complete-Ban-Fire-Crackers


نئی دہلی، 2 نومبر (ہ س)۔ سپریم کورٹ نے دیوالی کے موقع پر دہلی-این سی آر میں پٹاخوں پر عائد پابندی میں دو دن کے لیے مشروط رعایت دے دی ہے۔ سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ تصدیق شدہ گرین پٹاخے (ماحول دوست پٹاخے)7 اور 8 نومبر کو صبح 6 سے 7 بجے اور رات 8 سے 10 بجے تک جلائے جاسکیں گے۔ واضح رہے کہ اس سال دیوالی 8 نومبر کو ہے۔

جسٹس ایم ایم سندریش کی سربراہی والی بنچ نے ہدایت دی ہے کہ مذکورہ اوقات کے دوران بھی اسپتالوں، نرسنگ ہوم، پرائمری اور ضلعی صحت مراکز، اولڈ ایج ہوم، تعلیمی اداروں اور کسی بھی نوٹیفائیڈ سائلنس زون کے 300 میٹر کے دائرے میں پٹاخے جلانے کی اجازت نہیں ہوگی۔ 9 نومبر سے پٹاخوں پر دوبارہ مکمل پابندی نافذ ہوجائے گی۔

عدالت نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی ہے کہ دہلی-این سی آر میں پٹاخے بنانے والی تمام کمپنیوں اور تاجروں سے مالی ضمانت حاصل کی جائے۔ اگر عدالت کے حکم کی خلاف ورزی ہوتی ہے تو ان کی ضمانت کی رقم ضبط کرلی جائے گی۔ عدالت نے واضح کیا کہ یہ رعایت صرف آلودگی سے پاک گرین پٹاخوں کے لیے دی گئی ہے، تاکہ ماحول کو نقصان پہنچائے بغیر لوگ تہوار منا سکیں۔

اس سے قبل 29 اکتوبر کو سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے دہلی-این سی آر میں پٹاخوں پر مکمل پابندی عائد کرنے سے صاف انکار کرتے ہوئے اس معاملے پر اپنا فیصلہ محفوظ رکھ لیا تھا۔ عدالت نے واضح کیا تھا کہ وہ تہواروں کے موقع پر لوگوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس نہیں پہنچانا چاہتی، اس لیے ایسا متوازن حکم جاری کیا جائے گا، جس میں پٹاخوں کی اقسام اور انہیں جلانے کے اوقات مقرر کیے جاسکتے ہیں۔

عدالت نے دہلی حکومت اور فضائی معیار کے انتظام کے کمیشن (سی اے کیو ایم) کو پھٹکار لگاتے ہوئے کہا تھا کہ جب تک قواعد پر زمینی سطح پر مناسب طریقے سے عمل درآمد نہیں ہوتا، تب تک ہر سال محض احکامات جاری کرنا ایک مذاق یا رسمی کارروائی بن کر رہ جائے گا۔ عدالت نے کہا تھا کہ فضائی آلودگی کے سنگین مسئلے سے نمٹنے کے لیے افسران کو اعلیٰ سطح پر اور نئے انداز سے سوچنا ہوگا۔ چونکہ تاجر طلب اور رسد کے مطابق غیر قانونی طور پر بھی پٹاخے فروخت کرتے ہیں، اس لیے صرف پٹاخوں کی فروخت پر پابندی لگانے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستھان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande