
واشنگٹن/دبئی، 6 اکتوبر(ہ س)۔
فلائی دبئی کی پرواز میں پیش آنے والے واقعے کی تحقیقات کے دوران امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ اب تک ایسا کوئی حتمی ثبوت سامنے نہیں آیا جس سے اس واقعے میں ایران کے ملوث ہونے کی تصدیق ہو۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ واقعے کے بعد ملک میں نافذ حفاظتی اقدامات کا بھی جائزہ لے رہا ہے۔
خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے حوالے سے العربیہ نے خبر دی ہے کہ جے ڈی وینس نے الاسکا روانگی سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فلائی دبئی کے طیارے سے متعلق واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کو پائلٹ حمام الحمامی کے ماضی کو دیکھتے ہوئے اسے مسافر طیارہ اڑانے کی اجازت نہیں ملنی چاہیے تھی۔
تحقیقات سے واقف دو اسرائیلی حکام کے مطابق، کو پائلٹ نے تفتیش کاروں کو بتایا کہ اس نے فلائی دبئی میں ملازمت حاصل کرنے سے پہلے ہی حملے کی منصوبہ بندی کرلی تھی۔ ایک اور باخبر ذریعے نے دعویٰ کیا کہ اس کا مقصد تل ابیب کے قریب واقع بن گوریون ایئرپورٹ کی جانب جانے والے طیارے کو تباہ کرنا تھا۔
متحدہ عرب امارات کے اٹارنی جنرل نے دو روز قبل بتایا تھا کہ فلائی دبئی کی پروازایف زیڈ 1073 کے کو پائلٹ نے ہنگامی کلہاڑی سے کپتان پر حملہ کیا تھا ۔
واقعہ گزشتہ بدھ کو اس وقت پیش آیا جب دبئی سے تل ابیب جانے والی پرواز اسرائیلی فضائی حدود کے قریب پہنچ رہی تھی۔ اطلاعات کے مطابق کو پائلٹ حمام الحمامی نے کپتان پر چاقو سے حملہ کیا اور طیارے کو گرانے کی کوشش کی۔
کپتان سمت مچھر نے کاک پٹ کا دروازہ کھولنے کی کوشش کرتے ہوئے حملہ آور کا مقابلہ کیا۔ بعد ازاں مسافروں اور فلائی دبئی کے عملے نے مل کر کو پائلٹ کو قابو کرلیا۔ دیگر پائلٹوں نے طیارے کا کنٹرول سنبھالا اور اسے سعودی عرب کے شہر تبوک میں ہنگامی طور پر اتارا۔
29 سالہ حمام الحمامی عمانی والد اور شامی والدہ کے ہاں پیدا ہوا تھا۔ اس نے مختصر مدت تک عمان ایئر میں کام کیا اور پائلٹوں کے تربیتی پروگرام میں حصہ لیا۔ ذرائع کے مطابق نگرانی کے دوران اس کے انتہا پسند ویب سائٹس دیکھنے کا معاملہ سامنے آیا، جس کے بعد اسے پروازوں سے ہٹا کر ڈیسک جاب دے دی گئی۔
الحمامی نے 2024 میں عمان ایئر سے استعفیٰ دے دیا۔ بعد میں اس نے ویسٹرن ایئرلائنز میں پائلٹ کی ملازمت کے لیے درخواست دی، تاہم اسے ملازمت نہیں ملی۔ اس کے بعد اس نے فلائی دبئی میں شمولیت اختیار کی۔ تحقیقات میں اس کے ماضی، مبینہ منصوبہ بندی اور واقعے کے ممکنہ محرکات سمیت مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan