
بنگلورو، یکم نومبر(ہ س)۔ کرناٹک کے وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے کہا ہے کہ ریاستی حکومت کنڑ پرچم (سرخ اور پیلے رنگ کے پرچم) کو سرکاری ریاستی پرچم کا درجہ دینے پر غور کر رہی ہے۔ اس سلسلے میں بیلگاوی میں منعقد ہونے والے اسمبلی کے سرمائی اجلاس میں بحث کی جائے گی اور اس کے بعد مزید کارروائی کی جائے گی۔
وزیر اعلیٰ شیوکمار اتوار کو شہر کے کنٹھی روا اسٹیڈیم میں منعقدہ 71ویں کنڑ راجیہ اتسو تقریب میں پرچم کشائی کے بعد خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ قومی پرچم کے احترام اور اس سے متعلق قوانین کو متاثر کیے بغیر کنڑ پرچم کے استعمال، اس کے درجے اور تحفظ سے متعلق قانونی پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔انہوں نے بتایا کہ اس سے قبل ریاستی کابینہ نے کنڑ پرچم کو سرکاری منظوری دینے کا فیصلہ کرتے ہوئے مرکزی حکومت کو تجویز بھیجی تھی، تاہم اب تک اسے منظوری نہیں ملی ہے۔ حال ہی میں اس معاملے پر قانونی ماہرین سے بھی بات چیت کی گئی ہے۔ اب ایک بار پھر غور و خوض کے بعد کابینہ میں نیا فیصلہ لیا جائے گا۔ حکومت کنڑ پرچم کو قانونی تحفظ اور مناسب احترام دلانے کے لیے پابند عہد ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ قومی پرچم کے ساتھ کنڑ پرچم لہرانے کے معاملے پر ودھان سودھا میں بھی عوام اور ارکان اسمبلی کو بحث کا موقع دیا جائے گا۔ اسمبلی کے سرمائی اجلاس میں اس موضوع کو نئی شکل دینے کی کوشش کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ سرخ اور پیلے رنگ کا پرچم کنڑ عوام کے جذبات اور ان کی شناخت کی علامت ہے۔ یہ ریاست کی علمی روایات، ثقافت، تمام مذاہب کے احترام، مساوات اور امن کا پیغام دیتا ہے۔ ہندوستان کے وفاقی نظام میں کرناٹک کی منفرد شناخت کو مزید مضبوط بنانا حکومت کا مقصد ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت سرکاری اسکولوں کی ترقی کو خصوصی ترجیح دے رہی ہے۔ دیہی علاقوں کے سرکاری اسکولوں میں پہلی سے دسویں جماعت اور پری یونیورسٹی کی تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کو پیشہ ورانہ تعلیم کے کورسز میں داخلے کے لیے 7 فیصد ریزرویشن دیا گیا ہے۔ اس کا مقصد دیہی سرکاری اسکولوں کے طلبہ کو انجینئرنگ اور میڈیکل کی تعلیم حاصل کرنے کے زیادہ مواقع فراہم کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کی صلاحیتوں کو فروغ دینے اور ان میں قیادت کی خصوصیات پیدا کرنے کے لیے پنچایت اور وارڈ کی سطح پر 10 ہزار بھارت جوڑو یوتھ سنگھ قائم کیے جائیں گے۔ ان تنظیموں میں 16 سے 35 سال کی عمر کے نوجوانوں کو رکن بنایا جائے گا۔ کھیل، فنون اور ثقافتی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے ہر تنظیم کو سالانہ 10 لاکھ روپے کی گرانٹ دی جائے گی۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت کا ایک اہم مقصد کرناٹک کو منشیات سے پاک ریاست بنانا بھی ہے۔ سال 2047 تک ریاست کو ایک نئی شکل دینے کے لیے علاقائی ترقی کا منصوبہ تیار کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ آئندہ 20 برسوں میں 5 لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے بھی پروگرام بنایا گیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ ریاست میں 72 ہزار سرکاری عہدوں پر بھرتی کے احکامات جاری کیے گئے ہیں، جبکہ روزگار کے 66 ہزار مواقع پیدا کیے گئے ہیں۔ نوجوانوں کے لیے ’یوا ندھی یوجنا‘ کے ساتھ ساتھ نجی شعبے میں روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے مقصد سے ’روزگار سیتو‘ نظام بھی تیار کیا گیا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستھان سماچار / Mohammad Khan