پاکستان کی جیل میں قید عمران خان کی صحت پر روی شاستری نے تشویش ظاہر کی، سفارتی مداخلت کا مطالبہ
نئی دہلی، 06 اکتوبر (ہ س)۔ ہندوستان کے سابق ہیڈ کوچ روی شاستری نے جیل میں بند پاکستان کے سابق کپتان عمران خان کی صحت پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور ان کی حمایت کی ہے۔ شاستری نے عمران کے ساتھ بہتر سلوک کا مطالبہ کرتے ہوئے سفارتی مداخلت کی اپیل کی ہے۔
روی شاستری اور عمران خان۔ فوٹو: انٹرنیٹ میڈیا


نئی دہلی، 06 اکتوبر (ہ س)۔

ہندوستان کے سابق ہیڈ کوچ روی شاستری نے جیل میں بند پاکستان کے سابق کپتان عمران خان کی صحت پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور ان کی حمایت کی ہے۔ شاستری نے عمران کے ساتھ بہتر سلوک کا مطالبہ کرتے ہوئے سفارتی مداخلت کی اپیل کی ہے۔ پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان سال 2023 سے پاکستان کی جیل میں قید ہیں۔

شاستری نے ایک نیوز چینل سے بات چیت میں عمران کے ساتھ پاکستان کے رویے کو غیر انسانی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ خبروں کے مطابق جیل میں عمران کی طبیعت خراب ہو گئی ہے اور ان کی دائیں آنکھ کی بینائی محض 15 فیصد رہ گئی ہے۔

شاستری نے کہا، ’’میں کوئی سیاست داں نہیں ہوں۔ لیکن آج ان کے ساتھ جو سلوک کیا جا رہا ہے، وہ حیران کن ہے۔ آپ جانتے ہیں، کسی انسان کے ساتھ ایسا سلوک نہیں کیا جاتا۔ انسانی بنیادوں پر مجھے نہیں لگتا کہ وہ اس برتاو کے مستحق ہیں۔ اس لیے میں صرف اپنی بات نہیں کر رہا ہوں۔ مجھے لگتا ہے کہ دنیا بھر میں ایسے کئی کرکٹرز ہوں گے جو ایسے ہی جذبات رکھتے ہوں گے۔‘‘

شاستری نے عمران کی جلد صحت یابی اور تندرستی کی تمنا کی، ساتھ ہی کرکٹ کے کھیل میں ان کے کردار اور خدمات کی بھی تعریف کی۔ انہوں نے کہا، ’’میں بس یہی امید کرتا ہوں کہ وہ ٹھیک رہیں اور ان کی صحت اچھی رہے۔ انہوں نے کھیل کو جو کچھ دیا، وہ انتہائی خاص ہے۔ ان سے وابستہ میری یادیں ایک بہترین لیڈر کی ہیں۔ آپ جانتے ہیں، عمران لوگوں کو ساتھ لے کر چلنے والا لیڈر رہا ہے۔ نوجوانوں کا حوصلہ بڑھانے اور انہیں آگے لے جانے کی صلاحیت ہے ان میں۔ 40 سال کی عمر میں وہ ٹیم کے کپتان بنے اور انہوں نے نوجوان ٹیم کے ساتھ ورلڈ کپ جیتا۔‘‘

شاستری نے کہا کہ عمران پاکستان کا عالمی چہرہ رہے ہیں اور وہ بہتر سلوک کے حقدار ہیں۔ انہوں نے حکومتِ پاکستان سے ان کی صحت کو اولین ترجیح دینے کی اپیل کی۔ شاستری نے کہا، ’’امید ہے کہ وہ باہر آئیں گے اور ان کے ساتھ بہتر سلوک ہوگا۔ وہ طویل عرصے سے جیل میں ہیں۔ مجھے سیاست سمجھ نہیں آتی۔ انہیں جیل کی کوٹھری میں بند رکھا گیا ہے۔ وہ اس کے حقدار نہیں ہیں، کیونکہ وہ دنیا بھر میں سب سے زیادہ پہچانے جانے والے پاکستانی چہرے ہیں۔ آپ اسے پسند کریں یا نہ کریں، میری رائے یہی ہے۔‘‘

روی شاستری نے کرکٹ میں عمران کی میراث پر بھی گفتگو کی اور کہا کہ اپنی شاندار قیادت کے باعث انہیں ہندوستان میں بھی اتنا ہی پسند کیا جاتا تھا جتنا کہ پاکستان میں۔ انہوں نے کہا، ’’میرے ساتھ جو شخص آپ کو دکھائی دے رہا ہے، وہ ایک کمال کا کرکٹر تھا۔ درحقیقت، انہیں محض ’عظیم کرکٹر‘ کہنا کم ہوگا۔ ہمارا مقابلہ اور باہمی رقابت باہمی احترام پر مبنی تھی۔ اس دور میں ہندوستان اور پاکستان کے درمیان بہت زیادہ کرکٹ کھیلی جاتی تھی، اس لیے وہ رقابت تو تھی ہی۔ لیکن ایک کرکٹر کی حیثیت سے یہ شخص کچھ منفرد ہی تھا۔ وہ ایک لیڈر تھا، عوام کا لیڈر۔ ایک شاندار آل راونڈر کرکٹر۔‘‘

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande