
کاٹھمنڈو، 2 نومبر(ہ س)۔
نیپال میں سیلاب کے باعث اپنے گھروں سے بے گھر ہونے والے رسوا اور نوواکوت اضلاع کے کئی خاندان دو ماہ سے زیادہ کا عرصہ گزر جانے کے باوجود حکومت کی جانب سے اعلان کردہ ماہانہ کرایہ دینے کیلئے امداد کے منتظر ہیں۔ متاثرہ خاندانوں کا کہنا ہے کہ انہیں اب تک سرکاری امداد نہیں ملی، جس کی وجہ سے کرایہ ادا کرنا بھی مشکل ہو رہا ہے۔
رسوا ضلع کے اترگیا علاقے میں واقع پیرے بیسی کا تھاپا خاندان بھی ان متاثرہ خاندانوں میں شامل ہے، جنہیں سیلاب میں اپنا گھر کھونے کے بعد کرائے کے مکانوں میں رہنا پڑ رہا ہے۔ پانچ افراد پر مشتمل اس خاندان کو حکومت کی جانب سے اعلان کردہ 15 ہزار نیپالی روپے ماہانہ کرایہ امداد اب تک نہیں ملی ہے۔ سیلاب کے بعد خاندان کے افراد الگ الگ مقامات پر رہنے پر مجبور ہیں۔ کچھ لوگ کاٹھمنڈو چلے گئے ہیں، جبکہ کچھ ہیٹونڈا میں مقیم ہیں۔تارا بہادر تھاپا نے کہا، ’’مکان مالک کرایہ مانگنے آتے ہیں، لیکن حکومت نے ابھی تک پیسے نہیں دیے ہیں۔ سردی شروع ہو گئی ہے اور ہمیں یہ بھی معلوم نہیں کہ اب کہاں رہنا ہے۔‘‘
حکومت نے چار افراد تک کے بے گھر خاندانوں کو 15 ہزار روپے ماہانہ کرایہ امداد دینے اور اس سے بڑے خاندانوں کو ہر اضافی فرد کے لیے دو ہزار روپے فراہم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ تاہم متاثرین کا کہنا ہے کہ دو ماہ سے زیادہ گزرنے کے باوجود انہیں یہ امداد نہیں ملی ہے۔
تارا بہادر تھاپا نے بتایا کہ علاقے میں کام کرنے والی تنظیموں کی جانب سے انہیں 15 ہزار روپے اور آخری رسومات کے اخراجات کے لیے 25 ہزار روپے ملے ہیں۔ اس کے علاوہ کوئی مدد نہیں ملی۔ انہوں نے کہا، ’’ہر ماہ کرایہ ادا کرنا پڑتا ہے۔ ہم پیسے کہاں سے لائیں؟ حکومت کو کم از کم جلد فیصلہ کرنا چاہیے کہ ہماری بازآبادکاری کہاں کی جائے گی۔‘‘
رسوا ضلع کے گوسائکنڈا علاقے کے سیلاب متاثرہ خاندانوں نے بھی سرکاری کرایہ امداد نہ ملنے کی شکایت کی ہے۔ سیافرو بیسی کے رہنے والے سنگی دھندوپ تمانگ نے کہا، ’’حکومت کی جانب سے اعلان کردہ رقم ابھی تک نہیں ملی ہے۔ کچھ تنظیموں نے مقامی بلدیاتی ادارے کے تعاون سے چند خاندانوں کو دو یا تین ماہ تک 15 ہزار روپے ماہانہ امداد دی ہے۔‘‘
کاٹھمنڈو کی یلو مونسٹری میں مقیم سیافرو بیسی کے بے گھر خاندانوں کو بھی یہ واضح نہیں ہے کہ ان کی بازآبادکاری کہاں کی جائے گی۔ تمانگ نے بتایا، ’’ہم کچھ دن پہلے بازآبادکاری کے امکانات کا جائزہ لینے کے لیے سیافرو بیسی گئے تھے، لیکن لگتا ہے کہ حکومت کے فیصلے کے بغیر کوئی پیش رفت ممکن نہیں ہے۔ ہمیں نہیں معلوم کہ ہم کہاں رہیں گے۔ ہماری خواہش ہے کہ ہم سیافرو بیسی میں ہی رہ کر اپنا کاروبار جاری رکھیں۔‘‘
انہوں نے بتایا کہ میونسپلٹی نے غیر ملکی تنظیموں کی مدد سے مکانات کی تعمیر کے لیے امداد حاصل کرنے کے خواہش مند زمین مالکان سے درخواستیں طلب کی تھیں۔ تاہم، جن خاندانوں کے پاس اپنی زمین نہیں ہے، ان کی بازآبادکاری کے بارے میں صورت حال اب بھی واضح نہیں ہے۔دوسری جانب سرکاری افسران کا کہنا ہے کہ حقیقت میں بے گھر ہونے والے خاندانوں کی تعداد کی تصدیق میں تاخیر کے سبب اعلان کردہ امداد کی تقسیم رکی ہوئی ہے۔
اترگیا میونسپلٹی نے ہر بے گھر خاندان کو 25 ہزار روپے کی مالی امداد فراہم کی ہے۔ میونسپلٹی نے کرایہ امداد کے لیے درخواستیں بھی جمع کی ہیں، تاہم امداد کے مستحق خاندانوں کی حتمی تعداد ابھی طے نہیں ہو سکی ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستھان سماچار / Mohammad Khan