پنجاب: امرتسر میں عام آدمی پارٹی کے رکن اسمبلی اور سابق آئی پی ایس افسر کنور وجے پرتاپ کا استعفیٰ
چنڈی گڑھ، 2 نومبر۔ پنجاب میں 2027 کے اسمبلی انتخابات سے قبل عام آدمی پارٹی کو ایک اور بڑا سیاسی دھچکا لگا ہے۔ امرتسر نارتھ سے رکن اسمبلی کنور وجے پرتاپ سنگھ نے پنجاب اسمبلی کی رکنیت سے فوری طور پر استعفیٰ دے دیا ہے۔ سابق آئی پی ایس افسر نے سماجی را
پنجاب


چنڈی گڑھ، 2 نومبر۔ پنجاب میں 2027 کے اسمبلی انتخابات سے قبل عام آدمی پارٹی کو ایک اور بڑا سیاسی دھچکا لگا ہے۔ امرتسر نارتھ سے رکن اسمبلی کنور وجے پرتاپ سنگھ نے پنجاب اسمبلی کی رکنیت سے فوری طور پر استعفیٰ دے دیا ہے۔ سابق آئی پی ایس افسر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ کے ذریعے اپنے فیصلے کی اطلاع دیتے ہوئے اپنے حلقے کے عوام سے خطاب کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ رکن اسمبلی کی حیثیت سے انہوں نے اپنے مقررہ اہداف میں سے 90 فیصد مکمل کر لیے ہیں۔

کنور وجے پرتاپ سنگھ نے کہا کہ ان کی سب سے بڑی کامیابی سیاست میں ’مائی باپ کلچر‘ کو ختم کرنا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے عوام کو اپنی تحریک کا سرچشمہ مان کر کام کیا ہے۔ پنجاب کے مستقبل کے حوالے سے اجتماعی کوششوں کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ریاست اس وقت منشیات، جبری وصولی، جرائم پیشہ گروہوں اور بدعنوانی جیسے مسائل سے دوچار ہے۔ پنجاب کو دوبارہ اس کی ترقی پسند شناخت دلانے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب اسمبلی میں انہوں نے امرتسر سے متعلق مسائل کو مسلسل اٹھایا۔ ان میں پانی کی فراہمی، نکاسی آب کا نظام، سرکٹ ہاؤس، کمپنی باغ، گندے نالے، گرو نانک دیو یونیورسٹی، سرکاری طبی کالج، سروپ رانی کالج اور برگاڑی میں مذہبی بے حرمتی کے واقعے جیسے معاملات شامل ہیں۔

سابق آئی پی ایس افسر نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے پہلی مرتبہ اسمبلی میں گلیوں اور محلوں کے نام لے کر مخصوص علاقوں کے مسائل کو نمایاں طور پر اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل میں ان کی سیاسی سرگرمیوں کا بنیادی مقصد صاف ستھری سیاست اور شفاف انتظامیہ ہوگا۔ ان کا واحد مقصد ’پنجاب فرسٹ‘ یعنی سب سے پہلے پنجاب ہے اور اس کے علاوہ ان کا کوئی ذاتی مفاد نہیں ہے۔

کنور وجے پرتاپ سنگھ نے اپنا استعفیٰ پنجاب اسمبلی کے اسپیکر کو سونپ دیا ہے۔ وہ 24 گھنٹے سے بھی کم وقت میں استعفیٰ دینے والے عام آدمی پارٹی کے تیسرے رکن اسمبلی ہیں۔ اس سے ایک دن قبل سمانہ کے رکن اسمبلی چیتن سنگھ جوڑاماجرا اور سنور کے رکن اسمبلی ہرمیت سنگھ پٹھانماجرا نے پارٹی کی بنیادی رکنیت سے استعفیٰ دیا تھا۔ ان تینوں رہنماؤں کے پیر کے روز بھارتیہ جنتا پارٹی میں شامل ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

یہ پیش رفت عام آدمی پارٹی کی جانب سے یکم نومبر کو 2027 کے اسمبلی انتخابات کے لیے امیدواروں کی پہلی فہرست جاری کیے جانے کے بعد سامنے آئی ہے۔ پارٹی نے حال ہی میں چیتن سنگھ جوڑاماجرا اور ہرمیت سنگھ پٹھانماجرا کے اسمبلی حلقوں میں حلقہ انچارج بھی مقرر کیے تھے۔ اس کے بعد دونوں ارکان اسمبلی کو دوبارہ ٹکٹ نہ ملنے کے امکانات کے حوالے سے قیاس آرائیاں تیز ہو گئی تھیں۔

عام آدمی پارٹی کی قیادت اس سے پہلے بھی بھارتیہ جنتا پارٹی پر دوسری جماعتوں کے رہنماؤں کو اپنی پارٹی میں شامل کرکے پنجاب میں سیاسی حیثیت مضبوط کرنے کی کوشش کرنے کا الزام لگاتی رہی ہے۔ پارٹی کا کہنا رہا ہے کہ ریاست میں بی جے پی کی سیاسی بنیاد محدود ہے۔

سابق آئی پی ایس افسر کنور وجے پرتاپ سنگھ نے پولیس سروس سے استعفیٰ دینے کے بعد عام آدمی پارٹی میں شمولیت اختیار کی تھی۔ وہ 2015 میں فریدکوٹ میں مذہبی بے حرمتی کے واقعات اور اس کے بعد پنجاب میں پولیس فائرنگ کے معاملات کی تحقیقات سے وابستہ رہے تھے۔

انہوں نے 2022 کے اسمبلی انتخابات میں عام آدمی پارٹی کے ٹکٹ پر امرتسر نارتھ کی نشست سے کامیابی حاصل کی تھی۔ تاہم بعد میں پارٹی قیادت کے ساتھ ان کے تعلقات میں کشیدگی پیدا ہو گئی۔ جنوری 2023 میں انہوں نے اسمبلی کی سرکاری یقین دہانیوں سے متعلق کمیٹی کے چیئرمین کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔

اس کے بعد بھی وہ کئی مرتبہ وزیر اعلیٰ بھگونت مان اور حکومت کے کام کاج پر سوال اٹھاتے رہے۔ انہوں نے پارٹی کے طریقۂ کار اور مذہبی بے حرمتی کے معاملات سے نمٹنے کے انداز پر بھی عوامی طور پر عدم اطمینان کا اظہار کیا تھا۔

جون 2025 میں عام آدمی پارٹی نے پارٹی مخالف سرگرمیوں کے الزام میں انہیں پانچ سال کے لیے پارٹی سے معطل کر دیا تھا۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستھان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande