
نئی دہلی، 02 نومبر (ہ س)۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے پیر کے روز کہا کہ ہندوستان آئندہ 10 سے 11 برسوں میں 500 گیگاواٹ اضافی غیر نامیاتی توانائی کی صلاحیت پیدا کرنے کی کوشش کرے گا۔ اس سے اس دہائی کے اختتام تک ملک کے قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں 20 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کی سرمایہ کاری کے مواقع پیدا ہوں گے۔
مودی نے بھارت منڈپم میں بھارت قابلِ تجدید توانائی کانفرنس اور نمائش کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان میں سیاسی اور پالیسی استحکام کے ساتھ بڑے پیمانے پر طلب اور ترقی کے وسیع امکانات موجود ہیں، جو اسے عالمی سرمایہ کاروں کے لیے ایک پرکشش مقام بناتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آج ہندوستان کی مجموعی نصب شدہ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت میں 50 فیصد سے زیادہ حصہ غیر نامیاتیتوانائی کے ذرائع کا ہے اور ملک تقریباً 300 گیگاواٹ غیر فوسل توانائی کی صلاحیت حاصل کر چکا ہے۔ ہندوستان شمسی اور قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں دنیا کے تین سرکردہ ممالک میں شامل ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ ہندوستان نے 2021 کی کانفرنس میں 2030 تک 500 گیگاواٹ غیر نامیاتیتوانائی کی صلاحیت حاصل کرنے کا عزم ظاہر کیا تھا۔ پیرس معاہدے کے تحت مجموعی نصب شدہ بجلی کی صلاحیت کا 50 فیصد غیر نامیاتی ذرائع سے حاصل کرنے کا ہدف بھی ہندوستان نے 2025 میں ہی پورا کر لیا، جو مقررہ وقت سے پانچ سال پہلے ہے۔
مودی نے کہا کہ کورونا وبا اور مغربی ایشیا کے بحران سمیت گزشتہ چند برسوں کے دوران دنیا کو کئی بڑے اقتصادی بحرانوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ مغربی ایشیا کا بحران اب بھی جاری ہے، لیکن 140 کروڑ ہندوستانیوں نے ان چیلنجوں کا مو¿ثر طریقے سے مقابلہ کیا ہے اور ملک کی ترقی کی رفتار بلند رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر ہندوستان نے گزشتہ ایک دہائی کے دوران صاف توانائی میں سرمایہ کاری نہ کی ہوتی اور اس کے لیے نئے نظام تیار نہ کیے ہوتے تو ان عالمی بحرانوں کے اثرات ہندوستانی معیشت پر کہیں زیادہ سنگین ہو سکتے تھے۔ ان بحرانوں نے واضح کر دیا ہے کہ توانائی کا تحفظ براہِ راست اقتصادی تحفظ سے جڑا ہوا ہے اور مستقبل میں توانائی کے تحفظ کی بنیاد صاف توانائی ہی ہوگی۔
مودی نے کسانوں سے اپیل کی کہ وہ صرف اناج پیدا کرنے والے ہی نہیں بلکہ توانائی پیدا کرنے والے بھی بنیں۔ انہوں نے کہا کہ پی ایم ک±سم اسکیم کے تحت 30 لاکھ سے زیادہ کسانوں کو شمسی توانائی سے چلنے والی آبپاشی کی سہولتیں فراہم کی گئی ہیں۔ اندازہ ہے کہ شمسی پمپ استعمال کرنے والا ہر کسان سالانہ تقریباً ایک لاکھ روپے کی بچت کر سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کسانوں کو اپنی خالی زمین اور کھیتوں کی مینڈھوں پر شمسی پینل لگانے کی ترغیب دی جانی چاہیے، تاکہ زیادہ سے زیادہ گاو¿ں میں یہ نظام نافذ کیا جا سکے۔
وزیر اعظم نے شمسی توانائی کے شعبے میں اختراع پر زور دیتے ہوئے اسٹارٹ اپس، انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (آئی آئی ٹی)، محققین اور صنعت کاروں سے ایسے ماڈل تیار کرنے کی اپیل کی، جن کے ذریعے گھریلو توانائی کی زیادہ سے زیادہ ضروریات پورے سال اور چوبیس گھنٹے شمسی توانائی سے پوری کی جا سکیں۔
انہوں نے کہا کہ صرف بجلی پیدا کرنا کافی نہیں ہے بلکہ اسے ضرورت والے علاقوں تک پہنچانا بھی ضروری ہے۔ ملک کے کچھ حصوں میں شمسی اور ہوا سے توانائی کی پیداوار زیادہ ہوتی ہے، جبکہ دوسرے علاقوں میں اس کی دستیابی کم ہے۔ اس فرق کو دور کرنے کے لیے خصوصی ٹرانسمیشن لائنوں اور سب اسٹیشنوں کے نیٹ ورک پر مشتمل گرین انرجی کوریڈور تیار کیے جا رہے ہیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستھان سماچار / عطاءاللہ