جنوبی وزیرستان میں پاکستانی فوج کی جوابی کارروائی، طالبان جنگجو چوکیاں چھوڑ کر فرار
اسلام آباد، 2 نومبر(ہ س)۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی ہے۔ جنوبی وزیرستان کے انگور اڈہ علاقے میں افغان طالبان کی سرحدی چوکیوں سے پاکستانی ٹھکانوں پر مبینہ طور پر بلا اشتعال فائرنگ کی گئی۔ اس کے جواب میں پاکستانی
جنوبی وزیرستان میں پاکستانی فوج کی جوابی کارروائی، طالبان جنگجو چوکیاں چھوڑ کر فرار


اسلام آباد، 2 نومبر(ہ س)۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی ہے۔ جنوبی وزیرستان کے انگور اڈہ علاقے میں افغان طالبان کی سرحدی چوکیوں سے پاکستانی ٹھکانوں پر مبینہ طور پر بلا اشتعال فائرنگ کی گئی۔ اس کے جواب میں پاکستانی سکیورٹی فورسز نے کارروائی کرتے ہوئے افغان سرحد پر واقع متعدد چوکیوں، مارٹر ٹھکانوں اور دفاعی ڈھانچوں کو نشانہ بنایا۔ جنوبی وزیرستان کے ڈپٹی کمشنر کے مطابق، پاکستانی فورسز کی جوابی کارروائی کے بعد افغان طالبان کے جنگجو اپنی چوکیاں چھوڑ کر فرار ہو گئے۔

پاکستان کے اردو ٹی وی چینل دنیا نیوز اور بین الاقوامی میڈیا ادارے جیو نیوز کے مطابق، ڈپٹی کمشنر نے اتوار کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اس واقعے کی اطلاع دیتے ہوئے بتایا کہ انگور اڈہ علاقے میں افغان سرحدی چوکیوں سے پاکستانی سکیورٹی ٹھکانوں پر مسلسل فائرنگ کی جا رہی تھی۔ اس کے بعد پاکستانی سکیورٹی فورسز نے فوری جوابی کارروائی کی۔

افسر کے مطابق، اس فائرنگ میں پاکستان کے سرحدی علاقوں میں کسی کے ہلاک یا زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ سکیورٹی فورسز پوری طرح چوکس ہیں اور کسی بھی جارحانہ کارروائی کا جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔

یہ واقعہ 27 اکتوبر کی رات انگور اڈہ علاقے میں ہونے والی فائرنگ کے چند روز بعد پیش آیا ہے۔ پاکستانی حکام اور سکیورٹی ذرائع کے مطابق، اس وقت افغان طالبان کی جانب سے شہری گھروں اور انگور اڈہ بازار کو نشانہ بنا کر فائرنگ کی گئی تھی۔ اس دوران ایک رہائشی علاقے میں مارٹر گولہ گرنے سے ایک شہری کی موت ہو گئی تھی، جبکہ پانچ دیگر افراد زخمی ہوئے تھے۔ گولہ باری میں بازار کی کئی دکانوں کو بھی نقصان پہنچا تھا۔اس واقعے کے بعد پاکستانی سکیورٹی فورسز نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے افغان سرحد پر واقع طالبان کی کئی چوکیوں کو نشانہ بنایا تھا۔ پاکستان کی وزارتِ اطلاعات و نشریات کے مطابق، اس کارروائی میں افغان طالبان کی سات چوکیاں تباہ کر دی گئی تھیں۔

پاکستان طویل عرصے سے افغان طالبان حکومت پر الزام لگاتا رہا ہے کہ وہ ممنوعہ تنظیم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کو افغانستان کی سرزمین استعمال کرکے پاکستان میں حملے کرنے سے نہیں روک رہی ہے۔ اسلام آباد کئی مرتبہ کابل سے مطالبہ کر چکا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردانہ سرگرمیوں کے لیے استعمال نہ ہونے دے۔جنوبی وزیرستان میں فائرنگ کا تازہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب دونوں ممالک کے درمیان سرحدی سلامتی اور دہشت گردی کے معاملے پر پہلے ہی کشیدگی برقرار ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستھان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande