
تل ابیب، 5 اکتوبر (ہ س)۔ اسرائیل کی ابتدائی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ فلائی دبئی کے طیارے کو ہائی جیک کرنے کی مبینہ کوشش ممکنہ طور پر ’لون وولف‘ حملہ تھا۔ اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کو طیارے کے مسافروں اور فلائٹ کیپٹن نے بتایا کہ بدھ کے روز دبئی سے تل ابیب جانے والی پرواز جب اسرائیل کے قریب پہنچ رہی تھی تو کو پائلٹ نے مبینہ طور پر فلائٹ کیپٹن پر چاقو سے حملہ کیا اور طیارے کو تباہ کرنے کی کوشش کی۔
سی بی ایس نیوز اور فاکس نیوز کی رپورٹ کے مطابق، کیپٹن نے کو پائلٹ سے مقابلہ کرتے ہوئے کاک پٹ کا دروازہ کھول دیا۔ اس کے بعد اسرائیلی مسافروں اور فلائی دبئی کے عملے نے کو پائلٹ کو قابو میں کر لیا۔ پرواز میں موجود ڈیوٹی سے فارغ دو پائلٹوں نے طیارے کا کنٹرول سنبھالا اور سعودی عرب کے شہر تبوک میں ہنگامی لینڈنگ کرائی۔
کو پائلٹ اس وقت متحدہ عرب امارات (یو اے ای) میں ہے، جہاں اسرائیلی حکام اس سے پوچھ گچھ کر رہے ہیں۔ اس سے قبل سعودی حکام بھی اس سے پوچھ گچھ کر چکے ہیں۔ اسرائیل نے تحقیقات میں شامل ہونے کے لیے اپنے نمائندے یو اے ای بھیجے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو کہا کہ ’’جو کچھ میں نے سنا ہے، اس کی بنیاد پر‘‘ ممکن ہے کہ کو پائلٹ کا ایران سے تعلق ہو۔ ٹرمپ نے کہا، ’’ہم اس معاملے پر کام کر رہے ہیں۔ وہ ہمارے ساتھ بہت کھل کر بات کر رہے ہیں۔ میں کہوں گا کہ جو کچھ میں نے سنا ہے، اس کی بنیاد پر جواب ہاں ہے۔‘‘
اس سے قبل نیتن یاہو نے بدھ کو کہا تھا کہ کو پائلٹ کے مقصد کا ابھی تک پتہ نہیں چل سکا ہے۔ تاہم جمعرات کو انہوں نے کہا کہ اسرائیل کو معلوم تھا کہ کو پائلٹ اسلامی انتہا پسند نظریات سے متاثر تھا۔نیتن یاہو کے مطابق حملہ آور ’’خودکش ذہنیت‘‘ کا حامل تھا اور جب عملے کے دیگر ارکان اور مسافروں نے اسے قابو کیا تو وہ چیخ رہا تھا، ’’مجھے مار ڈالو، مجھے مار ڈالو!‘‘
فلائٹ کے کو پائلٹ کی شناخت ابھی سرکاری طور پر ظاہر نہیں کی گئی ہے، تاہم تحقیقات سے وابستہ کئی ذرائع نے جمعہ کو بتایا کہ اس کا نام حمام الحَمامی ہے۔ذرائع کے مطابق الحمامی نے کچھ عرصے تک عمان ایئر کے لیے کام کیا، جہاں اس نے نئے پائلٹ کی تربیت شروع کی تھی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ عمانی حکومت کی نگرانی میں ہونے والی جانچ کے دوران معلوم ہوا کہ وہ انتہا پسند ویب سائٹس دیکھتا تھا۔ اس کے بعد عمان ایئر نے اسے دفتر سے منسلک کردیا، جس کے بعد الحمامی نے استعفیٰ دے دیا اور تقریباً 2024 میں ایئرلائن چھوڑ دی۔ذرائع نے بتایا کہ کچھ عرصہ قبل الحمامی نے دبئی میں اسرائیلی ایئرلائن ایل ال کے طیاروں کی ایک ویڈیو پوسٹ کی تھی، جس کے آخر میں القاعدہ کے سابق سربراہ ایمن الظواہری کی تصویر دکھائی گئی تھی۔ الظواہری 2022 میں امریکی ڈرون حملے میں مارا گیا تھا۔ذرائع کے مطابق فلائی دبئی نے عمانی حکومت کی جانب سے اس کی جانچ پڑتال کیے بغیر ہی الحمامی کو ملازمت دے دی تھی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ الحمامی عمان کا شہری ہے، تاہم اس کی پیدائش عمان میں نہیں ہوئی۔ اس نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ عمان سے باہر گزارا۔ اس کی والدہ شامی اور والد عمانی شہری ہیں۔ عمانی حکومت نے عوامی طور پر اس کی شہریت کی تصدیق نہیں کی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ممکن ہے اس کے پاس دوہری شہریت ہو۔
’لون وولف‘ حملہ ایسے پرتشدد یا دہشت گردانہ فعل کو کہا جاتا ہے جسے کوئی شخص کسی دہشت گرد تنظیم کی براہ راست حمایت، مالی مدد یا باقاعدہ کمانڈ ڈھانچے کے بغیر تنہا انجام دیتا ہے۔ ’لون وولف‘ کا لفظی مطلب ’’اکیلا بھیڑیا‘‘ ہے۔ عام طور پر اس اصطلاح کا استعمال ایسے حملہ آور کے لیے کیا جاتا ہے جو کسی تنظیم سے براہ راست رابطے میں نہ ہوتے ہوئے بھی انٹرنیٹ، سوشل میڈیا یا ڈارک ویب پر موجود انتہا پسند گروہوں کے نظریات اور پروپیگنڈے سے متاثر یا متحرک ہو سکتا ہے۔
ایسے حملہ آور عموماً حملے کی منصوبہ بندی خود کرتے ہیں، ہدف کا انتخاب کرتے ہیں، وسائل یا ہتھیار حاصل کرتے ہیں اور کارروائی کو اکیلے انجام دیتے ہیں۔ تاہم کسی مخصوص واقعے کو ’لون وولف‘ حملہ قرار دینے کے لیے اس بات کی تصدیق ضروری ہوتی ہے کہ حملہ آور کو کسی تنظیم کی براہ راست ہدایات یا عملی مدد حاصل نہیں تھی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan