
نئی دہلی، 6 اکتوبر (ہ س): ہندوستان ایروناٹکس لمیٹڈ (ایچ اے ایل) کے کوراپٹ یونٹ نے منگل کو اپنا 2 ہزارواں ایرو انجن تیار کرکے اسکی ڈیلیوری کی۔ اس موقع پر وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے شکتی انجن بنانے والی دوسری پروڈکشن لائن شروع کرنے کا اعلان کیا۔ راج ناتھ سنگھ نے اسے ہندوستان کی فضائیہ کی صنعت کے لیے ایک اہم کامیابی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو جدید طیاروں اور ہیلی کاپٹروں کے انجن خود بنانے کی صلاحیت مزید مضبوط کرنی ہوگی۔ دفاعی شعبے میں خود کفالت کے لیے انجن بنانے کی ٹیکنالوجی میں مہارت حاصل کرنا ضروری ہے۔
انہوں نے ایچ اے ایل کوراپٹ کے انجینئروں، سائنس دانوں، ٹیکنیشنز اور دیگر ملازمین کو مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ 2 ہزار انجن تیار کرنا دفاعی افواج کی صلاحیت میں 2 ہزار اہم شراکت کے برابر ہے۔ ایچ اے ایل کوراپٹ کے تیار کردہ انجن مگ-21، مگ-27، مگ-29 اور سکھوئی-30 ایم کے آئی جیسے جنگی طیاروں میں استعمال ہوئے ہیں۔ یہاں اب تک 9 ہزار سے زیادہ انجنوں کی مرمت اور اوورہالنگ بھی کی جاچکی ہے۔
وزیر دفاع نے کہا کہ ہندوستان کو خاص طور پر اے ایم سی اے جیسے جدید جنگی طیارے کے لیے اپنے انجن خود بنانے کی صلاحیت حاصل کرنی ہوگی۔ اس مقصد کے لیے تقریباً 5 ہزار کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی تجویز ہے۔ اس کے علاوہ انجن بنانے میں استعمال ہونے والے خام مال کو بھی ملک میں تیار کرنے اور ہائی تھرسٹ انجن کی جانچ کے لیے ایک نئی سہولت قائم کرنے پر زور دیا گیا ہے۔
راج ناتھ سنگھ نے 218 کروڑ روپے کی لاگت سے شکتی انجن کی دوسری پروڈکشن لائن شروع کرنے کا بھی اعلان کیا۔ یہ نئی لائن ہر سال تقریباً 100 انجن تیار کرے گی اور 2028-29 تک مکمل طور پر کام کرنے لگے گی۔
یہ انجن دھرو ایڈوانسڈ لائٹ ہیلی کاپٹر اور پرچنڈ لائٹ کامبیٹ ہیلی کاپٹر جیسے ہندوستانی ہیلی کاپٹروں میں استعمال ہوں گے۔
راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ ملک کے دفاع کے لیے ایسے انجن ضروری ہیں جو ضرورت کے وقت آسانی سے دستیاب ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ایرو انجن بنانا ایک طویل اور مشکل کام ہے، جس کے لیے مسلسل سرمایہ کاری، جدید ٹیسٹنگ سہولت، ماہر افراد اور مضبوط صنعتی نظام کی ضرورت ہوتی ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد