جی ایس ٹی حکام کا گرفتاری کا اختیار ختم، مقدمہ درج کرنے کی حد بڑھ کر 5 کروڑ روپے ہوئی
نئی دہلی، 8 اکتوبر (ہ س)۔ مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتارمن کی صدارت میں نئی دہلی کے بھارت منڈپم میں جمعرات کو منعقدہ 57ویں اشیا و خدمات ٹیکس (جی ایس ٹی) کونسل کی میٹنگ میں تاجروں اور بہت چھوٹی، چھوٹی و درمیانے درجے کی صنعتوں (ایم ایس ایم ای) کو راحت
جی ایس ٹی حکام کا گرفتاری کا اختیار ختم، مقدمہ درج کرنے کی حد بڑھ کر 5 کروڑ روپے ہوئی


نئی دہلی، 8 اکتوبر (ہ س)۔ مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتارمن کی صدارت میں نئی دہلی کے بھارت منڈپم میں جمعرات کو منعقدہ 57ویں اشیا و خدمات ٹیکس (جی ایس ٹی) کونسل کی میٹنگ میں تاجروں اور بہت چھوٹی، چھوٹی و درمیانے درجے کی صنعتوں (ایم ایس ایم ای) کو راحت دینے سمیت کئی بڑے فیصلوں کی منظوری دی گئی۔

مرکزی وزیر خزانہ نے میٹنگ میں کئے گئے فیصلوں کی معلومات دیتے ہوئے بتایا کہ کونسل نے جی ایس ٹی حکام کے گرفتاری کے اختیار کو ختم کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی استغاثہ شروع کرنے کی حد کو ایک کروڑ روپے سے بڑھا کر اب پانچ کروڑ روپے کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔ سیتارمن نے کہا کہ جی ایس ٹی کونسل نے ریفنڈ دعووں کو قبول کرنے کی مدت 15 دن سے گھٹا کر اب 10 دن کر دی ہے۔ کونسل نے ای کامرس پلیٹ فارم پر چھوٹے فروخت کنندگان کے لیے ضوابط کو آسان بنانے کی بھی منظوری دی ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ ٹیکس کی شرحوں کا ڈھانچہ طے ہو چکا ہے، اس لیے جی ایس ٹی کونسل کی توجہ اب اس بات پر ہے کہ ٹیکس نظام روزمرہ کی سطح پر کس طرح کام کرتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ جی ایس ٹی کی شرحوں میں تبدیلی اب سال میں صرف ایک بار کی جائے گی۔ ملازمین کے ’انشورنس کور‘ پر ادا کیے گئے جی ایس ٹی پر آجروں کو ان پٹ ٹیکس کریڈٹ ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت مرکزی جی ایس ٹی نظام کے تحت چہرہ شناسائی سے پاک ٹیکس انتظامیہ شروع کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ جہاں کسی مخصوص خلاف ورزی کے لیے کوئی مخصوص جرمانہ مقرر نہیں ہے، وہاں لاگو ہونے والے عمومی جرمانے کو 25 ہزار روپے سے گھٹا کر 10 ہزار روپے کر دیا گیا ہے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ جی ایس ٹی کونسل نے اپنی 57ویں میٹنگ میں ان پٹ ٹیکس کریڈٹ کے دعووں کے سلسلے میں افسران کی ایک کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ کمیٹی اس بات کا جائزہ لے گی کہ مناسب بل رکھنے والے، سامان حاصل کر چکے اور سپلائر کو مکمل ادائیگی کر چکے حقیقی خریدار کو کس طرح تحفظ فراہم کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ افسران کی کمیٹی تین ماہ کے اندر مطالعہ مکمل کرے گی اور اگلی کونسل میٹنگ میں یہ معاملہ ایجنڈے کے طور پر پیش کیا جائے گا۔

جی ایس ٹی کونسل کی 57ویں میٹنگ میں دہلی، گوا، ہریانہ، جموں و کشمیر، کرناٹک، کیرالہ، مہاراشٹر اور میگھالیہ کے وزرائے اعلیٰ، منی پور اور تلنگانہ کے نائب وزرائے اعلیٰ، ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے وزرائے خزانہ اور سینئر ارکان کے علاوہ محکمہ محصولات کے سکریٹری، مرکزی بالواسطہ ٹیکس اور کسٹمز بورڈ (سی بی آئی سی) کے چیئرمین اور ارکان اور وزارت خزانہ کے سینئر افسران نے شرکت کی۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالواحد


 rajesh pande