
کولکاتا، 2 نومبر(ہ س)۔ مغربی بنگال اسمبلی کے احاطے میں پیر کی صبح اس وقت ہلچل مچ گئی، جب کینٹین کے شعبے کے بیت الخلا سے ایک ملازم کی لاش برآمد ہوئی۔ متوفی کی شناخت امیش چندر داس کے طور پر ہوئی ہے، جو گزشتہ تقریباً 15 برس سے اسمبلی کی کینٹین میں ایک ٹھیکیدار کمپنی کے تحت عارضی ملازم کی حیثیت سے کام کر رہے تھے۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی ہیسٹنگز اور ہیئر اسٹریٹ تھانوں کی پولیس موقع پر پہنچ گئی۔ پولیس نے لاش کو اپنی تحویل میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا ہے۔ اس معاملے میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور اسمبلی کے اسپیکر رتھیندر ناتھ باسو کو بھی پورے واقعے سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق پیر، 2 نومبر کی صبح تقریباً 9 بج کر 10 منٹ پر امیش چندر داس کینٹین کے بیت الخلا میں بے ہوشی کی حالت میں پڑے ہوئے پائے گئے۔ انہیں فوری طور پر اسپتال لے جایا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے انہیں مردہ قرار دے دیا۔
بتایا گیا ہے کہ امیش بنیادی طور پر کولکاتا کے تلجلا علاقے کے رہنے والے تھے، لیکن کام کے سلسلے میں اسمبلی کی کینٹین میں ہی قیام کرتے تھے۔ پیر کی صبح وہ معمول کے مطابق نیند سے بیدار ہونے کے بعد بیت الخلا گئے تھے۔ جب کافی دیر تک وہ باہر نہیں آئے تو ان کے ساتھی ملازمین نے انہیں آواز دی۔ کوئی جواب نہ ملنے پر دروازہ توڑا گیا، جہاں امیش فرش پر بے ہوش پڑے ہوئے ملے۔
ان کی موت کیسے ہوئی، اس حوالے سے فی الحال معمہ برقرار ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات میں متوفی کے جسم پر کسی بھی قسم کی چوٹ کے نشانات نہیں ملے ہیں اور نہ ہی اب تک کسی سازش یا غیر معمولی واقعے کے شواہد سامنے آئے ہیں۔
اس معاملے میں ابھی تک کسی کی جانب سے کوئی باضابطہ شکایت بھی درج نہیں کرائی گئی ہے۔ موت کی اصل وجہ معلوم کرنے کے لیے تفتیشی افسران پوسٹ مارٹم رپورٹ کا انتظار کر رہے ہیں۔
واقعے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے کولکاتا پولیس کی ڈٹیکٹیو ڈپارٹمنٹ کی قتل کی تحقیقات کرنے والی شاخ کی ایک ٹیم بھی موقع پر پہنچ گئی ہے۔ فی الحال پولیس نے جائے حادثہ اور اس کے آس پاس کے علاقے کو محفوظ کر لیا ہے اور پورے معاملے کی تفصیلی تحقیقات جاری ہیں۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستھان سماچار / عبدالسلام صدیقی