
نئی دہلی، 4 اکتوبر (ہ س):۔
بھارت اور کینیڈا کے درمیان مجوزہ جامع اقتصادی شراکت داری معاہدے (سی ای پی اے) کے لیے مذاکرات کا پانچواں دور 5 اکتوبر سے اوٹاوا میں شروع ہوگا۔ دونوں ممالک کا ہدف ہے کہ اس سال کے اختتام تک مذاکرات مکمل کر لیے جائیں۔ پانچ روز تک جاری رہنے والی یہ بات چیت 9 اکتوبر کو اختتام پذیر ہو سکتی ہے۔ مذاکرات کا چوتھا دور 18 ستمبر کو نئی دہلی میں مکمل ہوا تھا۔
ذرائع کے مطابق دونوں ممالک اس سال کے آخر تک مذاکرات مکمل کرنے کے ہدف کے ساتھ بات چیت میں تیزی لا رہے ہیں۔ یہ مذاکرات اس لیے بھی اہم ہیں کہ کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے گزشتہ ماہ کہا تھا کہ وزیر اعظم نریندر مودی اس سال دسمبر کے آس پاس کینیڈا کا دورہ کر سکتے ہیں۔
بات چیت کو مزید رفتار دینے کے لیے کینیڈا کے وزیر تجارت منندر سدھو رواں ماہ کے آخر میں 300 رکنی کاروباری وفد کے ساتھ نئی دہلی آئیں گے۔ سدھو اور بھارت کے وزیر تجارت و صنعت پیوش گوئل نے گزشتہ ماہ ممبئی میں ملاقات کرکے مذاکرات میں ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا تھا۔
کیا ہے مجوزہ جامع اقتصادی شراکت داری معاہدہ؟
بھارت اور کینیڈا کے درمیان مجوزہ جامع اقتصادی شراکت داری معاہدہ (سی ای پی اے) ایک طرح کا آزاد تجارتی معاہدہ ہے۔ اس کے تحت دونوں ممالک کے درمیان تجارت کی جانے والی زیادہ تر اشیا پر کسٹم ڈیوٹی میں نمایاں کمی یا اسے مکمل طور پر ختم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ ہنرمند پیشہ ور افراد کی آمد و رفت کے ضوابط کو آسان بنانے اور سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے اقدامات بھی اس معاہدے کا حصہ ہوتے ہیں۔
مارچ 2022 میں دونوں ممالک نے عبوری تجارتی معاہدے کے لیے مذاکرات دوبارہ شروع کیے تھے۔ تاہم 2023 میں دونوں ممالک کے تعلقات میں کشیدگی بڑھنے کے بعد کینیڈا نے مذاکرات ایک بار پھر روک دیے تھے۔ نومبر 2025 میں دونوں ممالک نے مجوزہ آزاد تجارتی معاہدے کے لیے باضابطہ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ