مذہب، زبان اور سماجی اختلافات سے بالاتر ہوکر پڑوسیوں کے حقوق ادا کرنے کی ضرورت: ڈاکٹر افضل احمد
علی گڑھ, 02 نومبر (ہ س): اسلام میں پڑوسیوں کے حقوق اور حسنِ ہمسائیگی کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ ایک اچھے مسلمان کی پہچان صرف اس کی عبادات سے نہیں بلکہ اس کے اخلاق، کردار اور دوسروں کے ساتھ برتاؤ سے بھی ہوتی ہے ان خیالات کا اظہار معروف سماجی کارکن ڈاک
پڑوسی


علی گڑھ, 02 نومبر (ہ س): اسلام میں پڑوسیوں کے حقوق اور حسنِ ہمسائیگی کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ ایک اچھے مسلمان کی پہچان صرف اس کی عبادات سے نہیں بلکہ اس کے اخلاق، کردار اور دوسروں کے ساتھ برتاؤ سے بھی ہوتی ہے ان خیالات کا اظہار معروف سماجی کارکن ڈاکٹر افضال احمد نے کیا وہ آج پڑوسیوں کے حقوق کے تعلق سے اپنے خیالات کا اظہار کررہے تھے انھوں نے مزید کہا کہ حقیقی ایمان کا تقاضا ہے کہ انسان کا پڑوسی اس کے شر، ایذا رسانی اور کسی بھی قسم کے نقصان سے محفوظ رہے۔انہوں نے کہا کہ نبی کریم حضرت محمد ﷺ نےارشاد فرمایا کہ وہ شخص مومن نہیں جس کا پڑوسی اس کی شرارتوں اور تکلیفوں سے محفوظ نہ ہو۔ اس ارشاد مبارک سے واضح ہوتا ہے کہ اسلام میں پڑوسی کے احساسِ تحفظ اور اس کے حقوق کو کس قدر اہمیت دی گئی ہے۔

ڈاکٹر افضال احمد نے کہا کہ پڑوسی کو تکلیف نہ پہنچانے کا مفہوم صرف جسمانی نقصان سے بچنا نہیں بلکہ اسے خوف، دھمکی، ہراسانی، شور شرابے، املاک کو نقصان پہنچانے اور ہر قسم کی دانستہ اذیت سے محفوظ رکھنا بھی ہے۔ ایک اچھے پڑوسی کی پہچان یہ ہے کہ اس کے ساتھ رہنے والے لوگ خود کو محفوظ اور مطمئن محسوس کریں۔

انہوں نے کہا کہ اسلام حسنِ ہمسائیگی کو مذہب، زبان، ذات یا سماجی حیثیت کی یکسانیت سے مشروط نہیں کرتا۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے قریبی اور دور کے پڑوسیوں کے ساتھ حسنِ سلوک کی ہدایت دی ہے۔ یہ تعلیم واضح کرتی ہے کہ پڑوسیوں کے حقوق کی ادائیگی اسلامی معاشرت کا بنیادی حصہ ہے۔

ڈاکٹر افضال نے کہا کہ پڑوسیوں کے درمیان اختلافات ہونا فطری بات ہے، تاہم اختلاف کو دشمنی، ظلم یا ایک دوسرے کو نقصان پہنچانے کا ذریعہ نہیں بننا چاہیے۔ ایسے معاملات میں صبر، برداشت، باہمی گفت و شنید، انصاف اور احترام کو ترجیح دینی چاہیے۔ خصوصاً آج کے دور میں جب مختلف مذاہب اور سماجی پس منظر کے لوگ ایک ساتھ رہتے ہیں، حسنِ ہمسائیگی کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہندوستان جیسے کثیر مذہبی اور متنوع معاشرے میں حسنِ ہمسائیگی، رواداری اور باہمی احترام کی خصوصی اہمیت ہے۔ ہمیں اپنے کردار سے ایسا ماحول قائم کرنا چاہیے جہاں مذہب، زبان اور نظریات کے اختلاف کے باوجود ہر شخص خود کو محفوظ محسوس کرے۔ ایک اچھا انسان اور سچا مسلمان وہی ہے جس کے وجود سے دوسروں کو تکلیف نہیں بلکہ راحت پہنچے اور جو معاشرے میں امن، محبت اور خیر خواہی کو فروغ دینے کا ذریعہ بنے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستھان سماچار / سید کامران علی گڑھ


 rajesh pande