اللہ تعالیٰ کے احکامات سے غفلت انسان کے اخلاقی و روحانی زوال کا سبب بنتا ہے
جماعتِ اسلامی ہند لکشمی نگر یونٹ کے زیرِ اہتمام کڑکڑڈوما کورٹ مسجد میں درسِ قرآن کا انعقاد نئی دہلی،02نومبر (ہ س )۔ جماعتِ اسلامی ہند لکشمی نگر یونٹ کے زیرِ اہتمام کڑکڑڈوما کورٹ مسجد میں نمازِ ظہر کے بعد درسِ قرآن کا انعقاد عمل میں آیا۔ اس موقع
اللہ تعالیٰ کے احکامات سے غفلت انسان کے اخلاقی و روحانی زوال کا سبب بنتا ہے


جماعتِ اسلامی ہند لکشمی نگر یونٹ کے زیرِ اہتمام کڑکڑڈوما کورٹ مسجد میں درسِ قرآن کا انعقاد

نئی دہلی،02نومبر (ہ س )۔

جماعتِ اسلامی ہند لکشمی نگر یونٹ کے زیرِ اہتمام کڑکڑڈوما کورٹ مسجد میں نمازِ ظہر کے بعد درسِ قرآن کا انعقاد عمل میں آیا۔ اس موقع پر امیرِ مقامی جماعتِ اسلامی ہند لکشمی نگر یونٹ، مولانا فلاح الدین فلاحی نے سورہ بقرہ کی آیات نمبر 74 سے 83 تک کا ترجمہ اور تفسیر پیش کی۔

دل پتھر سے بھی زیادہ سخت ہوگئے تھے

مولانا فلاح الدین فلاحی نے سورہ بقرہ کی آیت نمبر 74 کی تشریح کرتے ہوئے بنی اسرائیل کے دلوں کی سختی کا ذکر کیا۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے کہ اس کے بعد تمہارے دل سخت ہوگئے، یہاں تک کہ وہ پتھروں کی طرح بلکہ ان سے بھی زیادہ سخت ہوگئے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ پتھروں کی بعض قسموں سے چشمے پھوٹ پڑتے ہیں، بعض پتھر پھٹتے ہیں تو ان سے پانی نکلنے لگتا ہے اور بعض اللہ کے خوف سے گر پڑتے ہیں، لیکن انسان کا دل جب حق سے منہ موڑ لیتا ہے تو اس پر نصیحت اور ہدایت کا اثر بھی ختم ہونے لگتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ بنی اسرائیل کو اللہ تعالیٰ کی نشانیاں دکھائی گئیں، ان پر احسانات کیے گئے اور ان کے سامنے حق واضح کیا گیا، لیکن اس کے باوجود ان کے ایک گروہ نے نافرمانی، عہد شکنی اور حق سے انحراف کا راستہ اختیار کیا۔ یہ واقعات محض تاریخ کا حصہ نہیں، بلکہ امتِ مسلمہ کے لیے بھی عبرت اور نصیحت کا سامان ہیں۔

آیات 74 تا 83 میں امتِ مسلمہ کے لیے اہم اسباق

مولانا فلاح الدین فلاحی نے ان آیات کی روشنی میں واضح کیا کہ اللہ تعالیٰ کے احکامات سے غفلت، حق کو جاننے کے باوجود اس سے انحراف، دینی تعلیمات کو اپنی خواہشات کے تابع بنانا اور اللہ سے کیے گئے عہد کو نظرانداز کرنا انسان کے اخلاقی و روحانی زوال کا سبب بنتا ہے۔

انہوں نے آیات 75 تا 79 کے حوالے سے حق بات میں تحریف، حقیقت کو چھپانے اور اپنی طرف سے باتیں گھڑ کر انہیں اللہ کی طرف منسوب کرنے جیسے رویوں سے خبردار کیا۔ آیات 80 تا 82 میں آخرت، اعمال کی جواب دہی اور جزا و سزا کی حقیقت کو نمایاں کیا گیا ہے، جبکہ آیات 83 میں اللہ کی عبادت، والدین کے ساتھ حسنِ سلوک، رشتہ داروں، یتیموں اور مسکینوں کے حقوق کی ادائیگی، لوگوں کے ساتھ اچھی بات کہنے، نماز قائم کرنے اور زکوٰ? ادا کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔ اسی آیت میں بنی اسرائیل کے اس عہد کا بھی ذکر ہے جس سے بعد میں ان میں سے بہت سے لوگوں نے روگردانی کی۔

دعوتی پہلو: قرآن سے تعلق اور عملی زندگی کی اصلاح

درس کے دعوتی پہلو کو واضح کرتے ہوئے یہ پیغام سامنے آیا کہ ان آیات کا مقصد صرف بنی اسرائیل کے واقعات سے واقف کرانا نہیں، بلکہ انسان کو اپنا محاسبہ کرنے کی دعوت دینا بھی ہے۔ ہمیں دیکھنا چاہیے کہ کہیں ہمارا دل بھی نصیحت سے بے اثر تو نہیں ہوگیا، ہم حق بات کو قبول کرنے میں تساہل تو نہیں برت رہے اور اللہ تعالیٰ کے احکامات کے ساتھ ہمارا عملی تعلق کیسا ہے۔

دعوتِ دین کا تقاضا ہے کہ ہم حکمت، محبت اور خیرخواہی کے ساتھ لوگوں تک قرآن کا پیغام پہنچائیں، اپنے کردار کو اسلامی تعلیمات کے مطابق بنائیں اور اپنے معاشرے میں حقوق العباد، سچائی، عدل اور حسنِ اخلاق کو فروغ دیں۔ دلوں کی اصلاح محض زبانی نصیحت سے نہیں، بلکہ قرآن کی تعلیمات کو سمجھنے، ان پر عمل کرنے اور اپنے قول و فعل میں یکسانیت پیدا کرنے سے ہوتی ہے۔

درس کے بعد واثق امام، رکنِ جماعت نے بھی اپنے تاثرات پیش کیے اور قرآن کی ان آیات سے حاصل ہونے والے اسباق کو عملی زندگی میں اپنانے کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔

درسِ قرآن کا بنیادی پیغام یہ تھا کہ امتِ مسلمہ قرآن سے اپنا تعلق مضبوط کرے، اللہ تعالیٰ کے احکامات کی پابندی کرے، حقوق اللہ اور حقوق العباد ادا کرے اور حکمت و خیرخواہی کے ساتھ دعوتِ دین کی ذمہ داری نبھائے۔ یہی ان آیات سے حاصل ہونے والا اہم سبق اور ہماری انفرادی و اجتماعی اصلاح کا راستہ ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستھان سماچار / Md Owais Owais


 rajesh pande