خواجہ آصف کا طنز،’پی ٹی آئی رہنما بلٹ پروف سرکاری گاڑیوں میں چوہوں کی طرح چھپ گئے ‘
اسلام آباد، 5 اکتوبر (ہ س)۔ پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنماو¿ں پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کارکنان سڑکوں پر ہتھیار لے کر گھوم رہے ہیں، جبکہ پارٹی رہنما بم پروف اور بلٹ پروف سرکاری گاڑیوں م
Khawaja-Asif-Dig-PTI-


اسلام آباد، 5 اکتوبر (ہ س)۔ پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنماو¿ں پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کارکنان سڑکوں پر ہتھیار لے کر گھوم رہے ہیں، جبکہ پارٹی رہنما بم پروف اور بلٹ پروف سرکاری گاڑیوں میں ”چوہوں کی طرح چھپے ہوئے ہیں“۔ یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان اسلام آباد مارچ کے معاملے پر مذاکرات ناکام ہو چکے ہیں۔

’دی نیوز‘ اور ’ڈان‘ کی رپورٹ کے مطابق خواجہ آصف نے ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں کہا کہ پارٹی کے سینئر ارکان عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کر رہے ہیں، سرکاری وسائل کا استعمال کر رہے ہیں اور مسلح قافلوں میں گھوم رہے ہیں۔ انہوں نے اپوزیشن جماعت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ہیلی کاپٹروں، سرکاری وسائل اور مسلح جلوسوں کا استعمال عدالتی احکامات کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

انہوں نے سوال کیا کہ اگر عدالتی احکامات ہی کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے تو پی ٹی آئی اور حکومت کے درمیان کسی بھی معاہدے پر عمل کیے جانے کی کیا ضمانت ہوگی؟ آصف نے یہ بھی کہا کہ نیشنل ایکشن پلان پر تمام فریقوں کا اتفاق اور اس کا احترام موجود تھا، لیکن پی ٹی آئی اسے ماننے کے لیے تیار نہیں ہے۔

ادھر خیبر پختونخوا کے لکی مروت میں گاندھی چوک سے صوبے کے وزیر اعلیٰ محمد سہیل خان آفریدی نے مارچ شروع کر دیا ہے۔ پی ٹی آئی کے سکریٹری جنرل سلمان اکرم راجا نے اتوار کو دعویٰ کیا کہ رات بھر جاری رہنے والے مذاکرات کی ناکامی کی بنیادی وجہ وفاقی حکومت کی یہ ضد تھی کہ خیبر پختونخوا میں اس کی جانب سے شروع کی گئی یکطرفہ انسداد دہشت گردی کارروائی کو صوبائی حکومت اپنی کارروائی کے طور پر تسلیم کرے۔

راجا نے ’ایکس‘ پر کہا کہ پی ٹی آئی اور ٹی ٹی اے پی کے رہنما اپنے اس اصولی موقف پر قائم رہے کہ ایسی کارروائی وفاقی اور صوبائی حکومت کی باہمی رضامندی سے ہی ہو سکتی ہے۔ اسے اسمبلی میں مشاورت اور اتفاق رائے کے بعد قبول کیا جا سکتا ہے۔

اس دوران پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے مرکزی سیکریٹری جنرل محمد ہمایوں خان نے حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان اختلافات دور کرنے کے لیے مذاکرات کے ذریعے سیاسی مفاہمت پر زور دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹکراو¿ سے سیاسی بے یقینی مزید بڑھے گی۔

اتوار کو پشاور میں جاری ایک بیان میں پی پی پی رہنما نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام طویل عرصے تک احتجاجی سیاست، سڑکیں بند ہونے اور مسلسل سیاسی بے یقینی کا بوجھ نہیں اٹھا سکتے، کیونکہ ایسی صورتحال کا براہ راست اثر عام شہریوں، تاجروں اور کاروباری برادری پر پڑتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے دروازے کھلے رکھنا جمہوری سیاست کا بنیادی اصول اور قومی ذمہ داری ہے۔ سیاسی رہنماو¿ں کو ذاتی اور جماعتی اختلافات سے بالاتر ہوکر عوامی مفاد کے مسائل حل کرنے کو اپنی اولین ترجیح بنانا چاہیے۔

پی پی پی رہنما نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں امن و امان، روزگار، تعلیم اور بنیادی عوامی خدمات سے متعلق مسائل پر فوری سیاسی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان بہتر تال میل اور مؤثر ورکنگ ریلیشن شپ کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کے مطابق اس سے دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کوششوں کو تقویت مل سکتی ہے اور سیاسی و انتظامی استحکام میں مدد مل سکتی ہے۔

خان نے سیاسی قوتوں سے اپیل کی کہ وہ ٹکراؤ کے بجائے مذاکرات پر توجہ دیں اور ملک کے مسائل کے عملی اور پائیدار حل کی جانب کام کریں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی مضبوطی سیاسی استحکام، صوبائی ہم آہنگی اور عوام کو راحت فراہم کرنے کے لیے سنجیدہ سیاسی رویہ اختیار کرنے سے وابستہ ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande