
نئی دہلی، 2 نومبر (ہ س)۔ دہلی یونیورسٹی نے طلبہ اور یونیورسٹی برادری کے درمیان سائبر سکیورٹی سے متعلق بیداری اور ڈیجیٹل ذرائع کے ذمہ دارانہ استعمال کو فروغ دینے کے لیے ’دہلی یونیورسٹی کمپیوٹر سینٹر‘ (ڈی یو سی سی) اور ’فیکلٹی آف ٹیکنالوجی‘ کے اشتراک سے ’سائبر سترکتا 1.0‘ کے عنوان سے سائبر سکیورٹی بیداری پروگرام کا انعقاد کیا۔
اس موقع پر سائبر سکیورٹی پروجیکٹ نمائش اور کوئز مقابلے کے فاتحین کو ان کی اختراعی صلاحیتوں، معلومات اور شرکت کے اعتراف میں انعامات دیے گئے۔ڈی یو سی سی کے ڈائریکٹر پروفیسر سنجیو سنگھ نے بتایا کہ یونیورسٹی کی ’سائبر سوچک‘ مہم کے تحت منعقدہ اس پروگرام کے ذریعے سائبر جرائم سے متعلق بیداری پیدا کرنے کے لیے تقریباً 1.65 کروڑ ای -میل بھیجے گئے۔
اس مہم کا مقصد آن لائن دھوکہ دہی، فشنگ، شناخت کی چوری اور سائبر دنیا میں سامنے آنے والے نئے خطرات کے بارے میں لوگوں کو آگاہ کرنا تھا۔ پروگرام کے تحت ماہرین کے خصوصی سیشن، باہمی تبادلہ خیال، سائبر سکیورٹی پروجیکٹ نمائش اور کوئز مقابلے کا بھی اہتمام کیا گیا۔
پروگرام کی اختتامی تقریب میں دہلی یونیورسٹی کے چیف ویجیلنس افسر پروفیسر گجیندر سنگھ، فیکلٹی آف ٹیکنالوجی کے ڈین اور ڈی یو سی سی کے ڈائریکٹر پروفیسر سنجیو سنگھ، جوائنٹ رجسٹرار ڈاکٹر پردیپ کمار، جوائنٹ رجسٹرار ڈاکٹر روہن رائے، وزارت داخلہ کے ’انڈین سائبر کرائم کوآرڈینیشن سینٹر‘ کے ڈپٹی کمانڈنٹ للت وششٹھ، دہلی پولیس کے اے سی پی منوج کمار اور سی ای آر ٹی -ان کے ڈپٹی ڈائریکٹر کپل وانکھیڑے سمیت کئی اہم شخصیات نے شرکت کی۔
تقریب میں موجود مہمانوں نے سائبر بیداری کو مضبوط بنانے کے لیے یونیورسٹی کی کوششوں کی ستائش کی اور ڈیجیٹل تحفظ کے ساتھ ’سائبر صفائی‘ کی اہمیت پر زور دیا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستھان سماچار / محمد شہزاد