
علی گڑھ، 02 نومبر (ہ س)۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں طلبہ یونین انتخابات کے دوران طالبات کے حقِ رائے دہی سے محروم کیے جانے سے متعلق شائع ہونے والی خبر پر چیف الیکشن آفیسر پروفیسر جاوید طالب نے وضاحت پیش کرتے ہوئے اسے گمراہ کن قرار دیا ہے۔
پروفیسر جاوید طالب نے کہا کہ اے ایم یو کورٹ کے انتخابات میں ووٹ دینے کی اہل تمام طالبات کو حقِ رائے دہی حاصل ہے اور کسی بھی طالبہ کو اس حق سے محروم نہیں کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ نیو ایجوکیشن پالیسی کے تحت عبداللہ گرلز کالج کی چوتھے سال کی بعض طالبات کو بہتر تعلیمی سہولیات اور متعلقہ مضامین کی ماہر فیکلٹی سے استفادہ کرنے کے لیے یونیورسٹی کے مختلف شعبہ جات میں کلاسز کرنے کی سہولت فراہم کی گئی ہے، تاہم ان کا داخلہ عبداللہ گرلز کالج ہی میں برقرار ہے۔
انہوں نے کہا کہ چونکہ ان طالبات کا داخلہ ویمنز کالج میں ہے، اس لیے انہیں ووٹ دینے کا حق بھی وہیں حاصل ہوگا۔ ویمنز کالج کی اپنی الگ طلبہ یونین ہے اور کورٹ انتخابات میں بھی ووٹ دینے کی اہل تمام طالبات کو ان کے متعلقہ فیکلٹی کے مطابق ووٹ ڈالنے کی سہولت فراہم کی جائے گی۔
پروفیسر جاوید طالب نے مزید کہا کہ چیف الیکشن آفیسر، اے ایم یو طلبہ یونین اور ویمنز کالج کے ذمہ داران نے باہمی تال میل کے ساتھ اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ کسی بھی طالبہ کے حقِ رائے دہی کی خلاف ورزی نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ تقریباً چار ہزار طالبات اے ایم یو کورٹ انتخابات میں ووٹ دینے کی اہل ہیں اور تمام اہل طالبات اپنا حقِ رائے دہی استعمال کر سکیں گی۔
واضح رہے کہ یہ وضاحت دی ہندو میں شائع ہونے والی اس خبر کے تناظر میں سامنے آئی ہے جس میں اے ایم یو انتخابات کے دوران طالبات کو ووٹ کے حق سے محروم کیے جانے کا معاملہ اٹھایا گیا تھا۔ پروفیسر جاوید طالب نے اپنے بیان میں اس تاثر کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی انتظامیہ کسی بھی طالبہ کے حقِ رائے دہی کو متاثر نہیں ہونے دے گی۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستھان سماچار / سید کامران علی گڑھ