
ڈھاکہ، 02 نومبر (ہ س)۔ بنگلہ دیش کی نیشنل سٹیزن پارٹی (این سی پی) کے سربراہ ناہید اسلام نے دریائے گنگا کے پانی کی تقسیم کو لے کر ہندوستان کو خبردار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر بنگلہ دیش کو گنگا کے پانی میں اس کا مناسب حصہ نہیں ملتا ہے تو ہندوستان کو بنگلہ دیش کے راستے سامان کی آمدورفت اور ٹرانزٹ کی سہولت نہیں دی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ضرورت پڑنے پر ان کی پارٹی ایک بار پھر فرکا تک لانگ مارچ نکالنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے حکمراں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کو بھی خبردار کیا کہ اگر اس نے امتیازی رویہ جاری رکھا تو اسے بھی عوامی لیگ جیسی سیاسی صورت حال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
بنگلہ دیش کے انگریزی روزنامہ ’دی ڈیلی اسٹار‘ کے مطابق، ناہید اسلام نے اتوار کو ڈھاکہ کے کھامارباری واقع کرشی بد انسٹی ٹیوشن بنگلہ دیش میں ’جاتیہ یوبو شکتی‘ کی جانب سے منعقدہ قومی یوتھ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے یہ باتیں کہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے ساتھ بنگلہ دیش کے تعلقات کی بنیاد پانی کی منصفانہ تقسیم اور سرحدی تحفظ ہونا چاہیے۔
ناہید نے کہا، ’’اگر بنگلہ دیش کو پانی نہیں ملے گا تو ہندوستانی سامان بھی بنگلہ دیش میں داخل نہیں ہو سکے گا۔ کوئی کوریڈور نہیں ہوگا اور نہ ہی کوئی ٹرانزٹ ہوگا۔‘‘ انہوں نے ہندوستان کو کسی بھی طرح کی غیر قانونی کوریڈور یا ٹرانزٹ سہولت دینے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ دو طرفہ تعلقات میں بنگلہ دیش کے قومی مفادات کو ترجیح دی جانی چاہیے۔
گنگا آبی تقسیم معاہدہ دسمبر میں ختم ہونے والا ہے۔ اس کے پیش نظر این سی پی سربراہ نے کہا کہ نئے معاہدے میں بنگلہ دیش کے حصے کے پانی کی ضمانت کے ساتھ دریا میں جہاز رانی کی سہولت بھی یقینی بنائی جانی چاہیے۔ اس دوران انہوں نے مولانا عبد الحمید خان بھاشانی کے تاریخی فرکا مارچ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی پارٹی بھی ضرورت پڑنے پر فرکا کی جانب ایک اور لانگ مارچ منعقد کرے گی۔
ملک کی داخلی سیاست پر تبصرہ کرتے ہوئے ناہید اسلام نے آئینی اصلاحاتی کونسل کی فوری تشکیل کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ فروری میں ہوئے ریفرنڈم کے فیصلے کے مطابق جولائی کے نیشنل چارٹر کو نافذ کیا جانا چاہیے۔ آئینی ترامیم پر غور کے لیے حکومت کی جانب سے تشکیل دی گئی پارلیمانی کمیٹی پر سوال اٹھاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انتخابات سے پہلے ہی تمام معاملات پر تبادلہ خیال ہو چکا ہے۔ اب نئے سرے سے غور و خوض کرنے کے بجائے فیصلوں کو نافذ کرنے کا وقت ہے۔ انہوں نے حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا، ’’ریفرنڈم کے فیصلے کو نافذ کریں، ورنہ استعفیٰ دے دیں۔‘‘
این سی پی سربراہ نے الزام لگایا کہ حکمراں بی این پی نے جولائی کی عوامی بغاوت کو وسیع سیاسی اور ادارہ جاتی اصلاحات کی سمت آگے بڑھانے کے بجائے صرف اقتدار کی تبدیلی تک محدود کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر موجودہ حکومت بھی امتیازی رویہ اختیار کرتی رہی تو اسے عوامی لیگ جیسی سیاسی صورت حال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ناہید نے 18 ماہ میں ایک کروڑ نوکریاں فراہم کرنے کے انتخابی وعدے پر بھی حکومت کی پیش رفت پر سوال اٹھائے۔ انہوں نے پبلک سروس کمیشن (پی ایس سی) میں تقرریوں کے دوران سیاسی مداخلت کا الزام لگاتے ہوئے میرٹ کی بنیاد پر بھرتی یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ جولائی کی تحریک صرف کوٹہ نظام کے خلاف نہیں تھی بلکہ میرٹ اور یکساں مواقع کو یقینی بنانے کے مطالبے کے ساتھ شروع ہوئی تھی۔ انہوں نے حکومت سے نوجوان کاروباری افراد کو قرض، تربیت اور مالی امداد فراہم کرنے کی بھی اپیل کی۔
ٹیکسٹائل صنعت کے مزدوروں کی تنخواہوں میں اضافے کے مطالبے کی حمایت کرتے ہوئے ناہید نے مظاہرین کے خلاف پولیس کارروائی کے بجائے بات چیت کے ذریعے مسئلے کا حل نکالنے پر زور دیا۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی اور اخراجاتِ زندگی کو دیکھتے ہوئے 12,500 ٹکا کی کم از کم ماہانہ تنخواہ کافی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا، ’’ہم نہیں چاہتے کہ بنگلہ دیش میں کسی اور مزدور کا خون بہے۔‘‘
اس کے علاوہ ناہید اسلام نے ملک میں امن و قانون کی صورت حال اور ایندھن کی قیمتوں کو لے کر وزیر داخلہ اور وزیر توانائی کے استعفے کا مطالبہ بھی دہرایا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ جولائی کی تحریک کے نامکمل مطالبات پورے کرانے کے لیے این سی پی نومبر اور دسمبر میں ملک بھر میں مختلف پروگرام منعقد کرے گی۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستھان سماچار / عبدالواحد