
صوفیہ/ماسکو، 02 نومبر (ہ س)۔
بلغاریہ کی قائم مقام صدر اور بلغاریہ سوشلسٹ پارٹی (بی ایس پی) کی سینئر رہنما ایلیانا ایوٹووا نے صدارتی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں کامیابی حاصل کرلی ہے۔ مرکزی الیکشن کمیشن (سی ای سی) نے پیر کے روز انتخابی کارروائی سے متعلق 100 فیصد پروٹوکول کی تکمیل کے بعد سرکاری نتائج کا اعلان کیا۔ ایوٹووا کو مجموعی طور پر 57.57 فیصد ووٹ ملے، جبکہ ان کے حریف اور قائم مقام وزیر اعظم آندرے گیوروف کو 39.48 فیصد ووٹ حاصل ہوئے۔
روسی خبر رساں ایجنسی ریا نووستی اور ترکی کی سرکاری خبر رساں ایجنسی انادولو کے مطابق انتخابات سے قبل سامنے آنے والے ایگزٹ پول میں بھی ایوٹووا کی واضح کامیابی کی پیش گوئی کی گئی تھی۔ پانچ اہم پولنگ ایجنسیوں کے اندازوں کے مطابق انہیں 56.6 سے 58.2 فیصد کے درمیان ووٹ ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا تھا، جبکہ گیوروف کو 38.6 سے 40.6 فیصد ووٹ ملنے کی پیش گوئی کی گئی تھی۔
انتخابی نتائج کے ابتدائی رجحانات سامنے آنے کے بعد گیوروف نے اپنی شکست تسلیم کرلی تھی۔ صوفیہ میں ایک پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا، ”ہم نتائج کو قبول کرتے ہیں، خواہ وہ کتنے ہی حیران کن کیوں نہ ہوں۔“ انہوں نے کہا کہ انتخابی مہم اگرچہ ختم ہورہی ہے، لیکن ملک کے تئیں ذمہ داری ختم نہیں ہوئی ہے۔
ایوٹووا نے اپنی انتخابی مہم کے دوران یوکرین جنگ کے حوالے سے سفارتی حل پر زور دیا تھا۔ انہوں نے یوکرین کو مزید ہتھیار فراہم کرنے کی مخالفت کرتے ہوئے امن مذاکرات کے ذریعے جنگ ختم کرنے کی وکالت کی تھی۔ انتخابات کے پہلے مرحلے میں ایوٹووا کو 34.76 فیصد ووٹ ملے تھے، جبکہ گیوروف کو 31.95 فیصد ووٹ حاصل ہوئے تھے۔ دوسرے مرحلے میں ایوٹووا نے اپنی برتری کو فیصلہ کن کامیابی میں تبدیل کردیا۔ اس کے برعکس گیوروف نے یورپی یونین اور نیٹو کے ساتھ مضبوط تعاون اور یوکرین کی حمایت کی پالیسی کی تائید کی تھی۔ انہوں نے ایوٹووا کے موقف پر سلامتی اور خارجہ پالیسی سے متعلق خدشات بھی ظاہر کیے تھے۔
ایوٹووا سابق صدر رومین رادیف کے دور میں نائب صدر بھی رہ چکی ہیں۔ جنوری میں رادیف کے استعفے کے بعد ایوٹووا نے قائم مقام صدر کی ذمہ داری سنبھالی تھی۔ اپریل میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں رادیف کی قیادت والی پارٹی ’پروگریسیو بلغاریہ‘ نے 240 رکنی قومی اسمبلی میں 131 نشستیں جیت کر واضح اکثریت حاصل کی تھی۔ پارٹی نے ایوٹووا کی صدارتی امیدواری کی حمایت کی تھی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستھان سماچار / عطاءاللہ