
علی گڑھ، 02 نومبر (ہ س)۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) اور نیوکلیئر پاور کارپوریشن آف انڈیا لمیٹڈ کے نرورا ایٹمی بجلی گھر کے درمیان ایک مفاہمت نامے پر دستخط کیے گئے، جس کے تحت نرورا ایٹمی بجلی گھر کے اطراف کے علاقوں میں وبائیاتی صحت اور غذا سے متعلق سروے کیے جائیں گے۔
دستخط کی تقریب میں اے ایم یو وائس چانسلر پروفیسر نعیمہ خاتون، رجسٹرار پروفیسر عاصم ظفر، نرورا ایٹمی بجلی گھر کے اسٹیشن ڈائریکٹر مسٹر امر ناتھ ٹھاکر، پرنسپل انویسٹی گیٹر پروفیسر ایم اطہر انصاری، شریک پرنسپل انویسٹی گیٹر ڈاکٹر علی جعفر عابدی اور نرورا ایٹمی بجلی گھر کے دیگر عہدیداران نے شرکت کی۔پروفیسر نعیمہ خاتون نے اس اشتراک کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے تحقیقی اقدامات یونیورسٹی کو اپنی علمی و سائنسی مہارت کو کمیونٹی کی صحت سے متعلق اہم مسائل کے حل کے لیے بروئے کار لانے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے جے این میڈیکل کالج کے شعبہ کمیونٹی میڈیسن کی جانب سے اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کی کوششوں کو بھی سراہا۔پروفیسر عاصم ظفر نے تحقیق اور علمی سرگرمیوں کے فروغ میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور قومی اداروں کے درمیان اشتراک کی اہمیت کو اجاگر کیا۔مسٹر امر ناتھ ٹھاکر نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے ساتھ اس اشتراک کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ بجلی گھر کے اطراف رہنے والی آبادی کے بارے میں صحت اور غذائیت سے متعلق مستند معلومات کے حصول کے لئے منظم مطالعات انتہائی اہم ہیں۔پروفیسر ایم اطہر انصاری نے اسی نوعیت کے دیگر تحقیقی منصوبوں میں اپنے تجربات کی روشنی میں مجوزہ سروے کے بارے میں تفصیلات پیش کیں۔ ڈاکٹر علی جعفر عابدی نے سروے کے طریق ہائے کار اور متوقع نتائج کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ سابقہ منصوبوں سے حاصل ہونے والا تجربہ موجودہ مطالعات کو منظم انداز میں انجام دینے میں معاون ثابت ہوگا۔وبائیاتی صحت کے سروے میں بجلی گھر کے 10 کلومیٹر کے دائرے میں رہنے والی آبادی کا احاطہ کیا جائے گا۔ تقریباً 2.20 لاکھ کی آبادی میں سے 8,796 کنبوں کے 43,983 افراد کو سروے میں شامل کرنے کی تجویز ہے۔ اس دوران آبادیاتی اور سماجی و معاشی خصوصیات، طرزِ زندگی، طبی تاریخ، تولیدی صحت اور منتخب طبی اشاریوں سے متعلق معلومات جمع کی جائیں گی۔ اہل افراد میں منہ اور چھاتی کے سرطان کی تشخیص کے لیے ابتدائی جانچ بھی کی جائے گی۔غذائی سروے میں بجلی گھر کے 30 کلومیٹر کے دائرے میں واقع علاقے کا احاطہ کیا جائے گا، جس کی آبادی تقریباً 1.99 لاکھ ہے۔ اس سروے کے تحت گرمی، برسات اور سردی کے موسم میں تین مرحلوں پر مشتمل جائزے کے ذریعہ گھریلو سطح پر غذا اور پینے کے پانی کے استعمال کا اندازہ لگایا جائے گا۔ اس سے جغرافیائی علاقے، عمر اور جنس کی بنیاد پر مخصوص غذائی مقدار کے تخمینے مرتب کیے جائیں گے۔ اس سروے کے نتائج تابکاری کے اثرات کے جائزے، بالخصوص غذا کے ذریعہ جسم میں داخل ہونے والی تابکاری کی مقدار کے سلسلہ میں اہم معلومات فراہم کریں گے۔یہ پروجیکٹ 16 ماہ میں مکمل کیا جائے گا اور دونوں سروے کے لیے الگ الگ تکنیکی رپورٹیں تیار کی جائیں گی۔ مطالعات،مطلوبہ منظوری حاصل کرنے کے بعد کئے جائیں گے اور ان میں معیار کی یقین دہانی کے طے شدہ طریقہ کار پر عمل کیا جائے گا۔ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستھان سماچار / سید کامران علی گڑھ