
سیول، 2 نومبر (ہ س)۔ شمالی کوریا نے ایسے کلسٹر بم وارہیڈ کی آزمائش کی ہے، جسے ٹیکٹیکل بیلسٹک میزائلوں میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ شمالی کوریا کے سرکاری میڈیا نے اتوار کو یہ اطلاع دی۔ اس کے ساتھ ہی پیانگ یانگ نے رواں سال کے اختتام تک مختلف اقسام کے کلسٹر بم وارہیڈ اپنی فوجی یونٹوں میں تعینات کرنے کا منصوبہ بھی ظاہر کیا ہے۔
جنوبی کوریا کی خبر رساں ایجنسی یونہاپ کے مطابق، شمالی کوریا کی میزائل انتظامیہ نے ہفتہ کو یہ تجربہ کیا۔ اس کا مقصد ٹیکٹیکل بیلسٹک میزائلوں میں استعمال ہونے والے کلسٹر بم وارہیڈ کی جنگی صلاحیت اور اس کے اثرات کا جائزہ لینا تھا۔ میزائل انتظامیہ کے ماتحت تحقیقی اداروں نے تجربے کے بعد تصدیق کی کہ ’اسٹینڈرڈ ٹائپ-2‘ کلسٹر بم وارہیڈ 12 سے 13 ہیکٹیئر کے نشانے والے علاقے میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
شمالی کوریا کی میزائل انتظامیہ کے ڈائریکٹر جنرل نے بتایا کہ کلسٹر بم وارہیڈ کو ان کے استعمال اور مقاصد کی بنیاد پر چار زمروں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ رواں سال کے اندر فوجی یونٹوں کو اس قابل بنایا جائے گا کہ وہ اپنے فوجی آپریشن کے مقاصد اور اہداف کی نوعیت کے مطابق مختلف اقسام کے وارہیڈ کا انتخاب اور استعمال کر سکیں۔
واضح رہے کہ کلسٹر بم ایسے ہتھیار ہوتے ہیں، جن سے درجنوں سے لے کر سیکڑوں چھوٹے دھماکہ خیز بم نکل کر ایک بڑے علاقے میں پھیل جاتے ہیں اور مختلف مقامات پر دھماکے کرتے ہیں۔ ان ہتھیاروں کے استعمال سے عام شہریوں کی جانوں کو بھی سنگین خطرات لاحق ہوتے ہیں۔
جنوبی کوریا کی فوج نے بتایا کہ اس نے شمالی کوریا کی میزائلآزمائش سے متعلق سرگرمیوں پر نظر رکھی ہوئی تھی۔ فوج کے مطابق، میزائل شمال مغربی علاقے میں چونگجو کے آس پاس سے زرد سمندر کی سمت داغا گیا۔
جنوبی کوریا کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف نے اتوار کو کہا کہ امریکہ کے ساتھ قریبی معلوماتی تبادلے کے تحت میزائل داغے جانے سے پہلے ہی متعلقہ سرگرمیوں کا پتہ لگا لیا گیا تھا اور فوج پوری طرح چوکس تھی۔ سیول میں واقع کوریا ڈیفنس اینڈ سکیورٹی فورم کے سکریٹری جنرل شن جونگ- وو نے قیاس ظاہر کیا کہ اس آزمائش میں استعمال ہونے والا میزائل ’ہواسونگ-11 را‘ ہو سکتا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ شمالی کوریا نے اپریل میں بھی اسی نوعیت کے ٹیکٹیکل بیلسٹک میزائل پر کلسٹر بم وارہیڈ کی آزمائش کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ اس وقت شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان اور ان کی بیٹی جو -اے نے اس آزمائش کی نگرانی کی تھی۔
یہ آزمائش ایسے وقت میں کی گئی ہے ، جب اٹلانٹا میں منعقدہ سہ فریقی اجلاس میں جنوبی کوریا، امریکہ اور جاپان کے اعلیٰ سفارت کاروں نے شمالی کوریا کو مکمل طور پر جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کا مطالبہ دہرایا ہے۔
اس دوران ، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ہفتہ کو کہا کہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہیں۔ تاہم، اس کے لیے پیانگ یانگ کو ان امور پر گفتگو کرنے پر آمادہ ہونا ہوگا، جنہیں امریکہ اور اس کے اتحادی سلامتی کے نقطہ نظر سے اہم سمجھتے ہیں۔ فی الحال دونوں رہنماو¿ں کے درمیان ممکنہ ملاقات کا کوئی پروگرام طے نہیں ہوا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستھان سماچار / محمد شہزاد