بدعنوانی کی سی بی آئی جانچ کے خلاف پنجاب حکومت کی عرضی، سپریم کورٹ سماعت کے لئے تیار
نئی دہلی، 6 اکتوبر (ہ س)۔ سپریم کورٹ پنجاب حکومت کی اس عرضی پر سماعت کرنے کے لیے تیار ہو گیا ہے جس میں ریاستی حکومت سے وابستہ افراد کے خلاف بدعنوانی کے الزامات کی سی بی آئی سے جانچ کرانے اور دو ماہ کے اندر رپورٹ پیش کرنے کے پنجاب اور ہریانہ ہائی کو
SC-Corruption-Investigation-PB-Govt


نئی دہلی، 6 اکتوبر (ہ س)۔ سپریم کورٹ پنجاب حکومت کی اس عرضی پر سماعت کرنے کے لیے تیار ہو گیا ہے جس میں ریاستی حکومت سے وابستہ افراد کے خلاف بدعنوانی کے الزامات کی سی بی آئی سے جانچ کرانے اور دو ماہ کے اندر رپورٹ پیش کرنے کے پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ کے حکم کو چیلنج کیا گیا ہے۔

منگل کو سینئر وکیل وکاس سنگھ نے چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ کے سامنے اس معاملے کا ذکر کرتے ہوئے جلد سماعت کی درخواست کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ تبادلے اور تعیناتی سے متعلق الزامات سے جڑا ہے اور پنجاب میں جلد انتخابات ہونے والے ہیں، اس لیے اس پر فوری سماعت کی ضرورت ہے۔ سپریم کورٹ اس درخواست پر بدھ یا جمعرات کو سماعت کر سکتا ہے۔

وکاس سنگھ نے کہا کہ پنجاب میں آئندہ اسمبلی انتخابات سے قبل جو ماحول بن رہا ہے، اس میں ایسے معاملات کو ہوا دی جا رہی ہے، جو ملک کے وفاقی ڈھانچے کے خلاف ہے۔ پورا معاملہ انتظامی افسران کے تبادلوں، تعیناتیوں اور سرکاری ٹھیکوں میں مبینہ نقد لین دین اور بے ضابطگیوں سے متعلق ہے۔

پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ نے 5 اکتوبر کو اس معاملے کی آزادانہ جانچ کی ذمہ داری مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) کو سونپی تھی۔ عدالت نے تفتیشی ایجنسی کو دو ماہ کے اندر اسٹیٹس رپورٹ داخل کرنے کی ہدایت بھی دی تھی۔

انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے بدعنوانی سے متعلق پنجاب پولیس کے ڈائریکٹر جنرل کو خطوط بھیجے تھے۔ ریاستی پولیس کی جانب سے مناسب کارروائی نہ کیے جانے پر وکیل نکھل صراف نے ہائی کورٹ میں مفاد عامہ کی عرضی دائر کی تھی۔ عرضی پر سماعت کے دوران ہائی کورٹ نے کہا تھا کہ ای ڈی کی جانب سے فراہم کردہ معلومات میں الزامات کو ثابت کرنے کے قابل شواہد موجود ہیں۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande